30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اہمیت نہیں دیتے، ایسے لوگو ں کا علم حاصل کرنا اس لئے ہوتاہے کہ ہماری تعظیم کی جائے، ہماری بات کو اہمیت دی جائے لیکن جب یہ امراء کی محفل میں جاتے ہیں تو ان کا وقار گر جاتا ہے ۔یہ حق بات کہنے کی جرأ ت نہیں رکھتے، ہر وقت با دشاہوں اور اُمراء کی خوشنودی کے طالب ہوتے ہیں ، ایسے علماء ان بادشاہوں اور عوام الناس دو نوں کے لئے ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔‘‘
حضرت سیدنا ابو حازم علیہ رحمۃ اللہ الدائم کی یہ باتیں سننے کے بعد ابراہیم بن ہشام نے کہا :’’آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی حاجت بیان کریں ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو جس چیز کی ضرورت ہو وہ دی جائے گی۔‘‘
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ’’اے ابراہیم بن ہشام! میں اپنی حاجتیں اس پاک پروردگار عزوجل کی بارگاہ میں عرض کرتا ہوں جو زمین وآسمان کا مالک ہے، میری اُمیدوں کا مرکز صرف میرامالکِ حقیقی عزوجل ہے ۔میں اس کے علاوہ کسی اور کا محتاج نہیں ، میرا مالک عزوجل مجھے جو چیز بھی عطا فرماتا ہے میں اسے بخوشی قبول کرلیتا ہوں اور جس چیز کو مجھ سے روک لیتا ہے میں کبھی بھی اس کی شکایت نہیں کرتا نہ ہی ناشکری کرتا ہوں بلکہ میں اپنے پروردگار عزوجل سے ہر حال میں خوش ہوں۔اس کے علاوہ کسی چیز کو پسند نہیں کرتا۔ یہ دو نعمتیں میرے نزدیک بہت بڑا سرمایہ ہیں :(۱)… اللہ عزوجل کی رضا(۲)…زُہدوتقوی۔یہ دو نعمتیں مجھے ہر چیز سے محبوب ہیں۔‘‘
ابراہیم بن ہشام نے عرض کی:’’ اے ابو حازم (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) ! برائے کرم آپ ہمارے ہاں تشریف لایا کریں تا کہ ہم آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے اکتساب فیض کر سکیں ، اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہ آنا چاہیں تو میں خودحاضر ہوجایا کرو ں گا۔‘‘
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے فرمایا :’’ اے ابراہیم بن ہشام !تُو میرا خیال چھوڑدے اور میرے گھر بھی نہ آنا، اسی میں میری بھلائی ہے ، ہاں اتنا ضرور ہے کہ تُونیک اعمال کی طر ف را غب ہوجا، اگر نیک کام کرے گا تو کامیابی کی راہ پر گا مزن ہوجائے گا اور تجھے نجات حاصل ہوجائے گی ۔‘‘ اتنا کہنے کے بعدآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے تشریف لے گئے ۔
{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
حکایت نمبر142: حاسد کاعبرت ناک انجام
حضر ت سیدنا بکر بن عبداللہ المزنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی سے مروی ہے:’’ ایک شخص کی عادت تھی کہ وہ با دشاہوں کے درباروں میں جاتا اور ان کے سامنے اچھی اچھی باتیں کرتا با دشاہ خوش ہو کر اسے اِنعام واِکرام سے نواز تے اوراس کی خوب حوصلہ افزائی کرتے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع