30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۶) انھوں نے جو وصیت جائزہ شرعیہ([1]) کی ہو حتَّی الامکان اس کے نفاذ میں سعی کرنا
اگرچہ شرعاً اپنے اوپر لازم نہ ہو، اگرچہ اپنے پر بار([2]) ہو مثلاً وہ نصف جائداد کی وصیت اپنے کسی عزیز غیر وارث یا اجنبی محض کے لئے کر گئے تو شرعاً تہائی مال سے زیادہ میں بے اجازتِ وارثان نافذ نہیں ([3]) مگر اولاد کو مناسب ہے کہ ان کی وصیت مانیں اور ان کی خوشی([4]) پوری کرنے کو اپنی خواہش پر مقدم جانیں ([5]) ۔
(۷) ان کی قَسم بعدِ مرگ بھی([6]) سچی ہی رکھنا مثلاً ماں باپ نے قسم کھائی تھی کہ میرا بیٹا فلاں جگہ نہ جائیگا یا فلاں سے نہ ملے گا یا فلاں کام کرے گا تو ان کے بعد یہ خیال نہ کرنا کہ اب وہ تو ہیں نہیں ان کی قَسم کا کیاخیال، نہیں بلکہ اس کا ویسے ہی پابندر ہنا جیسا ان کی حیات میں رہتا جب تک کوئی حرجِ شرعی مانع نہ ہو([7]) اور کچھ قَسم ہی پرموقوف نہیں ہر طرح امورِ جائزہ میں بعد ِمرگ([8]) بھی ان کی مرضی کا پابند رہنا ۔
(۸) ہر جمعہ کو ان کی زیارتِ قبر کے لئے جانا، وہاں یٰسٓ شریف ایسی آواز سے کہ وہ سُنیں پڑھنا اور اس کا ثواب ان کی روح کو پہنچانا ، راہ میں جب کبھی ان کی قبر آئے بے سلام وفاتحہ نہ گزرنا ۔
(۹) ان کے رشتہ داروں کے ساتھ عمر بھر نیک سلوک کیے جانا ۔
(۱۰) ان کے دوستوں سے دوستی نباہنا ہمیشہ ان کا اعزاز واکرام رکھنا ۔
(۱۱) کبھی کسی کے ماں باپ کو برا کہہ کر جواب میں انہیں بُرا نہ کہلوانا ۔
(۱۲) سب میں سخت تر وعام تر ومدام تر ([9]) یہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کرکے انہیں قبر میں رنج(ایذا) نہ پہنچانا، اس کے سب اعمال کی خبر ماں باپ کو پہنچتی ہے ، نیکیاں دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور ان کا چہرہ فرحت سے چمکتا اوردمکتا رہتاہے ، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب(دِل) پر صدمہ ہوتا ہے ماں باپ کا یہ حق نہیں کہ قبر میں بھی انہیں رنج پہنچائیے ۔
اللہ غفور رحیم عزیز کریم جل جلالہ صدقہ اپنے حبیب رؤف رحیم علیہ وعلی آلہ أفضل الصلاۃ والتسلیم کا ہم سب مسلمانوں کو نیکیوں کی توفیق دے گناہوں سے بچائے ، ہمارے اکابر کی قبروں میں ہمیشہ نور وسرور پہنچائے کہ وہ قادر ہے اور ہم عاجز، وہ غنی ہے ہم محتاج، وحسبنا اللہ ونعم الوکیل نعم المولی ونعم النصیر ولا حول ولاقوّۃ إلاّ باللہ العليّ العظیم، وصلّی اللہ تعالٰی علی الشفیع الرفیع العفوّ الکریم الرؤوف الرحیم سیّدنا محمّد وآلہ وأصحابہ أجمعین آمین! والحمد للّٰہ ربّ العالمین ([10]) ۔
[1] ایسی وصیت جو شرعاً جائز ہے ۔
[2] اپنی جان پر بوجھ ومشقت ۔
[3] شرعاً ایک تہائی مال سے زیادہ میں وارثوں کی اجازت کے بغیر وصیت جاری نہیں ہوتی ۔
[4] خواہش ۔
[5] اپنی خواہش پر فوقیت دیں ۔
[6] وفات کے بعد بھی ۔
[7] ان کی وفات کے بعد بھی ان کی کھائی ہوئی قسم پوری کرے جبتک کہ شریعتِ مطہرہ کی نافرمانی لازم نہ آئے ۔
[8] یہ حکم صرف قَسم ہی پر ٹھہرا ہوا نہیں بلکہ ہر جائز کام میں وفات کے بعد ۔
[9] یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔
[10] اور اللہ ہم کو کافی اور بہترین کار ساز، کیا ہی بہترین آقا اور بہترین مددگار، نہ نیکی کرنے کی طاقت اور نہ گناہوں سے بچنے کی قوت ہے مگر اللہ بلند و عظیم ہی کی توفیق سے ، اور اللہ تعالٰی کا درود ہو شفاعت فرمانے والے ، بلند، مہربان، کرم فرمانے والے رؤف رحیم ہمارے سردار محمداور ان کی آل اور ان کے تمام اصحاب پر، اور سب خوبیاں اللہ کو جو سارے جہان والوں کاپالنے والا ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع