30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہو کہ میں نے کیا بُری حرکت کی ہے؟‘‘میری زوجہ نے کہا :’’ تُو نے اپنی ماں کو قتل کر دیا ہے اور اسے جلتے ہوئے تنور میں ڈال دیا ہے اور اب وہ جل کر کوئلہ بن چکی ہے۔‘‘
جب میں نے یہ بات سنی تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے دروازہ اُکھاڑ پھینکا او رتنور کی طرف لپکا ، جب تنور میں دیکھا تو میری والدہ جل کر کو ئلہ ہوچکی تھی ۔ میں یہ حالت دیکھ کر بہت افسردہ ہوااور اُلٹے قدموں ٹوٹے ہوئے دروازے کی طر ف بڑھا اپنا ہاتھ چوکھٹ پر رکھا اور اس ہاتھ کو کاٹ ڈالا جس سے میں نے اپنی ماں کو گھونسا مارا تھا ،پھر میں نے لوہا گر م کر کے اس ہاتھ کی ہڈی میں سوراخ کیا اور اس میں زنجیر ڈال کر گلے میں لٹکا لیا پھر اپنے دونوں پاؤں میں بھی بیڑی ڈال لی ۔ اس وقت میری ملکیت میں آٹھ ہزار دینار تھے وہ سب کے سب میں نے غروبِ آفتاب سے قبل صدقہ کردیئے۔26 لونڈیاں اور23غلام آزاد کئے اور اپنی تمام جائیداد اللہ عزوجل کے نام پر وقف کردی ۔
اب مسلسل چالیس سال سے میری یہ حالت ہے کہ دن میں روزہ رکھتا ہوں اور ساری ساری رات اپنے پر ور دگار عزوجل کی عبادت کرتا ہوں اور چالیس دن کے بعد کھانا کھا تاہو ں۔ صرف اِفطاری کے وقت تھوڑا سا پانی اور کوئی معمولی سی چیز کھالیتا ہوں۔ میں ہر سال حج کرنے آتا ہوں او رہر سال کسی عالم وزاہد کو میرے متعلق ایسا ہی خواب دکھایا جاتا ہے جیسا آپ کودکھایا گیا ہے ، یہ ہے میری ساری داستانِ عبرت نشان۔‘‘
حضرت سیدنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفَّار فرماتے ہیں : ’’یہ سن کر میں نے اس کے چہر ے کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا :’’ اے منحوس انسان! قریب ہے کہ جو آگ تجھ پر نازل ہونے والی ہے وہ ساری زمین کو جلا ڈالے۔ پھر میں وہاں سے ایک طرف ہوگیا اور ایک جگہ چھپ گیا تا کہ وہ مجھے نہ دیکھ سکے۔جب اس نے محسوس کیا کہ میں جاچکاہو ں تو اس نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا اور اللہ عزوجل سے اس طر ح مناجات کرنے لگا:
’’ اے غموں اور مصیبتو ں کو دور کرنے والے! اے مجبور اور پریشان حال لوگو ں کی دعائیں قبول کرنے والے !اے میری اُمیدوں کی لاج رکھنے والے !اے گہرے سمندروں کو پیدا کرنے والے! اے میرے پا ک پروردگار عزوجل ! اے وہ ذات جس کے دستِ قدرت میں تمام بھلائیاں ہیں ! میں تیری رضا چاہتا ہوں اور تیری ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں ، تُو اپنے عفو وکرم کے صدقے مجھے عذاب سے محفو ظ رکھ اور مجھے اپنی ناراضگی سے بچا ۔اے میرے پاک پرورد گار عزوجل !مَیں کما حقہ تیری تعریف نہیں کرسکتا،تُوایسا ہی ہے جیسا تُونے اپنی تعریف خود بیان فرمائی ،اے میر ے رحیم وکریم پر وردگار عزوجل !تُو میری اُمیدوں کی لاج رکھ لے، بے شک میں تجھ سے تیری رحمت کا طالب ہوں۔ (مجھے یقین ہے) کہ تُومیری دعا کو رد نہیں کرے گا۔ میں صرف تجھ ہی سے دعا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع