دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Uyun ul Hikayaat (Hissa-1) | عیون الحکایات (حصہ:۱)

book_icon
عیون الحکایات (حصہ:۱)

کسی کام سے باہر تشریف لے گئے۔ راستے میں ’’ کوفہ ‘‘کے گورنریوسف بن عمر نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو پکڑ لیا۔وہ چاہتا تھا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو قاضی بنا دیا جائے لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے یہ عہدہ قبول کرنے سے صاف انکار کردیا اورفرمایا: ’’میں کبھی بھی یہ ذمہ داری قبول نہ کروں گا۔ ‘‘

            جب کوفہ کے گورنر یوسف بن عمر نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاجرأت مندانہ جواب سنا تو اسے بہت غصہ آیا اوراس نے حکم دیا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بیڑیوں میں جکڑ کر قید خانے میں ڈال دیا جائے ۔ حضرت سیدنا زائدہ بن قدامۃ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں : ’’جب مجھے یہ خبر ملی کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکو گورنر پکڑکر لے گیا ہے تومیں فوراًاس کے دربار میں پہنچا ، سپاہی بیڑیاں لے کر آیا ہی تھا کہ دو درباری گورنر کے پا س اپنے کسی مقدمے کافیصلہ کروانے آئے لیکن اس نے نہ تو ان کے مقدمہ کی سماعت کی اورنہ ہی ان کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کی یہ خواہش تھی کہ کسی طرح حضرت سیدنا منصور بن معتمد علیہ رحمۃ اللہ الصمد قاضی کا عہدہ قبول کرلیں اور وہی لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں لیکن آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسلسل انکار کرتے رہے ۔ پھر کسی کہنے والے نے یوسف بن عمر سے کہا : ’’اگر تو حضرت سیدنا منصور بن معتمد علیہ رحمۃ اللہ الصمد کے جسم کا سارا گوشت بھی اتار ڈالے تب بھی یہ تیرے لئے قاضی کا عہدہ قبول نہ فرمائیں گے ۔‘‘یہ سن کر یوسف بن عمر نے حکم دیا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو آزاد کر دیا جائے۔‘‘

{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

                (میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سبحان اللہ عزوجل ! ہمارے بزرگان دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین  کی کیا انوکھی شان تھی کہ انہیں سخت سے سخت سزاتو منظور تھی لیکن اقتدار وحکومت کی ہوس نہ تھی۔وہ کبھی بھی دنیاوی عہدوں کی خواہش نہ کرتے، بلکہ ان کے نزدیک تو سب سے بڑا عہدہ یہ تھا کہ اللہ عزوجل کی رضا نصیب ہوجائے ،اس کی بارگاہ میں ہماری مقبولیت ہوجائے ۔ دنیاوی شان وشوکت، رعب ودبدبہ ان کی نظروں میں کچھ بھی نہ تھا وہ تو عاجزی اورانکساری کے پیکر ہوا کرتے تھے۔ ا ن کا سب سے اہم مقصداللہ عز وجل کی دائمی رضا کا حصول تھا۔ اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل! ہمیں بھی دنیا کی محبت سے بچا کر اپنی محبت عطافرما ۔اورسچی عاجزی کی توفیق عطا فرما۔ ان بزرگوں کے صدقے ہم سے ہمیشہ کے لئے راضی ہوجا۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

 

 

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

 

 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن