دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Uyun ul Hikayaat (Hissa-1) | عیون الحکایات (حصہ:۱)

book_icon
عیون الحکایات (حصہ:۱)

سے سرفراز فرما، بزرگانِ دین رحمہم اللہ تعالیٰ کی طر ح خوب عبادت وریا ضت کا ذوق وشوق عطافرما، ہر وقت اپنے اور اپنے مدنی حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے جلوؤں میں گم رہنے کی سعادت عطا فرما ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم)

 

 

۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷

 

 

حکایت نمبر122:                                        قتل کی دھمکی

            حضرت سیدنا علی بن الحسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں :’’ عبدالملک بن مروان نے ایک شخص کو حاکم بنا کر مدینہ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرْفاً  وَّتَعْظِیْمًابھیجاتا کہ وہ بیعت وغیرہ کا سلسلہ کر ے اورانتظامات سنبھالے ۔‘‘ چنانچہ میں حضرت سیدنا سالم بن عبداللہ، حضرت سیدنا قاسم بن محمد اور حضرت سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم اجمعین  کے پا س گیا او ران سے کہا :’’آؤ ہم سب اپنے شہر کے نئے حاکم کے پاس چلتے ہیں تا کہ اس سے ملاقات کریں اور اسے اِعتماد میں لیں۔‘‘

             چنانچہ ہم اس حاکم کے پاس گئے او راسے سلام کیا ، اس نے ہمیں اپنے پاس بلایا اور کہا:’’ تم میں ( حضرت سیدنا) سعید بن مسیّب (رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کون ہے ؟‘‘  حضرت سیدنا قاسم بن محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا:’’ حضرت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اُمراء سے تعلق نہیں رکھتے انہوں نے مسجد میں رہنے کو لازم کر لیا ہے ، وہ ہر وقت دربار الٰہی عزوجل میں مشغولِ عبادت رہتے ہیں ،دنیا دارو ں سے انہیں کوئی غرض نہیں ، وہ اُمراء کے درباروں میں جانا پسندنہیں فرماتے۔‘‘

             اس حاکم نے کہا :’’تم لوگ اسے میرے پاس آنے کی ترغیب دلاؤ اور اسے میرے پاس ضرور لے کر آنا، اللہ عزوجل کی قسم !اگر وہ نہ آیا تو مَیں اسے ضرور قتل کردوں گا ۔‘‘ اس حاکم نے تین مرتبہ قسم کھا کران الفاظ کے ساتھ قتل کی دھمکی دی ۔ حضرت سیدنا قاسم  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  فرماتے ہیں کہ اس ظالم حکمران کی یہ دھمکی سن کر ہم بہت پر یشان ہوئے اور واپس چلے آئے۔ مَیں سیدھا مسجد میں گیا اور حضرت سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ستون سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے ۔میں نے انہیں ساری صورتحال سے آگا ہ کیااور عرض کی : ’’حضور!میری تو رائے یہ ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر ہ کرنے چلے جائیں اور کچھ عرصہ مکۂ مکرمہ میں گزاریں تا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس شریر حاکم کی نظرو ں سے اوجھل رہیں اور معاملہ رفع دفع ہوجائے ۔ ‘‘

             آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا:’’ مَیں اس عمل میں اپنی نیت حاضر نہیں پاتا اور میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو خلوص نیت سے ہو اور صرف رضائے الٰہی عزوجل کے لئے ہو۔‘‘میں نے کہا:’’ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طر ح کریں کہ چند دن کے لئے کسی دو ست کے ہاں قیام فرمائیں اس طر ح جب کسی شخص کی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  پر نظر نہیں پڑے گی اور

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن