دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Walidain kay Nafarman ki Tauba | والدین کے نافرمان کی توبہ

book_icon
والدین کے نافرمان کی توبہ

روضۂ انور کے پاس (خود بھی آواز بلند نہ کرتے اور) دوسروں  کو بھی آواز اونچی کرنے سے منع کرتے تھے ، یہاں  اسی سے متعلق 6 واقعات ملاحظہ ہوں  :

(1)…حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں   : جب یہ آیت’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ‘‘نازل ہوئی تو میں نے عرض کی :  یارسولَ اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اللہ تعالیٰ کی قسم! آئندہ میں  آپ سے سرگوشی کے انداز میں  بات کیا کروں  گا ۔

(کنزالعمال، کتاب الاذکار، قسم الافعال، فصل فی التفسیر، سورة الحجرات، ۱ / ۲۱۴ ، الحدیث :  ۴۶۰۴، الجزء الثانی)

(2)…حضرت عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں : یہ آیت نازل ہونے کے بعد حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کا حال یہ تھا کہ آپ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  بہت آہستہ آواز سے بات کرتے حتّٰی کہ بعض اوقات حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بات سمجھنے کے لئے دوبارہ پوچھنا پڑتا کہ کیا کہتے ہو ۔ ( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورة الحجرات، ۵ / ۱۷۷، الحدیث :  ۳۲۷۷)

(3)…حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں   : جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ اپنے گھر میں  بیٹھ گئے اور (اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے ) کہنے لگے :  میں  اہلِ نار سے ہوں ۔  (جب یہ کچھ عرصہ بارگاہِ رسالت میں  حاضر نہ ہوئے تو) حضورِ اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ سے اُن کا حال دریافت فرمایا، انہوں  نے عرض کی :  وہ میرے پڑوسی ہیں  اور میری معلومات کے مطابق انہیں  کوئی بیماری بھی نہیں  ہے ۔  حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے کہا : یہ آیت نازل ہوئی ہے اور تم لوگ جانتے ہو کہ میں  تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں  (اور جب ایسا ہے ) تو میں  جہنمی ہوگیا  ۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ نے یہ صورت ِحال حضور پُرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  عرض کی تو آپ نے ارشاد فرمایا :  ’’(وہ جہنمی نہیں ) بلکہ وہ جنت والوں  میں سے ہیں  ۔ “( مسلم، کتاب الایمان، باب مخافة المؤمن ان یحبط عمله، ص۷۳، الحدیث :  ۱۸۷(۱۱۹))

نوٹ : صحیح مسلم کی اس روایت میں  حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کا ذکر ہے اور تفسیر ابنِ منذر میں  حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ سے ہی مروی یہی واقعہ مذکور ہے ، اس میں  حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کی بجائے حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کا ذکر ہے ، اس کے بارے میں  علامہ ابنِ حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں : حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ سے پوچھنا زیادہ درست ہے کیونکہ آپ کا تعلق حضرت ثابت بن قیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کے قبیلہ(خزرج) سے ہے اور حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کے مقابلے میں  ان کا حضرت ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کا پڑوسی ہونا زیادہ واضح ہے کیونکہ حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کا تعلق دوسرے قبیلے (یعنی اَوس) سے تھا ۔( فتح الباری، کتاب المناقب، باب علامات النّبوة فی الاسلام، ۷ / ۵۱۷، تحت الحدیث :  ۳۶۱۳)

            نیز اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب بنو تمیم کا وفد سر کارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہوا اور یہ سن 9ہجری کا واقعہ ہے جبکہ حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ تو سن 5ہجری میں  غزوہ بنوقریظہ کے بعد وفات پا گئے تھے اور حضرت سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ کی وفات نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وصالِ ظاہری کے بہت بعد کی ہے  ۔

(4)… حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں   : میں  رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے منبر کے پاس تھا، ایک شخص نے کہا : اسلام لانے کے بعد اگر میں  صرف حاجیوں  کو پانی پلانے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کروں  تو مجھے کوئی پرواہ نہیں  ہے ۔ دوسرے شخص نے کہا : اسلام لانے کے بعد اگر میں  مسجد ِحرام کو آباد کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہ کروں  تو مجھے کوئی پرواہ نہیں  ہے ۔ تیسرے شخص نے کہا : اللہ تعالیٰ کی راہ میں  جہاد کرنا تمہاری کہی ہوئی باتوں  سے افضل ہے ۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں  ڈانٹتے ہوئے فرمایا :  ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے منبر کے پاس اپنی آواز بلند نہ کرو ۔ ( مسلم، کتاب الامارة، باب فضل الشّهادة فی سبیل اللّٰه تعالی، ص۱۰۴۴،  الحدیث :  ۱۱۱(۱۸۷۹))

(5)…ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی  عَنْہُ نے مسجد ِنَبوی میں  دو شخصوں  کی بلند آواز سنی تو آپ (ان کے پاس) تشریف لائے اور فرمایا : ’’ کیا تم دونوں  جانتے ہو کہ کہاں  کھڑے ہو؟پھر ارشاد فرمایا : تم کس علاقے سے تعلق رکھتے ہو؟ دونوں  نے عرض کی : ہم طائف کے رہنے والے ہیں   : ارشاد فرمایا : اگر تم مدینہ منورہ کے رہنے والے ہوتے تو میں  (یہاں  آواز بلند کرنے کی وجہ سے ) تمہیں  ضرور سزا دیتا (کیونکہ مدینہ منورہ میں  رہنے والے دربارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آداب سے خوب واقف ہیں ) ۔ ( ابن کثیر، الحجرات، تحت الاٰية :  ۲، ۷ / ۳۴۳)

(6)…اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں   : امیر المومنین عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے روضۂ انور کے پاس کسی کو اونچی آواز سے بولتے دیکھا، فرمایا :  کیا اپنی آواز نبی کی آواز پر بلند کرتاہے ، اور یہی آیت(یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ)تلاوت کی ۔ (ہوسکتا ہے کہ واقعہ وہی ہو جو اوپر چار نمبر کے تحت بیان ہوا ہے ۔ )( فتاوی رضویہ، ۱۵ / ۱۶۹)

آیت’

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن