دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Uyun ul Hikayaat (Hissa-1) | عیون الحکایات (حصہ:۱)

book_icon
عیون الحکایات (حصہ:۱)

بتایاکہ ہمارے قاضی صاحب دل برداشتہ ہو کر عہدئہ قضاء سے برطرف ہو گئے ہیں اورانہوں نے عدالت میں آنا چھوڑ دیا ہے۔یہ سن کرخلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃاللہ المجید نے فوراًآپ  رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کواپنے پاس بلوایا۔جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ وہاں پہنچے تو خلیفہ نے پوچھا:’’ بتاؤ! تم دل برداشتہ کیوں ہوگئے اور کیوں اس عہدہ سے برطرف ہونا چاہتے ہو؟‘‘ حضرت سیدنا عبید بن ظبیان علیہ رحمۃاللہ المنان نے سارا واقعہ کہہ سنایا کہ میں نے کئی مرتبہ انتہائی نرمی اورباادب طریقے سے عیسیٰ بن جعفر کو پیغام بھجوایا لیکن اس نے بالکل توجہ نہ دی ۔خلیفہ ہارون الرشید علیہ رحمۃ اللہ المجید نے جب قاضی صا حب کی یہ درد بھری داستان سنی تواسی وقت ابراہیم بن اسحاق سے فرمایا:’’ فوراً عیسیٰ بن جعفر کی رہائش گاہ پر جاؤ اور اس کے گھر کے تمام راستے بند کر دو کوئی شخص بھی نہ تو باہر آسکے اور نہ ہی اندر جا سکے۔ جب تک عیسیٰ بن جعفر اس مظلوم حق دار کا حق ادا نہیں کرے گا وہ اسی طرح نظر بند رہے گا۔ اگر وہ چاہتا ہے کہ اسے اس مصیبت سے آزادی مل جائے تو وہ خود چل کر قاضی کی عدالت میں جائے یا پھر اپنے کسی وکیل کو بھیج دے تاکہ عدالت میں شرعی فیصلہ ہو سکے اور حق واضح ہو جائے۔

            حکم پاتے ہی ابراہیم بن اسحاق نے50شہسواروں کو لے کر عیسیٰ بن جعفر کی رہائش گاہ کامحاصرہ کر لیا ۔تمام راستے بندکر دیئے، کسی کوبھی آنے جانے کی اجازت نہ دی گئی ۔

            جب عیسیٰ بن جعفر نے یہ حالت دیکھی تو وہ بہت حیران ہوا۔اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ مجھے اس طرح کیوں قید کیا جا رہا ہے؟شاید ہارون الرشید  رحمۃاللہ تعالیٰ علیہمجھے قتل کر واناچاہتا ہے لیکن کیو ں ؟ آخر میں نے ایسا کون سا جرم کیا ہے؟عیسیٰ بن جعفر بہت پریشان تھا،دوسری طرف اہل خانہ پریشان تھے، وہ چیخ وپکار کر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ عیسیٰ بن جعفر نے ان کو خاموش کرایااور ابراہیم بن اسحاق کے ساتھ آئے ہوئے سپاہیوں میں سے ایک کو بلایااور اس سے کہا:’’ ابراہیم بن اسحاق کو پیغام پہنچا دوکہ وہ مجھ سے ملاقات کرے میں اس سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔

            جب ابراہیم بن اسحاق اس کے پاس آیا تواس نے پوچھا:’’خلیفہ نے ہمیں اس طرح قید کیوں کروادیا ہے۔

                اس نے بتایا:’’ یہ سب قاضی عبیداللہ بن ظبیان (علیہ رحمۃ اللہ المنان) کی وجہ سے کیا گیا ہے انہوں نے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے،اور ایک شخص پرظلم کیا ہے۔‘‘جب عیسیٰ بن جعفر کو سارا معاملہ معلوم ہو گیا تواسے احساس ہو گیا کہ مجھے کس جرم کی سزا مل رہی ہے ،میں نے طاقت وعہدے کے نشے میں ایک مظلوم کی بددعا لی جس کی وجہ سے مجھے ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا،واقعی ظلم کا انجام برا ہوتا ہے اور مظلوم کی مدد ضرور کی جاتی ہے مجھے میرے جرم کی سزا مل گئی ہے۔پھر عیسیٰ بن جعفر نے اس شخص کو بلوایا جس سے پانچ لاکھ درہم لئے تھے، اسے وہ درہم واپس کئے، اس سے معذرت کی اور


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن