30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفرت ہو۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(2)شراب نوشی کی عادت چھوٹ گئی
باب المدینہ (کراچی) کی گھگربند کالونی کے رہائش پذیر اسلامی بھائی کی تحریر کچھ اس طرح ہے، بری صحبت کی وجہ سے میں نہ صرف چرس، شراب کے نشے میں دُھت رہتا بلکہ شراب فروخت کرنے کا کالادَھنّدا بھی کرتا تھا ۔ افسوس! میں قبرو آخرت کی فکر سے یکسر غافل اور گناہوں بھرے کاموں میں شاغِل تھا، زندگی کا ایک حصہ شراب نوشی اور شراب فروشی کی نذر کرچکا تھا اور نجانے مزید کتنے عرصے یہ گناہوں بھرا سلسلہ جاری رہتا وہ تو اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا مجھ پر کرم ہوگیا کہ شراب پینے اور بیچنے کی تباہ کاریاں مجھ پر آشکار ہوگئیں اور مجھے عصیاں بھری زندگی سے نجات مل گئی، سبب کچھ یوں بنا کہ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا تحریر کردہ رسالہ ’’بھیانک اونٹ‘‘مجھے مل گیا، رِسالے کے نام میں اتنی جَاذِبِیَّت تھی کہ میں نے اسے پڑھنا شروع کردیا، جوں جوں پڑھتاگیا میرے دل کی کیفیت بدلتی گئی، بالخصوص اِس رسالے میں پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظیم قربانیوں کے بارے میں پڑھا تو میری روح تڑپ اُٹھی، غیرتِ ایمانی نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا، گناہوں سے بچنے اور سنّتوں بھری زندگی گزارنے کا ذہن بن گیا چنانچہ میں نے ہاتھوں ہاتھ اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی اور ارشاداتِ نبویّہ کو حرزِ جاں بنانے اور نمازو روزہ کی پابندی کرنے کا تہیّہ کرلیا ۔ مزیداپنے اِرادے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں جاپہنچا جہاں عاشقانِ رسول کا ایک ہجوم تھا، اُن کے سروں پر سبز سبز عمامے شریف کی بہاریں تھی جنہیں دیکھ کر میرا ایمان تازہ ہوگیا، دورانِ اجتماع ہونے والے فکر انگیز بیان سے میں بہت متأثر ہوا خصوصاً اختتام پر ہونے والی رقت انگیز دعاسن کر خوف ِخدا سے میرا رُواں رُواں کانپ اُٹھا، میری آنکھیں پُرنَم ہوگئیں اور میں نے رب عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں گڑ گڑاتے ہوئے مغفرت کی بھیک طلب کی ۔ سنّتوں بھرے مدنی ماحول میں کچھ وقت کیا گزرا میرے دل میں مدَنی انقلاب برپا ہوگیا لہٰذا سنّتوں بھری زندگی گزارنے کے لیے میں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوگیا ۔ عاشقانِ رسول کی رفاقت کیا ملی شرابیوں کی صحبت سے جان چھوٹ گئی ۔ میں نے شراب نوشی و فروشی جیسے ’’جہنم میں لے جانے والے اعمال‘‘ سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور صوم و صلوٰۃ کا پابند بن گیا ۔ تادمِ تحریر تنظیمی طور پر حلقہ نگران کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہوں ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفرت ہو۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(3)فلم بین نوجوان کی توبہ
بلال آباد(ضلع قصور، پنجاب) نئی آبادی کے مقیم اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے : دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں سنّتوں سے محروم ایک فیشن ایبل ، فلمیں ڈرامے دیکھنے اور گانے باجے سننے کا شیدائی تھا ۔ افسوس! ظاہری زیب وزینت کا تو خیال تھا مگر باطنی طہارت و پاکیزگی کی کوئی فکر نہ تھی ۔ اسی بے فکری میں زندگی کے شب وروز کٹ رہے تھے لیکن مجھے یہ احساس تک نہ تھا کہ میرا یہ اندازِ زندگی درست نہیں ہے ۔ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت سے اس گناہوں بھری زندگی سے چھٹکارے کا سبب کچھ یوں بنا، جب میں مرکز الاولیاء (لاہور) کے ایک کالج میں زیرِ تعلیم تھا ۔ خوش قسمتی سے دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی بھی اسی کالج میں زیرِ تعلیم تھے، یہ عاشقِ رسول نیکی کی دعوت کے جذبے سے اس قدر سرشار تھے کہ وقتاً فوقتاًکالج کے طلبہ پر انفرادی کوشش فرماتے، انہیں نماز روزہ کی پابندی کا ذہن دیتے اور سنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت کرنے کی دعوت دیتے ۔ ایک دن میرے پاس تشریف لائے اوربڑے ہی پیارے انداز میں سلام کیا او رخیریت معلوم کرنے کے بعد مجھ پر انفرادی کوشش شروع کردی۔اسی دوران انہوں نے مجھے ایک رسالہ تحفۃً عنایت فرمایا اور کہنے لگے : آپ اس کا ضرور مطالعہ کیجئے گا اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ معلومات کا ڈھیروں خزانہ ہاتھ آئے گا ۔ ان کا پیار بھرا انداز دیکھ کر میں نے وہ رسالہ لے لیا اور یہ مبلغِ دعوتِ اسلامی مسکراتے سلام کرتے ہوئے رخصت ہوگئے ۔ میں نے جب اس رسالے کودیکھاتو اس پر لکھا ہواتھا ’’ٹی وی کی تباہ کاریاں ‘‘ یہ نام پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ یہ تو ہمارے محظوظ ہونے کا ایک اہم ذریعہ ہے بھلا ’’ٹی وی‘‘ کے کیا نقصانات ہوسکتے ہیں ؟ لہٰذا اسی تَجَسُّس کو دور کرنے کے لئے ہاتھوں ہاتھ اس کے مطالعہ کا ذہن بنایا اور فارغ وقت میں کلاس روم میں ایک طرف بیٹھ کر اسے بغور پڑھنے لگا ۔ میں نے اس رِسالے کی تحریر کو انتہائی عام فہم اور سادہ پایا جس میں بڑے ہی آسان الفاظ میں فلموں ڈِراموں کے شائقین کی اصلاح کی گئی تھی اور بدنگاہی کے عذابات سے ڈرایا گیا تھا ۔ جب میں نے فلم دیکھنے کے عذابات کے بارے میں پڑھا تو کلیجہ کانپ اُٹھا کہ آج تو بڑے مزے سے فلموں ڈراموں کے فُحش مَناظِر سے لُطف اندوز ہوتا ہوں اگر مرنے کے بعد میری آنکھوں میں آگ بھر دی گئی تو نجانے میرا کیا بنے گا؟ مزید اس گناہ میں مبتلا لوگوں کے عبرتناک واقعات بھی تھے جنہیں پڑھ کر مجھ پر خوفِ خدا کا ایسا غلبہ ہوا کہ بے ساختہ میری پلکیں بھیگ گئیں ، میں نے ہاتھوں ہاتھ فلموں ڈِراموں سے توبہ کی اوراس گناہ سے بچنے کا ذہن بنا لیا ۔ کہتے ہیں ’’نیّت صاف منزل آسان‘‘، چنانچہ اگلے ہی دن میری ایک اور مبلغِ دعوتِ اسلامی سے ملاقات ہوگئی، انہوں نے سلام کیا اور انفرادی کوشش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کا ذہن بنانے لگے ۔ چونکہ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے انقلابی رسالے ’’ٹی وی کی تباہ کاریاں ‘‘ پڑھ کر سُدھرنے اور اسلامی احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا تہیّہ تو کر ہی چکا تھا لہٰذا میں نے ان کی دعوت پر لَبّیْک کہا اور مقررہ دن ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کی پُربہار فضائوں میں پہنچ گیا ۔ ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کی تو پتا چلا کہ ہمارا مقصدِ حیات کیا ہے اِسلام ہمیں کن کاموں کے کرنے اور کن چیزوں سے بچنے کا حکم دیتا ہے نیز مدَنی ماحول کی کیا خصوصیات ہیں اور یہ کس طرح لوگوں کو سُدھار نے اور انہیں نیک بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔ خوش قسمتی سے آج میں بھی سنّتوں بھرے اجتماع کی فضائوں میں روح پرور مناظر سے خوب لطف اندوز ہو رہا تھا ۔ اجتماع کے اختتام پر جب رِقَّت انگیز دعا ہوئی تو تمام عاشقانِ رسول نے دُعا کے لیے بارگاہِ اِلٰہی میں اپنے ہاتھ بلند کر دیے اور مغفرت کی بھیک طلب کرنے لگے ۔ دورانِ دُعا خوفِ خدا سے آہ و بُکا کی آوازیں گونجنے لگیں اور عاشقانِ رسول کی آنکھیں اشکباری کرنے لگیں ۔ گریہ و زاری کے یہ ایمان افروز مناظر دیکھ کر بے ساختہ مجھ پر بھی رِقّت طاری ہوگئی، میری آنکھوں سے بھی آنسوئوں کی جھڑی لگ گئی، میں نے گڑ گڑا کر اپنے معبودِ برحق سے اپنے سابقہ گناہوں کی معافی مانگی اور آئندہ سنّت کے مطابق زندگی گزارنے کا ارادہ کرلیا ۔ دُعا کے اختتام پر میری سوچ وفکر پر چھایا گناہوں کا گرد و غبار دور ہوگیا ۔ اس کے بعد اپنے ارادے پر استقامت پانے کے لئے مدَنی ماحول سے منسلک ہوگیا اور فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ سنّتِ مصطفیٰ پر عمل پیرا ہوکر سامانِ آخرت کرنے میں مصروف ہوگیا ۔ پہلے ننگے سر رہتا اور ہِیَر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع