30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے لئے کافی تھا۔ پھر ہم وہاں سے رخصت ہو کر اپنی منزل کی طر ف چل دیئے ،جب ہماری واپسی ہوئی توہم اس راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے سے مدینہ منوّرہ پہنچے۔ کافی عرصہ گزر گیا اور جب حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے تو ان کے ایک وفد کے ساتھ مَیں دوبارہ سوئے یمن روانہ ہوا ، میں نے اپنے رفقاء کو اس بستی کے متعلق بتا یاکہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں ہم نے ایک عظیم الشان بستی دیکھی تھی، پھر میں نے ان کو وہ سارا واقعہ بتایا۔ یہ سن کران کاتَجَسُّسبڑھا اور ان میں سے ایک شخص نے کہا : ’’کیا ہی بہتر ہو اگر ہم بھی اس بستی کو دیکھ لیں۔‘‘
چنانچہ ہم اسی بستی کی طر ف چل دیئے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو میں اس جگہ کو دیکھ کر بہت حیران ہوا کیونکہ اب تو وہاں کا نقشہ ہی بدل چکا تھا ، اب وہاں عظیمُ الشان محل تھا نہ ہی اس کا بہترین سفید فر ش بلکہ وہاں ویرانی چھائی ہوئی تھی او رریت کے ڈھیر لگے ہوئے تھے، عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہوچکی تھیں ،چراگاہ میں جانور وں کا نام ونشان تک نہ تھا،بڑی بڑی خود رو گھاس نے ساری چراگاہ کو وحشت ناک بنادیا تھا ، تالاب میں پانی کا ایک قطرہ بھی نہ تھا ۔
الغرض! چند سال قبل جہاں ہر قسم کی زیب وزینت تھی اب وہا ں ویرانی چھائی ہوئی تھی، اب وہاں نہ تو خُدَّام تھے نہ ہی لونڈیاں۔ ہم سب اس منظر کو دیکھ کر محو حیرت تھے کہ ان تباہ وبرباد عمارتوں میں ہمیں ایک شخص نظر آیا۔ میں نے اپنے ایک رفیق کویہ کہتے ہو ئے بھیجاکہ ’’ہم اس شخص سے دُور ہی رہتے ہیں ، تم جاؤ اوروہاں کے حالات معلوم کر کے آؤ او ردیکھو ! یہ شخص کون ہے؟ ‘‘میرا دوست وہاں گیا اور کچھ ہی دیر بعد وہ خوف زدہ سا ہماری جانب پلٹا۔ میں نے پوچھا: ’’تم نے وہاں کیا دیکھا ہے کہ اتنے پریشان ہورہے ہو؟‘‘ وہ کہنے لگا:’’جب میں اس شخص کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایک بوڑھی اور اندھی عورت ہے،جب اس نے میری آہٹ محسوس کی تو کہنے لگی: تجھے اس کی قسم جس نے تجھے صحیح وسالم بھیجا ہے،میری آنکھوں کا نور تو ضائع ہوچکاتم جو بھی ہو میرے پاس آؤ (یہ سن کر میں وہاں سے واپس آگیاہوں )۔‘‘
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :پھر مَیں بوسیدہ اور ٹوٹی پھوٹی سیڑھیاں چڑھتا ہوا اس ویران عمارت میں پہنچا جہاں وہ بڑھیا موجود تھی۔ اس بڑھیا نے کہا: ’’تم مجھ سے کیا پوچھنا چاہتے ہو ؟‘‘ میں نے کہا :’’تُو کون ہے اور یہاں اس ویرانے میں تیرے ساتھ کون کو ن رہتا ہے؟ ‘‘یہ سن کر بڑھیا بولی : میرانام’’ عمیرہ‘‘ ہے اور مَیں اس بستی کے سردار ذویل کی بیٹی ہوں ، میرا باپ ایسا سخی اور فیاض تھا کہ راہ گیرو ں کو بلا بلا کر مہمان نوازی کرتا اور لوگ ہماری اس بستی میں قیام کیا کرتے تھے اور یہاں چند سال پہلے مہمانوں کی خوب ضیافتیں ہوا کرتی تھیں ،پھر اس بڑھیا نے یہ شعر پڑھا :
وَمِنْ مَعْشَرٍ صَارُوْا رَمِیْمًا اَبُوْہُمْ کَرِیْمٌ اَبُوْالْجِحَافِ بِالْخَیْرِذُوَیْلُ
ترجمہ: او روہ لشکر بوسیدہ وخراب بے یارو مدد گار ہوگئے جن کا باپ ذویل ایسا کریم تھاجو خیر کی طرف بہت رغبت کرتا تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع