دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Uyun ul Hikayaat (Hissa-1) | عیون الحکایات (حصہ:۱)

book_icon
عیون الحکایات (حصہ:۱)

فوراََ حکم کی تعمیل کی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بے خوف وخطرآگے بڑھے اور جاکر اس قیمتی خیمے کو آگ لگادی ،جب سالارِلشکر نے یہ دیکھا تو وہ بڑا غضب ناک ہوا او رآپے سے باہر ہوگیا۔ لوگوں نے اسے بتایا:’’یہ مدینہ منورہ کے قاضی ہیں اور انہیں خلیفہ ولید بن یزید نے قاضی بنا کر مدینہ شریف بھیجا ہے ، تم ان سے کوئی گستاخانہ انداز اختیار نہ کرنا، تمام اہل مدینہ ِان کی بہت عزت کرتے ہیں۔ لہٰذا عا فیت اسی میں ہے کہ تم خاموشی اختیار کرو۔‘‘ یہ سن کرسارا لشکر واپس شام کی طر ف چلا گیا اور کافی مال واسباب وہاں چھوڑ گیا۔ اہل مدینہ کے فقراء نے ان کا بچا ہوا مال واسباب لے لیا اور خوشی خوشی اپنے گھروں کو لوٹ آئے ۔

            جب اس واقعہ کی خبر خلیفہ ولید بن یزید کو ہوئی تو اس نے فوراََ حضرت سیدنا سعد بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم کو پیغام بھیجا تم اپنی جگہ کسی او رکو قاضی بناکر فورا ًملک شام پہنچو جیسے ہی تمہیں میرا پیغام پہنچے فوراََ چلے آنا۔

            حضرت سیدنا سعد بن ابراہیم علیہ رحمۃ اللہ العظیم کو جب خلیفہ کا پیغام پہنچا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے ایک بااعتماد شخص کو قاضی بنایا اور خود ملک شام کی جانب چل دیئے۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شام کی سر حد پر پہنچے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو شہر سے باہر ہی روک دیا گیااور کافی عرصہ تک آپ کو داخلہ کی اجازت نہ ملی ۔ بالآخر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا زادِ راہ ختم ہونے لگا اور اب وہاں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزید ٹھہرنا دشوار ہوگیا۔ایک رات آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد میں مصروف عبادت تھے کہ ایک شخص کو دیکھا کہ نشے کی حالت میں بد مست ہے او رمسجد میں گھوم رہا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا : ’’یہ شخص کون ہے ؟‘‘ لوگو ں نے بتا یا:’’ یہ خلیفہ ولید بن یزید کا ماموں ہے، اس نے شراب پی ہے اور اب نشے کی حالت میں مسجد کے اندر گھوم پھر رہا ہے۔‘‘

             یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بہت جلال آیا کہ یہ کتنی دیدہ دِلیری سے اللہ عزوجل کی نافرمانی کر رہا ہے اور اس کے پاک دربارمیں ایسی گندی حالت میں بے خوف گھوم پھر رہا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے غلام کودرہ لانے کا حکم فرمایا۔ غلام نے درہ (کوڑا ) دیا ۔‘‘آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے فرمایا:’’ مجھ پر لازم ہے کہ میں اس پر حدِ شرعی نافذ کروں چاہے یہ کوئی بھی ہو، اسلام میں سب برابر ہیں۔‘‘ چنانچہ آپ آگے بڑھے اور مسجد میں ہی اس کو اسّی(80) کوڑے مارے ۔

            پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے خچر پر سوار ہوئے اور مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہوگئے۔ وہ شخص اسّی(80)کوڑے کھانے کے بعد نہایت زخمی حالت میں خلیفہ ولید بن یزید کے پاس پہنچا ۔ خلیفہ نے جب اپنے ماموں کی یہ حالت دیکھی تو بہت غضبناک ہوا اور پوچھا:’’ تمہاری یہ حالت کس نے کی؟ کس نے تمہیں اِتنا شدید زخمی کیا ہے ؟‘‘ اس نے جواب دیا:’’ ایک شخص مدینہ منورہ سے آیا ہوا تھا، اس نے مجھے اسّی(80)کوڑے سزا دی اور کہا : ’’یہ سزا دینا اور حد قائم کرنا مجھ پر لازم ہے۔ ‘‘ اس نے مجھے مارا اورپھر مدینہ منورہ کی طر ف چلاگیا۔ ‘‘خلیفہ نے جب یہ سنا تو اس نے فوراََ حکم دیا کہ ہماری سواری تیار کی جائے، فوراََحکم کی تعمیل ہوئی اور خلیفہ کچھ سپاہیوں کو لے کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے تعاقب میں چلا اور ایک منزل پر جاکر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو روک لیا ۔

            خلفیہ ولید بن یزید نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کہا :’’ اے ابو اسحاق ! تُو نے میرے ماموں کے ساتھ یہ سلوک کیوں

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن