30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اے جبریل امین علیہ السلام تم کیو ں رو رہے ہو؟ حالانکہ تم تو روح الامین ہو اور اللہ عزوجل کی جانب سے وحی پرامین ہو،یہ سن کر حضرت سیدناجبریل امین علیہ السلام نے عرض کی:یارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم، مجھے اس خوف نے رلایا کہ کہیں میں بھی ہَارُوْتاورمَارُوْت( یہ دو فرشتوں کے نام ہیں )کی طر ح آزمائش میں مبتلا نہ ہوجاؤں بس اسی خوف نے مجھے اس مرتبے پر اعتماد کرنے سے روک دیا جو مرتبہ میرا بارگاہ خداوندی عزوجل میں ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں بھی قرب ِالہٰی عزوجل سے دورہو جاؤں۔ ‘‘
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی طاعۃ أولی الأمر، فصل فی نصیحۃ الولاۃ، الحدیث۷۴۲۰،ج۶،ص۳۳تا۳۴)
اے ابو جعفر منصور !امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس طرح دعا کی: ’’اے میرے پاک پروردگار عزوجل! جب میرے پاس دو شخص فیصلہ کر وانے آئیں اور میرا دل ان میں سے کسی ایک کی جانب مائل ہوجائے تو مجھے تھوڑی سی بھی مہلت نہ دینا۔
؎ اللہ اس سے پہلے ایمان پہ موت دے دے
نقصاں میرے سبب ہو سنتِ نبی کا
اے ابو جعفر منصور ! ’’اللہ عزوجل کے حضور حساب وکتا ب کے لئے کھڑا ہو نا بہت شدید ہے ، اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے زیادہ مکرّم شیٔ تقویٰ وپرہیز گاری ہے ،جو شخص اللہ عزوجل کی فرمانبرداری کے ذریعے عزت کا طلب گار ہو تو اللہ عزوجل اسے عزت و بلندی عطا فرماتا ہے ، او رجو اس کی نافرمانی کے ذریعے عزت کا طلب گار ہو تو اللہ عزوجل اسے ذلیل وخوار کردیتا ہے۔‘‘
اے خلفیہ ابو جعفر منصور! یہ میری طر ف سے کچھ نصیحت آموز کلمات تھے انہیں قبول کرلو،اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے اور سلامتی عطا فرمائے، اتنا کہنے کے بعد میں واپس جانے لگا تو خلیفہ نے کہا:’’ حضور کہا ں جار ہے ہیں ؟‘‘ میں نے کہا:’’میں امیر کی اجازت سے اپنے شہر اور اہل وعیال کی طرف جارہا ہوں کیا تم مجھے جانے کی جازت دیتے ہو ؟۔‘‘
خلیفہ ابو جعفر منصور نے کہا:’’ جایئے خوشی سے جائیے اور میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکا شکر گزارہوں کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجھے نصیحت فرمائی، میں ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کرو ں گا ۔( ان شاء اللہ عزوجل) اللہ عزوجل ہی بھلائی کی تو فیق عطا فرماتا ہے اور وہی مدد گار ہے، میں اسی سے مدد طلب کرتا ، اسی پر بھروسہ کرتاہوں ،وہی میرا نگہبان اور کارساز ہے ،اے عبدالرحمن بن عمر اوزاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ! آپ مجھے نہ بھولنا اور اسی طرح کی نصیحتیں وقتاً فوقتا ًکرتے رہنا ان شاء اللہعزوجل میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی باتوں پر ضرور عمل کروں گا۔‘‘ میں نے کہا :’’اے خلیفہ ! ان شاء اللہ عزوجل میں بھی تمہیں ایسی باتیں بتا تا رہوں گا ۔‘‘
حضرت سیدنا محمد بن معصب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :’’ جب حضرت سیدنا امام اور زاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جانے لگے تو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع