30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جو بہ نیت ِثواب اپنے والدین دونوں یا ایک کی زیارتِ قبر کرے حجِ مقبول کے برابر ثواب پائے ، اور جو بکثرت ان کی زیارتِ قبر کرتا ہو، فرشتے اس کی قبر کی زیارت کو آئیں (حکیم ترمذی اور ابن عدی نے ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اسے روایت کیا ۔ ت)
امام ابن الجوزی محدث کتاب ’’عیون الحکایات‘‘ میں بسندِ خود محمد ابن العباس وَرّاق سے روایت فرماتے ہیں ایک شخص اپنے بیٹے کے ساتھ سفر کو گیا راہ میں باپ کا انتقال ہو گیا وہ جنگل درختانِ مقل یعنی گوگل([1])کے پیڑوں کا تھا ان کے نیچے دفن کرکے بیٹا جہاں جانا تھا چلا گیا جب پلٹ کر آیا اس منزل میں رات کو پہنچا باپ کی قبر پر نہ گیا
ناگا ہ سُنا کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے :
رَأَیْتُکَ تَطْوِي الدَّوْمَ لَیْلاً وَلاَ تَرَی عَلَیْکَ لأَِھْلِ الدَّوْمِ أَنْ تَتَکَلَّمَا
وَبِالدَّوْمِ ثَاوٍ لَوْ ثَوَیْتَ مَکَانَہُ فَمَرَّ بَأَھْلِ الدَّوْمِ عَاجٍ فَسَلَّمَا([2])
’’میں نے تجھے دیکھا کہ تُو رات میں اس جنگل کو طے کرتا ہے اوروہ جو اِن پیڑوں میں ہے اس سے کلام کرنا اپنے اوپر لازم نہیں جانتا حالانکہ ان درختوں میں وہ مقیم ہے کہ اگرتو اس کی جگہ ہوتا اور وہ یہاں گزرتا تو وہ راہ سے پھر کر آتا اور تیری قبر پر سلام کرتا ۔ ‘‘
حدیث۱۷ : کہ فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ((مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَصِلَ أَبَاہُ فِيْ قَبْرِہِ فَلْیَصِلْ إِخْوَانَ أَبِیْہِ مِنْ بَعْدِہِ))، رواہ أبویعلی وابن حبان عن ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا([3]) ۔
جو چاہے کہ باپ کی قبر میں اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے وہ باپ کے بعد اس کے عزیزوں دوستوں سے نیک برتاؤ رکھے (ابو یعلی وابن حبان نے ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اسے روایت کیا ۔ ت)
حدیث۱۸ : فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ((مِنَ البِرِّ أَنْ تَصِلَ صَدِیْقَ أَبِیْکَ))، رواہ الطبراني في ’’الأوسط‘‘ عن أنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا([4]) ۔
باپ کے ساتھ نیکو کاری سے ہے یہ کہ تُو اس کے دوست سے نیک برتاؤ رکھے ۔ (طبرانی نے ’’اوسطــ‘‘ میں انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے اسے روایت کیا ۔ ت)
حدیث۱۹ : کہ فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ((إِنَّ أَبَرَّ البِرِّ أَنْ یَصِلَ الرَّجُلُ أَھْلَ وُدِّ أَبِیْہِ بَعْدَ أَنْ یُوَلِّيَ الْأَبُ))، رواہ الأئمّۃ أحمد والبخاري في ’’الأدب المفرد‘‘ ومسلم في ’’صحیحہ‘‘ وأبو داود والترمذي عن ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا([5]) ۔
بے شک باپ کے ساتھ سب نکو کاریوں سے بڑھ کر یہ نکو کاری ہے کہ آدمی باپ کے بعد اس کے دوستوں سے اچھی روش پر نباہے ۔ (اسے ائمہ کرام احمدنے اور بخاری نے ’’الادب المفرد‘‘ میں ، مسلم نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں اور ابو داؤد و ترمذی نے ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت کیا ۔ ت)
حدیث۲۰ : کہ فرماتے ہیں رسولُ اللہَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : ((اِحْفَظْ وُدَّ أَبِیْکَ لاَ تَقْطَعْہُ فَیُطْفِیَٔ اللہ نُوْرَکَ))، رواہ البخاري في ’’الأدب المفرد‘‘ والطبراني في ’’الأوسط‘‘ والبیھقي في ’’الشعب‘‘ عن ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا([6]) ۔
[1] ایک درخت کے خوشبو دارگوند کا نام جو ذائقہ میں تلخ اور بہُت سی قسم کا ہوتا ہے ۔
[2] ’’شرح الصدور‘‘، باب زیارۃ القبور... إلخ، ص۲۱۹، (بحوالہ ’’عیون الحکایات‘‘) ۔
[3] ’’مسند أبي یعلی الموصلي‘‘، الحدیث : ۵۶۴۳، ج۵، ص۱۲۶، و’’صحیح ابن حبان‘‘، کتاب البر والإحسان، باب حقّ الوالدین، ج۱، ص۳۲۹ ۔
[4] ’’المعجم الأوسط‘‘، من اسمہ محمد، الحدیث : ۷۳۰۳، ج۵، ص۲۷۲ ۔
[5] ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب البرّ والصلۃ، باب فضل صلۃ أصدقاء الأب والأمّ ونحوھما، الحدیث : ۲۵۵۲، ص۱۳۸۲، و’’کنز العمال‘‘، کتاب النکاح، الحدیث : ۴۵۴۵۴، ج۱۶، ص۱۹۳، (بحوالہ مسند ومسلم وأبي داود وترمذي) ۔
[6] ’’المعجم الأوسط‘‘، من اسمہ $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع