30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس آیۂ کریمہ میں ربّ العزت نے ماں باپ دونوں کے حق میں تاکید فرماکر ماں کو پھرخاص الگ کر کے گِنا اور اس کی ان سختیوں اور تکلیفوں کو جو اسے حمل و ولادت اور دو برس تک اپنے خون کا عطر پلانے میں ([1]) پیش آئیں جن کے باعث اس کا حق بہُت اشدّ واعظم ہوگیا([2]) شمار فرمایا ، اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد فرمایا :
وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِۚ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰى وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَؕ-تاکید کی ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے حق میں ، پیٹ میں رکھا اسے اس کی ماں نے سختی پر سختی اٹھا کر، اور اس کا دودھ چُھٹنا دوبرس میں ہے ، یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا ۔ ([3])
یہاں ماں باپ کے حق کی کوئی نہایت ([4]) نہ رکھی کہ انہیں اپنے حقِ جلیل کے ساتھ شمار کیا، فرماتا ہے : شکر بجالا میرا اور اپنے ماں باپ کا، اللہ أکبر اللہ أکبر وحسبنا اللہ ونعم الوکیل ولا حول ولا قوّۃ إلاّ باللہ العليّ العظیم، یہ دونوں آیتیں اور اسی طرح بہت حدیثیں دلیل ہیں کہ ماں کا حق، باپ کے حق سے زائد ہے ،
ام المؤمنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتی ہیں : ((سَأَ لْتُ رسولُ اللہَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : أَيُّ النَّاسِ أَعْظَمُ حَقًّا عَلَی الَمَرْأَۃِ؟ قَالَ : زَوْجُھَا، قُلْتُ : فَأَيُّ النَّاسِ أَعْظَمُ حَقًّا عَلَی الرَّجُلِ؟ قَالَ : أُمُّہُ))، رواہ البزار بسند حسن والحاکم ([5]) ۔
یعنی میں نے حضور اقدس سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے عرض کی : عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے ؟ فرمایا : شوہر کا ، میں نے عرض کی : اور مرد پر سب سے بڑا حق کس کا ہے ؟ فرمایا : اس کی ماں کا ۔ (بزار نے اسے سندِ حسن کے ساتھ اور حاکم نے اسے روایت کیا ۔ ت)
ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ((جَاءَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فَقَالَ : یَا رسولُ اللہَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! مَنْ أَحَقُّّ النَّاسِ بِحُسْنِ صَحَابَتِيْ؟ قَالَ : أُمُّکَ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : أُمُّکَ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : أُمُّکَ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ : أَبُوْکَ))، رواہ الشیخان في ’’صحیحھما‘‘([6]) ۔
ایک شخص نے خدمت ِاقدس حضور پُر نور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ میں حاضر ہو کر عرض کی : یا رسولُ اللہَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اس کے ساتھ نیک رفاقت کروں ؟ فرمایا : تیری ماں ، عرض کی : پھر ، فرمایا : تیری ماں ، عرض کی : پھر، فرمایا : تیری ماں ، عرض کی : پھر، فرمایا : تیرا باپ ۔ (اما م بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی ’’صحیح‘‘ میں اسے روایت کیا ۔ ت)
تیسری حدیث میں ہے کہ رَسُوْل اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : ((أُوْصِي الرَّجُلَ بِأُمِّہِ، أُوْصِي الرَّجُلَ بِأُمِّہِ، أُوْصِي الرَّجُلَ بِأُمِّہِ، أُوْصِي الرَّجُلَ بِأَبِیْہِ))، رواہ الإمام أحمد وابن ماجہ والحاکم والبیھقي في ’’السنن‘‘ عن أبي سلامۃ([7]) ۔
میں آدمی کو وصیت کرتا ہوں اس کی ماں کے حق میں ، وصیت کرتاہوں اس کی ماں کے حق میں ، وصیت کرتا ہوں اس کی ماں کے حق میں ، وصیت کرتا ہوں اس کے باپ کے حق میں ۔ (امام احمد اور ابن ما جہ اور حاکم اور بیہقی نے ’’ سنن‘‘ میں ابو سلامہ سے اسے روایت کیا ۔ ت)
مگر اس زیادت([8])کے یہ معنی ہیں کہ خدمت میں ، دینے میں باپ پر ماں کو ترجیح دے مثلاًسو روپے ہیں اور کوئی وجہِ خاص (خاص وجہ)مانعِ
[1] خون کانچوڑیعنی دودھ پلانے میں ۔
[2] جن کی و جہ سے ماں کاحق بہُت ہی زیادہ اور عظیم ترین ہو گیا ۔
[3] پ۲۱، لقمان : ۱۴ ۔
[4] حد و انتہا ۔
[5] ’’المستدرک‘‘، کتاب البرّ والصلۃ، باب بر أمّک ثمّ أباک ثمّ الأقرب فالأقرب، الحدیث : ۷۳۲۶، ج۵، ص۲۰۸ ۔
[6] ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الأدب، الحدیث : ۵۹۷۱، ج۴، ص۹۳ ۔
[7] ’’المسند‘‘، ج۶، ص۴۶۳، الحدیث : ۱۸۸۱۲، ’’ابن ماجہ‘‘، کتاب الأدب، باب بر الوالدین، الحدیث : ۳۶۵۷، ج۴، ص۱۸۳، ’’المستدرک‘‘، کتاب البرّ والصلۃ، باب برّ أمّک ثمّ أباک ثمّ الأقرب فالأقرب، ج۵، ص۲۰۸، الحدیث : ۷۳۲۵ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع