30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہمیں اپنے علاوہ کسی کا محتاج نہ بنائے۔ ابھی میں دعا سے فارغ بھی نہ ہوا تھا کہ مسجد میں ایک حسین وجمیل نوجوان داخل ہوا ۔اس نے نہایت عمدہ کپڑے پہنے تھے، اس کے ساتھ ایک خادم تھا جس کے ہاتھ میں رومال تھا۔ اس نوجوان نے مسجد میں داخل ہوتے ہی پوچھا:’’ تم میں سے حسن بن سفیان(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کون ہے ؟ یہ سن کر میں نے سجدے سے سر اٹھایا اور کہا:’’میرانام حسن بن سفیان ہے، تمہیں مجھ سے کیا کام ہے ؟‘‘ وہ نوجوان بولا:’’ہمارے شہر کے حاکم ’’طولون‘‘ نے تمہیں سلام بھیجا ہے اور وہ اس بات پر معذرت خواہ ہے کہ تم ایسی سخت تکلیف میں ہو اوراسے معلوم ہی نہیں کہ تمہاری حالت فاقوں تک پہنچ چکی ہے، ہمارا حاکم اپنی اس کوتاہی پر آپ لوگوں سے معافی کاطلبگار ہے،اس نے آپ کے لئے یہ کھانا بھجوایا ہے،کل وہ خود آپ لوگوں کی خدمت میں حاضر ہوکر معذرت کرے گا، برائے کرم! آپ یہ کھانا قبول فرما لیں ، پھر اس نوجوان نے کھانا اور کچھ تھیلیاں ہمارے سامنے رکھیں جن میں ہم سب احباب کے لئے ایک ایک سو دینار تھے ، ہم سب یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔
میں نے اس نوجوان سے کہا: ’’یہ سب کیا قصہ ہے او رتمہارے حاکم کو ہمارے بارے میں کس نے خبر دی ہے؟‘‘تووہ نوجوان کہنے لگا:’’میں اپنے حاکم کا خادم خاص ہوں۔آج صبح جب میں اس کی محفل میں گیا تو اس کے پاس اور بھی بہت سے خدام اور درباری موجود تھے ، کچھ دیر بعد ہمارے حاکم’’طولون‘‘ نے کہا:’’ میں کچھ دیر خلوت چاہتا ہوں لہٰذا تم سب یہاں سے چلے جاؤچنا نچہ ہم سب اسے تنہا چھوڑکر اپنے اپنے گھروں کی طر ف پلٹ گئے ،میں گھر پہنچا اور ابھی میں بیٹھا بھی نہ تھا کہ امیر طولون کا قاصد میرے پاس آیا، اس نے آتے ہی کہا :’’ تمہیں امیر طولون بلا رہے ہیں ، جتنا جلدی ہوسکے ان کی بارگاہ میں حاضرہوجاؤ ۔‘‘میں بہت حیران ہوا کہ ابھی تو وہاں سے آیاہوں پھر ایسی کیا بات ہوگئی کہ مجھے طلب کیا گیا ہے بہر حال میں جلدی سے حاضر دربار ہوا جب میں اس کے کمرے میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ اکیلا ہی کمرے میں موجود ہے۔ اس نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے پہلو پر رکھا ہوا ہے اور شدید تکلیف کی حالت میں ہے۔ امیر طولون کے پہلو میں شدید درد ہو رہا تھاجیسے ہی میں ان کے پاس پہنچا تو مجھ سے کہنے لگے:’’کیا تم حسن بن سفیان اور ان کے رفیق طلبا ء کو جانتے ہو ؟‘‘ میں نے عرض کی:’’ نہیں۔‘‘
توکہنے لگے:’’فلاں محلہ کی فلاں مسجد میں جاؤ، یہ کھانا اور رقم بھی لے جاؤ اور بصد احترام ان لوگوں کی بارگاہ میں پیش کرنا، وہ دین کے طالب علم تین دن اورتین راتوں سے بھوکے ہیں ،او رمیری طرف سے ان سے معذرت کرنا کہ میں ان کی حالت سے ناواقف رہا حالانکہ وہ میرے شہر میں تھے میں اپنی اس حرکت پر بہت شرمندہ ہوں ،کل میں خود ان کی بارگاہ میں حاضر ہو کر معافی مانگوں گا۔‘‘اس نوجوان نے ہمیں بتایاکہ جب میں نے امیر طولون سے یہ باتیں سنیں تو میں نے عرض کی :’’حضور! آخر کیا واقعہ پیش آیا ہے اور آپ کو یہ کمر کی تکلیف یکدم کیسے ہوگئی حالانکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ بالکل ٹھیک ٹھاک تھے؟‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع