30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جانتے کہ وہ جن کون ہے ؟ ہم نے عرض کی:’’ نہیں ‘‘ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :’’ وہ تم میں تھا ۔ ہم نے عرض کی وہ کون تھا؟ ‘‘آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :’’ مالک بن خزیم ہمدانی اپنے چند دوستوں کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوا ، دورانِ سفر جب وہ کسی مقام پر پہنچا تو اس نے اپنے دوستوں سے کہا:یہاں ٹھہرجاؤ! تم پانی کے حصول پر قادر ہوگئے ہو ۔ چنانچہ انہوں نے وہیں قیام کیا اور سو گئے رات کے آخری پہر جب چاند نکلا تو پہاڑ سے ایک اژدہا بڑی تیزی کے ساتھ رینگتا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ اور اہلِ قافلہ کے گرد چکرلگایا، اہلِ قافلہ میں سے ایک نوجوان اس اژدہے کو دیکھ رہا تھا ۔ اژدہا جب چکر لگا کر ایک ضعیف شخص کے پاس پہنچا ،تو اس نوجوان کو خوف لاحق ہوا کہ کہیں یہ اس بزرگ کوڈ س نہ لے، چنانچہ اس نے قریب ہی پڑا ہوا ڈنڈا اٹھایا اور اس پر حملہ کردیا۔ مگر نشانہ خطا ہوگیا ۔وہ بزرگ بھی جاگ گئے اور خوفزدہو کر کہنے لگے :’’کیا ہے؟‘‘ یہ اژدہاکہا ں سے نمودار ہوگیا ؟پھر اس نے قافلے والوں سے کہا: سوجاؤ ! تم نے پانی کے حصول پر قدرت حاصل کرلی ہے ۔وہ سوگئے اور پھر طلوعِ آفتا ب سے پہلے ان کی آنکھ نہ کھل سکی۔
طلوع آفتاب کے وقت وہ اٹھ کھڑے ہوئے او ران میں سے ہر شخص نے اپنی سواری کی لگا م پکڑی او رپانی کی تلاش میں نکل پڑے مگر وہ راستہ بھول گئے تھے ۔ جب اژدہے نے انہیں دیکھا تو پہاڑ پر سے بولا:’’ اے لوگو ! تمہارے سامنے اس وقت تک پانی نہیں آسکتا، جب تک تم آج کے دن ان تھکے ہوئے سواری کے جانوروں کی اچھی طر ح دیکھ بھال نہ کر لو۔ پھر جب ایسا کرلو تو دیکھنا کہ سامنے ٹیلے کے پیچھے پانی کا ایک چشمہ ہے ۔‘‘
چنانچہ وہ رکے رہے ۔پھرمطلوبہ جگہ پہنچے توو ہاں واقعی ایک چشمہ تھاجس کا پانی رکا ہوا تھا ۔ انہوں نے خود بھی پانی پیا ، اپنے جانوروں کو بھی پلایا، اور قافلہ دوبار ہ سوئے منزل چل دیا ۔ جب وہ ایک چھوٹی سی پہاڑی کے قریب پہنچے توکہنے لگے: اے ابو حزیم ! اگر اسی طر ح کا پانی یہاں بھی مل جائے تو کتنی بڑی خوش بختی ہے ۔ پھر وہ پہاڑی کے قریب ٹھہرگئے اور پانی کی تلاش میں نکلے اس مرتبہ پھر راستہ بھول گئے ۔ جب پہاڑی پر موجوداژدہے نے انہیں دیکھا تو پکار کرکہا : ’’اے اہلِ قافلہ! اللہ عزوجل میری طرف سے تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے ۔ اب میں تمہیں اپنی طرف سے الوداع کہتا ہوں اور (آخری ) سلام پیش کرتا ہوں۔احسان اور نیکی کاکام کرنے میں کسی کو ہرگز بے رغبتی نہیں ہونی چاہئے ، یقینا جو محتاج کو محروم رکھتا ہے وہ خود محروم ہے ۔ میں وہ اژدہا ہوں کہ بھٹکے ہوؤں کو راستہ بتا کر مصیبت سے نجات دلاتا ہوں ، اس پر میں شکر ادا کرتا ہوں اور یقینا شکر ادا کرنا اچھی خصلت ہے ۔ جو نیکی کاکام کرتا ہے جب تک وہ زندہ رہے اس کی ضرورت کا سامان ختم نہیں ہوتا، جبکہ برائی کا انجام برائی ہی ہے ۔‘‘
{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع