30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب حضرت سیدنا عمر وبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگو ں کی یہ حالت دیکھی تو انہوں نے امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب خط لکھا اور انہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا ، جب حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت سیدنا عمر وبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط ملا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواباً لکھوا کر بھیجا:’’ تم نے بالکل سچ کہا کہ اِسلام بے ہودہ پُرانی رسموں کو مٹا دیتا ہے۔مَیں تمہاری طرف مکتوب میں ایک رقعہ بھیج رہا ہوں جب تمہارے پاس میرا یہ مکتوب اور رقعہ پہنچے تو تم اس رقعے کو دریا ئے نیل میں ڈال دینا۔‘‘ جب حضرت سیدنا فارو ق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مبارک مکتوب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملاتو اس میں ایک چھوٹا سا رقعہ بھی تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ رقعہ لیااوراسے پڑھنا شروع کیا ۔اس مبارک رقعے میں درج الفاظ کامفہوم یہ ہے:
اللہ عزوجل کے بندے امیر المؤمنین (حضرت سیدنا)عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)کی جانب سے مصر کے دریا’’نیل‘‘ کی طرف !
اما بعد !اے دریائے نیل! اگر تُواپنی مرضی سے جاری ہوتا ہے تو جاری مت ہو (ہمیں تیری کوئی حاجت نہیں ) اور اگر تجھے اللہ عزوجل واحد وقہارجاری فرماتا ہے تو ہم اس سے سوال کرتے ہیں کہ وہ تجھے جاری فرمادے۔‘‘
حضرت سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ رقعہ پڑھا اور دریائے نیل میں ڈال دیا جس وقت یہ رقعہ دریامیں ڈالا گیا اس وقت دریا بالکل خشک تھا اور لوگوں نے اس ملک کو چھوڑنے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن جب لوگ صبح دریائے نیل پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک ہی رات میں اللہ عزوجل نے (امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رقعہ کی بر کت سے) دریا میں سولہ گز پانی جاری فرمادیا اور اللہ عزوجل نے وہ رسمِ باطل مٹادی اور آج تک یہ رسم ختم ہے۔(دریائے نیل اس کے بعد آج تک خشک نہیں ہوا )
؎ چاہیں تو اشارو ں سے اپنے کایا ہی پلٹ دیں دنیا کی
یہ شان ہے خدمت گاروں کی سرکار کا عالم کیا ہوگا
( میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو!سبحان اللہ عزوجل ! اِسلام کتنا عظیم ہے کہ اس نے آکر مظلوموں کو ظلم سے نجات دلوائی، بے سہاروں کو سہارا دیا اوردینِ اسلا م ایسے عظیم اَحکام کا مجموعہ ہے کہ جن میں لوگو ں کی دنیا اور آخرت کی بھلا ئی ہے۔ اس حکایت سے معلوم ہوا کہ جو کوئی اللہ عزوجل کا ہوجاتا ہے ہر چیز ا س کے تا بع کردی جاتی ہے جو اپنے گلے میں نبی ٔ پاک ،صاحبِ لولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی غلامی کا پٹہ ڈال لیتا ہے وہ در حقیقت جہاں کا سردار بن جاتا ہے:۔
؎؎ مدینے کے گدا دیکھے ہیں دنیا کے امام اکثر
بدل دیتے ہیں تقدیریں محمد صلی اللہ تعالی کے غلام اکثر
ایسے عظیم لوگ اسباب پر نہیں بلکہ خالقِ اسباب پر نظر رکھتے ہیں۔ ان کا اللہ عزوجل پرتوکل بہت کامل ہوتا ہے۔ جب غلاموں کا یہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع