30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھوسا بھر دینا اورا سے ہمارے پاس بھجوا دینا ۔‘‘پھر با دشاہ نے خط پر مہر لگائی اور اس شخص کو دیتے ہوئے کہا :’’یہ خط لے کر فلاں علاقے کے گورنر کے پاس پہنچ جاؤ۔‘‘
با دشاہ کی عاد ت تھی کہ جب بھی وہ کسی کوکوئی بڑا اِنعام دینا چاہتا تو کسی گو رنر کے نام خط لکھتا اور اس شخص کو گورنر کے پاس بھیج دیتا وہاں اسے خوب اِنعام واِکرام سے نوازا جاتا۔ کبھی بھی با دشاہ نے سزا کے لئے کسی کو خط نہ لکھا تھا ۔آج پہلی مرتبہ بادشاہ نے کسی کو سزا دینے کے لئے گورنر کے نام خط لکھا ورنہ اس با دشاہ کے بارے میں مشہور تھا کہ جب کسی کو اِنعام دیتاتو اسے گو رنر کے پاس بھیجتا۔ بہر حال یہ شخص خط لے کر دربار شاہی سے نکلا اس بیچارے کو کیا معلوم کہ اس خط میں میری موت کا حکم ہے۔ یہ شخص خط لے کر گورنر کے پاس جا رہا تھا کہ راستے میں اس کی ملاقات اسی حاسد سے ہوگئی ۔اس نے پوچھا: ’’بھائی! کہا ں کا ارادہ ہے ؟‘‘
اس نے کہا :میں نے بادشاہ کو اپنا کلام سنایاتو اس نے مجھے ایک خط مہر لگا کر دیا اور کہا: ’’فلاں گورنر کے پاس یہ خط لے جاؤ ۔‘‘ میں اسی گو رنر کے پاس خط لئے جا رہا ہو ں۔‘‘ حاسد کہنے لگا:’’ بھائی! تویہ خط مجھے دے دے میں ہی اسے گو رنر تک پہنچا دوں گا۔ ‘‘چنانچہ اس شریف آدمی نے خط حاسد کے حوالے کر دیا ، وہ حاسد خط لے کر خوشی خوشی گو رنر کے دربار کی طر ف چل دیا، وہ یہ سو چ کر بہت خوش ہو رہا تھا کہ اس خط میں با د شاہ نے گو رنر کے نام پیغام لکھا ہوگا کہ’’ جو شخص یہ خط لے کر آئے اسے اِنعام واِکرام سے نوازا جائے ۔‘‘میری قسمت کتنی اچھی ہے، میں نے اس شخص کو جھانسا دے کر یہ خط لے لیا ہے اب میں مالا مال ہوجاؤں گا۔ وہ حاسد انہیں سوچو ں میں مگن بڑی خوشی کے عالم میں جھومتا جھومتا گو رنر کے دربار کی جانب جا رہا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وہ موت کے منہ میں جا رہا ہے اور جاتے ہی اسے قتل کردیا جائے گا ۔
بہر حال وہ گو رنر کے پاس پہنچا اور بڑے مو ٔدبانہ انداز میں بادشاہ کا خط گورنر کو دیا۔ گو رنر نے جیسے ہی خط پڑھا تو پوچھا: ’’اے شخص! کیا تجھے معلوم ہے کہ اس خط میں با دشاہ نے کیا لکھا ہے ؟‘‘ اس نے کہا: ’’با دشاہ سلامت نے یہی لکھا ہوگا کہ مجھے اِنعام واِکرام سے نوازا جائے او رمیری حاجات کو پورا کیا جائے ۔‘‘گورنر نے کہا : اے نادان شخص! بادشاہ نے اس خط میں مجھے حکم دیا ہے کہ’’ جیسے ہی یہ شخص خط لے کر پہنچے اسے ذبح کردینا او راس کی کھال اُتا ر کر اس میں بھوسا بھر دینا پھر اس کی لاش میرے پاس بھجو ادینا۔ ‘‘ یہ سن کر اس حاسد کے تو ہوش اُڑ گئے اور وہ کہنے لگا:’’ خداعزوجل کی قسم !یہ خط میرے بارے میں نہیں لکھا گیا بلکہ یہ تو فلاں شخص کے متعلق ہے، بے شک آپ با دشاہ کے پاس کسی قاصد کو بھیج کر معلوم کرلیں۔ ‘‘
گورنر نے اس کی ایک نہ سنی اور کہا :’’ ہمیں کوئی حاجت نہیں کہ ہم با دشاہ سے اس معاملہ کی تصدیق کریں با دشاہ کی مہر اس خط پر موجود ہے لہٰذا ہمیں با دشاہ کے حکم پر عمل کرنا ہوگا۔‘‘ اتنا کہنے کے بعد اس نے جلا د کو حکم دیا اور اس حاسد شخص کو ذبح کر کے اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع