30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حال ہے تو سردارِمکۂ مکرمہ ،سلطانِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طاقت او راِختیار ات کا کیا عالم ہوگا ۔ اللہ عزوجل ہمیں حضورنبی ٔ کریم ، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمکی سچی غلامی عطا فرمائے اوران کے جلوؤں میں شہادت کی موت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
حکایت نمبر108: ٹوکریوں والانوجوان
حضرت سیدناابوعبداللہ بلخی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں :’’ بنی اسرائیل میں ایک نہایت ہی پاکباز حسین وجمیل نوجوان تھا جس کے حسن کی مثال نہ تھی، وہ ٹوکر یاں بنا کر بیچا کرتا۔ اسی طرح اس کی گزر بسر ہو رہی تھی ۔ ایک روز وہ ٹوکریاں بیچتا ہوا شاہی محل کے قریب سے گزرا۔ ایک خادمہ کی اس نوجوان پر نظر پڑی تو وہ فوراً شہزادی کے پاس گئی اور اسے بتایا کہ باہر ایک نوجوان ٹوکریاں بیچ رہا ہے، وہ اِتنا خوبصورت ہے کہ میں نے آج تک ایسا خوبصورت نوجوان نہیں دیکھا۔ یہ سن کر شہزادی نے کہا:’’ اسے میرے پاس بلا لاؤ۔‘‘خادمہ باہر گئی اور نوجوان سے کہا:’’اندرآجاؤ۔‘‘
(نوجوان سمجھا شایدانہیں ٹوکریاں چاہئیں ) پس وہ اس کے ساتھ محل میں داخل ہوگیا ۔ وہ اسے ایک کمرے میں لے گئی جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا اس خادمہ نے دروازہ بند کردیا ، پھر اسے دوسرے کمرے میں لے گئی اور اسی طر ح اس کا دروازہ بھی بند کردیا۔ جب وہ تیسرے کمرے میں پہنچا تو اس کے سامنے ایک خوبصورت نوجوان شہزادی موجود تھی، اس نے اپنا نقاب اُٹھایا ہوا تھا اور سینہ بھی عریا ں تھا ۔ جب نوجوان نے شہزادی کو اس حالت میں دیکھا تو کہنے لگا: ’’جو چیزتم نے خرید نی ہے جلدی سے خرید لو۔‘‘ شہزادی کہنے لگی:’’ میں نے تجھے کوئی چیز خریدنے کے لئے نہیں بلایا بلکہ مَیں تو تجھ سے قُرب چاہتی ہوں اور اپنی خواہش کی تسکین چاہتی ہوں ،آؤ اور میری شہوت کو تسکین دو۔‘‘ اس پاکباز نوجوان نے کہا :’’ اے شہزادی !تُو اللہ عزوجل سے ڈر۔‘‘ اس نیک نوجوان نے شہزادی کو بہت سمجھا یا لیکن وہ نہ مانی او ربار بار بُرائی کا مطالبہ کرتی رہی۔ پھراس نوجوان سے کہنے لگی :’’ اگر تُو نے میری با ت نہ مانی تو بادشاہ کو شکایت کردو ں گی کہ یہ نوجوان برائی کے اِرادے سے محل میں گھس آیا ہے پھر تجھے بہت سخت سزا دی جائے گی، تیری بہتری اسی میں ہے کہ تُو میری بات مان لے اور میری خواہش پوری کر دے ۔‘‘ نوجوان نے پھر اِنکار کیا اور اسے نصیحت کرنے لگا بالا ٓخر جب وہ باز نہ آئی تو اس عظیم نوجوان نے کہا :’’ میں وضو کرنا چاہتا ہو ں ، میرے لئے وضو کا انتظام کر دو۔‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع