30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس نے میری طرف دیکھا اورمیرا نام لے کرکہا : ’’اے شفیق (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)!اوریہ آیتِ مبارکہ تلاوت کرنے لگا:
اِجْتَنِبُوْاکَثِیْرًامِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ
(پ۲۶،الحجرات: ۱۲ )
ترجمۂ کنز الایمان:بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔
اتنا کہنے کے بعد وہ پُر اسرار نوجوان مجھے وہیں چھوڑ کر رخصت ہوگیا ،میں نے اپنے دل میں کہا: ’’یہ تو بہت حیران کن بات ہے کہ اس نوجوان نے میرے دل کی بات جان لی ا ور مجھے میرا نام لے کر پکارا حالانکہ میری کبھی بھی اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔ یہ ضرور اللہ عزوجل کا مقبول بندہ ہے میں نے خواہ مخواہ اس کے بارے میں بدگمانی کی ،میں ضرور اس نوجوان سے ملاقات کروں گا اور معذرت کروں گا ۔‘‘ چنانچہ میں اس نوجوان کے پیچھے ہولیا لیکن کافی تگ ودو کے بعد بھی میں اسے نہ ڈھونڈ سکا ۔
پھر ہمارے قافلے نے مقام ’’ واقصہ‘‘ میں قیام کیاوہاں میں نے اس نوجوان کوحالتِ نماز میں پایا۔اس کا سارا وجود کانپ رہا تھا اور آنکھوں سے سیلِ اشک رواں تھے۔ میں نے اسے پہچا ن لیا اور اس کے قریب گیا تا کہ اس سے معذرت کروں ، وہ نوجوان نماز میں مشغول تھا ۔میں اس کے قریب ہی بیٹھ گیا نماز سے فراغت کے بعد وہ میری جانب متوجہ ہوا او رکہنے لگا:’’ اے شفیق! یہ آیت پڑھو:
وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ
وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اھْتَدٰی0(پ۱۶ ،طہ: ۸۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اور بے شک میں بہت بخشنے والاہوں اسے جس نے توبہ کی اور ایمان لایااور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا۔
اِتنا کہنے کے بعد وہ نوجوان پھر وہاں سے رخصت ہوگیا۔ میں نے کہا :’’ یہ نوجوان ضرور اَبدالوں میں سے ہے۔‘‘ دومرتبہ اس نے میرے دل کی باتوں کو جان لیا اور مجھے میرے نام کے ساتھ مخاطب کیا ۔میں اس نوجوان سے بہت زیادہ متاثر ہو چکا تھا۔
پھر جب ہمارے قافلے نے مقام ’’ربال‘‘ میں پڑاؤ کیا تووہی نوجوان مجھے ایک کنوئیں کے پاس نظر آیا۔ اس کے ہاتھ میں چمڑے کا ایک تھیلا تھا اور وہ کنوئیں سے پانی نکالنا چاہتا تھا۔اچانک اس کے ہاتھ سے وہ تھیلا چھوٹ کر کنوئیں میں گرگیا ، اس نوجوان نے آسمان کی جانب نظر اٹھائی اور عرض کی:’’ اے میرے پروردگارعزوجل! ’’جب مجھے پیاس ستا تی ہے تو تُو ہی میری پیاس بجھاتا ہے ، جب مجھے بھوک لگتی ہے تو تُو ہی مجھے کھانا عطا فرماتا ہے، میری اُمید گاہ بس تُو ہی تُو ہے، اے میرے پروردگار عزوجل ! میرے پاس اس تھیلے کے سوا اور کوئی شے نہیں ، مجھے میرا تھیلا واپس لوٹا دے ۔‘‘
حضرت سیدنا شفیق بلخی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں :’’ اللہ عزوجل کی قسم! ابھی اس نوجوان کے یہ کلمات ختم ہی ہوئے تھے کہ کنوئیں کا پانی اُوپر آنا شرو ع ہوگیا۔ اس نوجوان نے اپنا ہاتھ بڑھایا ، آسانی سے تھیلا نکا لااوراسے پانی سے بھرلیا کنوئیں کا پانی واپس نیچے چلا گیا ۔نوجوان نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگا۔ نماز سے فراغت کے بعد وہ ایک ریت کے ٹیلے کی طر ف گیا۔ میں بھی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع