30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الاول اپنے برکتیں لُٹارہا تھا اور عاشقانِ میلاد کا جلوس اپنے آقا کی محبت میں جھومتا، درودِ پاک پڑھتا اور مرحبا یا مصطفیٰ کی صدائیں بلند کرتارواں دواں تھا، اس میں مجھے بھی شرکت کی سعادت نصیب ہوگئی ۔ اس دوران ایک اسلامی بھائی نے میرے ہاتھ میں رسالہ تھما دیا، جس پر جلی حروف میں ’’ نہر کی صدائیں ‘‘ لکھاہوا تھا، جب میں نے اس رسالے کو کھول کردیکھا تو ابتداہی میں دُرُودِپاک پڑھنے کی فضیلت لکھی ہوئی تھی، مزید آگے گناہوں کے مرتکب نوجوان کی توبہ کا واقعہ پڑھنا شروع کیا تو پڑھتا ہی چلا گیا، تحریر کے پُر تاثیرکلمات نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ فکرِ آخرت اُجاگر کرنے والی تحریر پڑھ کر اس قدر متأثر ہوا کہ میں نے عصیاں بھری زندگی ترک کرنے اور سنّتوں بھری زندگی گزار کر آخرت میں سرخرو ہونے کا تہیّہ کرلیا ۔ رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی اور اس پر قائم رہنے کے لیے مدَنی ماحول اختیار کرلیا اور دینِ اسلام کی خدمت کے لئے مدَنی کاموں میں حصہ لینے لگا یوں ایک رِسالہ میری اصلاح کا سبب بن گیا ۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تادمِ تحریر ذیلی سطح پر مدَنی انعامات کے ذمہ دار کی حیثیت سے سنّتیں پھیلانے میں مصروف ِ عمل ہوں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! رسائلِ عطاریہ کی ڈھیروں ڈھیر برکتیں ہیں ۔ معاشرے کے وہ افرادجو کل تک فرائض و واجبات سے دور اور مختلف گناہوں میں مصروف تھے آج امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے پُرتاثیر رسائل پڑھ کر احکامِ اسلام پر عمل پیرا ہوگئے ہیں ۔ اسی طرح والدین کے نافرمان مطیع وفرماں بردار بن کر دوسروں کو اطاعت ِوالدین کا دَرس دینے والے بن گئے ہیں ، جیسا کہ مذکورہ مدَنی بہار اور دیگر مدَنی بہاروں سے اس بات کا پتہ چلتا ہے ۔ لہٰذا تمام اسلامی بھائی سفرو حضر میں کچھ رسائلِ عطاریہ اپنے ساتھ رکھنے اور مسلمانوں کو تحفۃً دینے کی ترکیب بنائیں ، کیا معلوم آپ کے دِیے ہوئے رِسالے کی برکت سے کسی کی بگڑی سنور جائے اور وہ راہِ سنّت کا مسافربن کر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے والابن جائے توجہاں رسالہ پڑھنے والے کی اپنی قبرو آخرت بہتر ہوگی وہیں آپ کے لیے بھی صدقہ جاریہ کا ایک عظیم سلسلہ جاری ہوجائے گا ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفرت ہو۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(10)ایمان کی سلامتی کی فکر مل گئی
ایک اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے : دعوتِ اسلامی کا مُشکبار مدَنی ماحول مُیَسَّر آنے سے قبل میں گمراہ لوگوں کی ہلاکت خیز صحبت میں رہا کرتا تھا اور دن بدن اُن کے نظریات میں ڈھلتا جارہا تھا ۔ اس کے علاوہ نیکیاں کرنے اور قبر و آخرت کی تیاری کرنے کا بھی کوئی ذہن نہ تھا اور یوں بد اعتقادی کے ساتھ ساتھ بد عملی کی آفت میں بھی گرفتار تھا ۔ اسی دوران اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھ پر کرم فرمایا اور ہدایت کا رستہ مجھ پر آشکار فرمایا، ہوا کچھ یوں کہ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا انمول رسالہ ’’بُرے خاتمے کے اسباب‘‘ کہیں سے ہاتھ لگ گیا، کرم بالائے کرم یہ کہ مجھے پڑھنے کی توفیق نصیب ہوگئی ۔ بُرے خاتمے کے اسباب اور عبرت انگیز حکایات پڑھ کر میری عجیب کیفیت ہوگئی، سوچنے لگا کہ ہمارے نیک و بد اعمال کا ہمارے خاتمے سے کتناگہرا تعلق ہے اور ہمیں اس کی کوئی فکر ہی نہیں ۔ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی دعوتِ فکرکو نہ صرف میں نے قبول کیا بلکہ ان کے فرمان کے مطابق دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں بھی جا پہنچا (حالانکہ اس سے قبل میں کبھی اجتماع میں نہیں گیاتھا) ۔ وہاں باعمامہ اسلامی بھائیوں کا ہجوم دیکھ کر بڑا متأثر ہوا پھر مکمل اجتماع کی برکتیں سمیٹنے کی سعادت نصیب ہوئی نیز اختتام کی دعا نے میرے دماغ پر بڑا گہرا اثر قائم کیا، میں نے اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی اور شاہراہِ سنّت پر گامزن ہوگیا اور یوں میری زندگی میں مدَنی انقلاب برپا ہوگیا ۔ مدَنی ماحول کی برکت سے مجھ بے نمازی کو نماز پڑھنے کی توفیق ملنے لگی اور نفلی عبادات و سنّتوں پر عمل کی سعادت بھی حاصل ہونے لگی، مزید خدمتِ دین کے مقدّس جذبے کے تحت مدَنی کاموں میں بھی حصہ لینے لگا ۔ ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت اور مدَنی قافلوں میں سفر کی برکت سے صدائے مدینہ کی سعادت ملنے لگی، وُضو و غسل وغیرہ کے حوالے سے وہ ضروری علمِ دین حاصل ہوا جس سے میں بالکل ہی لاعلم تھا ۔ میرے والد صاحب دعوتِ اسلامی کے بارے میں کچھ وَساوِس کا شکار تھے ۔ ایک مرتبہ میں انہیں ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماع میں لے گیا ۔ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ جب انہوں نے سنّتوں کی بہاریں دیکھیں اور اِسلام کا حقیقی چہرہ دیکھا تو ان کے تمام وَساوِس کی کاٹ ہوگئی ۔ پھر والد صاحب نے مجھے مدَنی کاموں کی اجازت عطا فرمائی ۔ تادمِ تحریر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تمام گھرانہ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے بیعت ہوکر فیضانِ امیرِ اہلسنّت سے مُستفیض ہو رہا ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بد مذہب کو استاد بنانے کا حکم؟
شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف ’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ کے صفحہ 63 پر تحریر کرتے ہیں : بدمذہب سے دینی یا دنیاوی تعلیم لینے کی مُمانَعَت کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : غیر مذہب والیوں (یا والوں ) کی صُحبت آگ ہے، ذی عِلم عاقِل بالِغ مردوں کے مذہب (بھی) اس میں بگڑ گئے ہیں ۔ عمران بن حطان رقاشی کا قصّہ مشہور ہے، یہ تابِعین کے زمانہ میں ایک بڑامُحدِّث تھا، خارِجی مذہب کی عورت(سے شادی کر کے اس)کی صُحبت میں (رہ کر) مَعاذَاللّٰہ خود خارِجی ہو گیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ(اس سے شادی کر کے)اُسے سُنّی کرنا چاہتا ہے ۔ (یہاں وہ نادان لوگ عبرت حاصِل کریں جو بَزُعمِ فاسِد خود کو بَہُت ’’پکّاسُنّی‘‘ تصوُّر کرتے اور کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے مسلک سے کوئی ہِلا نہیں سکتا، ہم بَہُت ہی مضبوط ہیں !) میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں : جب صُحبت کی یہ حالت (کہ اتنا بڑا محدِّث گمراہ ہو گیا) تو (بدمذہب کو) اُستاد بنانا کس دَرَجہ بدتر ہے کہ اُستاد کا اثر بَہُت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے ، تو غیر مذہب عورت(یا مرد) کی سِپُردگی یا شاگِردی میں اپنے بچّوں کو وُہی دے گا جو آپ(خودہی)دین سے واسِطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچّوں کے بَددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا ۔
(فتاوٰی رضویہ 23/692)
شعبہ امیرِاَہلسنّت مجلس اَ لْمدِیْنَۃُ الْعِلْمِیّہ (دعوتِ اسلامی)
۲۳رمضان المبارک ۱۴۳۵ھ بمطابق21 جولائی 2014
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع