30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث۳ : رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ((ثَلَاثَۃٌ لاَ یَقْبَلُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْھُمْ صَرْفاً وَلاَ عَدْلاً : عَاقٌّ وَمَنَّانٌ وَمُکَذِّبٌ بِقَدَر))، رواہ ابن أبي عاصم في ’’السنّۃ‘‘ بسند حسن
تین شخص ہیں کہ اللہ تعالٰی نہ ان کے فرض قبول کرے نہ نفل(۱) ماں باپ کو ایذا دینے والا(۲) اور صدقہ دے کر فقیر پر احسان رکھنے والا(۳)اور تقدیر کا جھٹلانے والا ۔
عن أبي أمامۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([1]) ۔ (اسے عاصم نے ’’السنہ‘‘میں بسندِ حسن ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ۔ )
حدیث۴ : رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے : ((مَلْعُوْنٌ مَنْ عَقَّ وَالِدَیْہِ، مَلْعُوْنٌ مَنْ عَقَّ وَالِدَیْہِ، مَلْعُوْنٌ مَنْ عَقَّ وَالِدَیْہِ))، رواہ الطبراني والحاکم عن أبي ھریرۃ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([2]) ۔
ملعون ہے جو اپنے والدین کو ستائے ، ملعون ہے جو اپنے والدین کو ستائے ، ملعون ہے جو اپنے والدین کو ستائے ۔ (اسے طبرانی اور حاکم نے ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا ۔ ت)
حدیث۵ : رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ((لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ سَبَّ وَالِدَیْہِ))، رواہ ابن حبّان عن ابن عبّاس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ([3]) ۔
اللہ کی لعنت اس پر جو اپنے ماں باپ کو گالی دے (ابن حبان نے ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے اسے روایت کیا ۔ ت)
حدیث۶ : کہ ایک جوان کو نزع کے وقت کلمہ تلقین کیا، نہ کہہ سکا، نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو خبر ہوئی تشریف لے گئے ، فرمایا : کہہ لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، کہا : مجھ سے نہیں کہا جاتا، فرمایا : کیوں؟کہا : وہ شخص اپنی ماں کو ستاتا تھا، رحمت ِدو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس کی ماں کوبلا کر فرمایا : یہ تیرا بیٹا ہے ؟ عرض کی : ہاں، فرمایا :
أَرَأَیْتِ لَوْ أُجِّجَتْ نَارٌ ضَخْمَۃٌ فَقِیْلَ لَکِ : إِنْ شَفَعْتِ لَہُ خَلَّیْنَاہُ وَإِلاَّ حَرَّقْنَاہُ أَکُنْتِ تَشْفَعِیْنَ لَہُ؟
بھلا سن تو اگر ایک عظیم الشان آگ بھڑکائی جائے اور کوئی تجھ سے کہے کہ تُو اس کی شفاعت کرے جب تو ہم اسے چھوڑتے ہیں ورنہ جلا دینگے ، کیا اس وقت تو اس کی شفاعت کریگی؟
عرض کی : یَارسولُ اللہ ! جب تو شفاعت کروں گی، فرمایا : تو اللہ کو اور مجھے گواہ کر لے کہ تُو اس سے راضی ہوگئی، اس نے عرض کی : الٰہی! میں تجھے اور تیرے رسول کو گواہ کرتی ہوں کہ میں اپنے بیٹے سے راضی ہوئی، اب سیّد ِعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے جوان سے فرمایا : اے لڑکے ! کہہ : لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ([4])، جو ان نے کلمہ پڑھا اور انتقال کیا، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَنْقَذَہُ بِيْ مِنَ النَّارِ))، رواہ الطبراني عن عبد اللّٰہ بن أبي أوفی رضي اللّٰہ تعالی عنھما([5]) ۔
شکر اس خدا کا جس نے میرے وسیلے سے اس کو دوزخ سے بچالیا ۔ (اسے طبرانی نے عبد اللہ بن ابی اوفی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا ۔ ت)
حدیث۷ : عوّام بن حوشب رحمۃ اللہ علیہ کہ اجلّہ ائمۂ تبع تابعین سے ہیں([6]) ۱۴۸ھ میں انتقال کیا، فرماتے ہیں : میں ایک محلّے میں گیا اس کے کنارے پر قبرستان تھا عصر کے وقت ایک قبر شق ہوئی([7])اور اس میں سے ایک آدمی نکلا جس کا سر گدھے اور باقی بدن انسان کا، اس نے تین آوازیں
[1] ’’السنۃ‘‘ لابن أبي عاصم، باب : ما ذکر عن النبي علیہ السلام في المکذبین بقدر اللہ... إلخ، الحدیث : ۳۳۲، ص۷۳ ۔
[2] ’’المعجم الأوسط‘‘، الحدیث : ۸۴۹۷، ج۶، ص۱۹۹، بألفاظ مختصر ۔
[3] ’’الإحسان بترتیب صحیح ابن حبان‘‘، کتاب الحدود، باب الزنا وحدّہ، الحدیث : ۴۴۰۰، ج۴، ص۲۹۹ ۔
[4] اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں ۔
[5] ’’الترغیب والترھیب ‘‘، الحدیث : ۱۶، ج۳، ص۲۲۶، (بحوالہ طبرانی)، و’’مجمع الزوائد، الحدیث : ۱۳۴۳۳، ج۸، ص۲۷۰ ۔
$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع