دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Uyun ul Hikayaat (Hissa-1) | عیون الحکایات (حصہ:۱)

book_icon
عیون الحکایات (حصہ:۱)

’’ خلیفہ محمد بن سلمان آیا ہے۔‘‘ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’ اس سے جا کر کہو کہ اکیلا اندر آجائے۔ ‘‘

            چنانچہ خلیفہ محمد بن سلمان اکیلا ہی اندر داخل ہوا اور آکر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  کو سلام کیا۔ پھر آپ کے سامنے دو زانو بیٹھ گیا اور کہنے لگا :’’حضور! ایک بات بتائیں جیسے ہی میں نے آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  کو دیکھا مجھ پر رعب ودبدبہ طاری ہوگیا اور میں خوف کی سی کیفیت محسوس کر رہا ہوں ، اس میں کیا راز ہے ؟‘‘

             یہ سن کر حضرت سیدنا حماد بن سلمہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’میں نے حضرت سیدنا ثابت بنائی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  کوسنا ہے ،وہ فرماتے ہیں ، میں نے حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ ارشاد فرماتے سناکہ رسول کریم رء ُوف رحیم   صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم  کا فرمانِ عظمت نشان ہے :’’ بے شک جب عالم اپنے علم کے ذریعے اللہ عزوجل کی رضا چاہتا ہے تو ہر چیز اس سے ڈرتی ہے اور جو علم کے ذریعے دنیا کی دولت چاہتا ہے وہ (عالم)ہر چیز سے ڈرتا ہے ۔‘‘

(فردوس الأخبار للدیلمی، باب العین، فضل العالم، الحدیث۴۰۴۰،ج۲،ص۸۳تا۸۴)

            پھر محمد بن سلمان عرض کرنے لگا:’’ حضور! میں آپ (رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ) سے یہ مسئلہ دریافت کرنے آیا تھا کہ اگر کسی شخص کے دو بیٹے ہوں اور ایک اسے زیادہ محبوب ہو اور وہ ارادہ کر ے کہ اپنی زندگی میں ہی اپنے مال کا تیسرا حصہ اسے دے دے تو کیا اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے ؟ ‘‘توحضرت سیدنا حماد بن سلمہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  نے ارشاد فرمایا:’’ ہر گز ایسا نہ کرنا۔‘‘میں نے حضرت سیدنا ثابت بنائی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ  سے یہ حدیثِ پاک سنی ہے، حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار نامدار، مدینے کے تاجدار  صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم  کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: ’’اللہ عزوجل جب اپنے بندے کے ساتھ یہ ارادہ کرتا ہے کہ اس کے مال کی وجہ سے اسے عذاب نہ دے تو اس کی موت کے وقت اسے جائز وصیت کی تو فیق عطا فرمادیتا ہے ۔‘‘

(کنز العمال، کتاب الوصیۃ/قسم الأفعال، محظورات الوصیۃ، الحدیث۴۶۱۲۳،ج۱۶،ص۲۶۶)

             حضرت سیدنا حماد بن سلمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زبانی یہ حدیث مبارکہ سننے کے بعد محمد بن سلمان کہنے لگا : ’’حضور! اگر آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)  کی کوئی حاجت ہو تو ارشاد فرمائیں ؟‘‘

             آپ  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  نے فرمایا: ’’اگر تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس میں دین کا کچھ نقصان نہیں تووہ لے آؤ ۔‘‘ محمد بن سلمان نے کہا : ’’حضور !میں آپ کی بارگاہ میں چالیس ہزار درہم پیش کرتا ہو ں ، آپ  (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)  انہیں بطورِ نذرانہ قبول فرمالیں۔‘‘تو آپ  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  نے فرمایا:’’ اس دولت کو ان مظلوموں کی طرف لوٹا دے جن سے یہ ظلماً وصول کی گئی ہے۔‘‘ محمد بن سلمان نے کہا :’’ اللہ عزوجل کی قسم! جو رقم میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں یہ مجھے ورثے میں ملی ہے، میں نے اسے ظلماًحاصل نہیں کیا۔‘‘

           


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن