30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوگوں کو خلیفہ کا پیغام سنانے کے بعدربیع وہاں سے چلاگیا،میں بھی ساتھ تھا۔ کچھ ہی دیر بعد خلیفہ منصور ، ربیع اور مسیب کے ساتھ آیا۔میں بھی اس کے پیچھے تھا۔ خلیفہ کو دیکھ کر مجلس سے کوئی شخص بھی تعظیم کے لئے کھڑا نہ ہوا اور نہ ہی کسی نے سلام میں پہل کی بلکہ خود خلیفہ نے آتے ہی لوگو ں کوسلام کیا پھر وہ رسول کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکی قبرِ اَنور پر حاضر ہوا، صلوٰۃوسلام پیش کرنے کے بعد ربیع سے کہا :’’ اگر آج قاضی محمد بن عمران طلحی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے میرے ساتھ نرمی کا بر تا ؤ کیا اور میرے منصب کی وجہ سے کوئی غلط فیصلہ کیا تو میں اسے فورا ً معزول کردو ں گا ۔‘‘
پھر خلیفہ منصور ،قاضی کی عدالت میں آیا اس وقت اس کے جسم پر چادر تھی اور ایک تہبند تھا۔ جب حضرت سیدنا محمد بن عمران طلحی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے خلیفہ کو دیکھا تو ذرہ برابر بھی مرعوب نہ ہوئے اور اپنی نشست پربیٹھے رہے ۔خلیفہ منصور کی چادر اس کے کندھے سے گر گئی تو کسی نے بھی اسے چادر اٹھا کر نہ دی بلکہ اس نے خود ہی اپنی چادر اٹھائی۔
قاضی محمد بن عمران علیہ رحمۃ اللہ المنان نے مقدمہ کی کاروائی شر وع کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو اپنے سامنے بلایا۔ پھر مدعیین (یعنی دعوی کرنے والوں ) سے پوچھا :’’تمہارا خلیفہ پر کیا دعوی ہے؟‘‘ انہوں نے کہا:’’ ہمارے اُونٹوں کو جبراً چھینا گیا ہے۔‘‘ چنانچہ قاضی صاحب نے خلیفہ وقت کے خلاف ان لوگو ں کے حق میں فیصلہ کردیا اور بالکل رُورعایت سے کام نہ لیا اور خلیفہ سے کہا: ’’ان غریبوں کوان کا پورا پورا حق دیا جائے ۔‘‘ چنانچہ انہیں خلیفہ کی طر ف سے ان کے اُونٹ واپس کردیئے گئے ۔
اس فیصلہ کے بعد خلیفہ منصور اپنی قیام گاہ کی طرف روانہ ہوگیا ۔ قاضی صاحب لوگو ں کے مسائل حل کرنے میں مشغول رہے اور خلیفہ کی طرف بالکل تو جہ نہ دی۔ پھر خلیفہ نے ربیع کو بلایا اور کہا:’’ جاؤ اور قاضی صاحب کو بلا کر لا ؤ ۔‘‘ربیع نے کہا: ’’خدا عزوجل کی قسم !قاضی صاحب اس وقت تک آپ کے پاس نہیں آئیں گے جب تک مجلس میں موجود تمام فریا د یو ں کی فریاد نہ سن لیں۔ بہر حال میں چلا جاتاہوں اور آپ کا پیغام ان تک پہنچا دیتا ہوں۔‘‘
چنانچہ ربیع، قاضی محمد بن عمران علیہ رحمۃ اللہ المنان کے پاس آیااور انہیں خلیفہ منصور کا پیغام د ے کر واپس آگیا ۔ قاضی صاحب لوگوں کے مسائل سنتے رہے اور فیصلے کرتے رہے جب سب لوگ چلے گئے اور مجلس بر خاست ہوگئی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خلیفہ منصورکے پاس گئے ، اسے سلام کیا ۔ خلیفہ نے سلام کا جواب دیا اورقاضی صاحب سے یوں مخاطب ہوا :
اے مرد مجاہد!اے جرأ ت مند قاضی محمد بن عمران ! اللہ عزوجل تجھے تیرے دین کی طر ف سے تیری ذہانت، جرأت مندی اور اچھا فیصلہ کرنے پر اچھا بدلہ عطا فرمائے ، اللہ عزوجل تیرے حسب ونسب میں برکتیں عطا فرمائے پھر خلیفہ منصور نے خادم کو حکم دیا کہ دس ہزار دینار اس مردِ مجاہد قاضی کو ہماری طر ف سے بطور ِانعام پیش کئے جائیں۔ چنانچہ حضرت سیدنا محمد بن عمران علیہ رحمۃ اللہ المنان کو دس ہزار دینار بطور ِانعام پیش کئے گئے، پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے واپس اپنی رہائش گاہ کی طر ف چلے آئے ۔
{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع