30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمائیں جنہیں حضرت سیدنا جبریل امینعلیہ السلام لے کر آئے،اب قیامت تک آپ کی پاکیزگی اورطہارت کا چرچا ہوتا رہے گا وہ آیتیں جو آپ کی شان میں نازل ہوئیں قیامت تک نمازوں اور خطبوں میں صبح شام مسلمانوں کی مساجد میں پڑھی جاتی رہیں گی ۔ ‘‘
یہ سن کر اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا:’’ اے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما !میری تعریف نہ کرو ،قسم ہے مجھے میرے اس پاک پروردگار عزوجل کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!میں تو اس بات کو پسند کرتی ہوں کہ میں گمنام ہی رہتی اور میری شہرت نہ ہوتی ۔‘‘
؎ بنت ِصدیق آرام جانِ نبی اس حریمِ برائَ ت پہ لاکھوں سلام
یعنی ہے سورۂ نور جن کی گواہ ان کی پر نُور صورت پہ لاکھوں سلام
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
حکایت نمبر175: حَمص کے مثالی گورنر
حضرت سیدنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفارسے مروی ہے کہ خلیفۃ المسلمین خلیفہ ثانی امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ سلطنتِ اسلامی کے مختلف شہروں کا دورہ کرنے تشریف لے گئے تاکہ وہاں کے اِنتظامات کو دیکھیں اوران میں بہتری لائیں۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ’’حمص‘‘پہنچے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہاں قیام فرمایاا ورحکم دیا کہ اس شہر میں جتنے بھی فقراء ومساکین ہیں ان کے ناموں کی فہرست بنا کر مجھے دکھاؤ ۔ جب فقراء ومساکین کے ناموں کی فہرست آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہ میں پیش کی گئی تو اس میں حضرت سیدنا سعیدبن عامر بن حذیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام بھی تھا جوکہ ’’حمص‘‘کے گورنر تھے ۔ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا:’’ یہ سعید بن عامر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کون ہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کی :’’ وہی سعید بن عامر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) جو اس شہر کے گورنر اورہمارے امیر ہیں۔‘‘ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے متعجب ہو کر پوچھا: ’’کیاواقعی تمہارے امیر کی یہ حالت ہے ؟‘‘لوگوں نے عرض کی: ’’جی ہاں۔‘‘ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا: ’’تمہارے امیر کی یہ حالت کیسے ہوئی کہ وہ فقیر ومسکین ہوگئے، ان کو جو وظیفہ ملتاہے وہ کہاں جاتاہے؟‘‘ لوگوں نے عرض کی: ’’اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ !انہیں جتنا بھی وظیفہ ملتاہے اورجب کبھی انہیں کہیں سے رقم وغیرہ ملتی ہے تو وہ اپناسارا مال فقراء ومساکین اورمسلمانوں کی حاجتوں میں خرچ کردیتے ہیں ، اپنے لئے کچھ بھی نہیں بچاتے۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع