30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکایت نمبر76: حضرت سیدناابو مسلم خولانی قدِّس سرہ الربا نی کی کرامت
حضرت سیدنا عطاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ زمانے کے مشہور تابعی بزرگ حضرت سیدنا ابو مسلم خولانی قدّس سرّہ الرّبّانی کی زوجہ محترمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسے کہا:’’ ہمارے پاس آٹا بالکل ختم ہوگیا ہے،اور کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں۔‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے فرمایا:’’ کیا تیرے پاس کچھ رقم وغیرہ ہے جس سے آٹا خریدا جا سکے؟‘‘ تو اس نے عرض کی:’’ میرے پاس ایک درہم ہے جو اُون بیچ کر حاصل ہو اہے۔‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے فرمایا : ’’لاؤ وہ درہم مجھے دو، میں آٹا خرید لاتا ہوں۔‘‘
چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک درہم اور تھیلالے کر بازار کی طر ف گئے۔ جب دکان سے آٹا خرید نا چاہا تو اچانک ایک فقیر آگیااور اس نے کہا :’’ اے ابو مسلم خولانی !یہ درہم مجھ پر صدقہ کردو۔‘‘ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہوہاں سے پلٹے اور دو سری دکان پر پہنچے ، جیسے ہی آپ نے آٹا خرید نا چاہا دو بارہ وہی فقیر آگیا اور کہنے لگا:’’اے ابو مسلم خولانی!میں بہت مجبور ہوں ،یہ درہم مجھ پر صدقہ کردو۔‘‘ اسی طر ح وہ فقیر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پیچھے لگا رہا بالآخر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے وہ درہم فقیر کو دے دیا۔ اب سوچنے لگے کہ گھر والوں کو کیا جواب دوں گا، وہ تو خالی تھیلا دیکھ کر پریشان ہوجائیں گے۔
چنانچہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک بڑھئی کی دکان پرگئے اور وہاں سے تھیلے میں لکڑی کا برادہ اور مٹی بھری اور گھر کی طر ف چل دیئے ۔گھر پہنچ کر درواز ہ کھٹکھٹایا جیسے ہی دروازہ کھلاآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے وہ تھیلا گھر والوں کے حوالے کیا ،اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہگھر میں داخل ہوئے بغیر ہی واپس پلٹ گئے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہپریشان تھے کہ جب تھیلا کھولا جائے گا تو اس میں سے مٹی اور برادہ نکلے گااور گھر والے آٹا نہ ملنے کی وجہ سے بہت پر یشان ہوں گے ،اسی خوف وپریشانی کی وجہ سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہسارا دن گھر نہ گئے۔
جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی زوجۂ محترمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہانے تھیلا کھولا تو وہ نہایت ہی عمدہ آٹے سے بھرا ہوا تھا۔چنانچہ انہوں نے جلدی جلدی کھانا تیار کیا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکا انتظار کرنے لگیں۔ جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہرات گئے چپکے سے گھر میں داخل ہوئے توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی زوجۂ محترمہ فوراََ آپ کے لئے بہترین قسم کی روٹیاں لے کر آئی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہروٹیاں دیکھ کر حیران ہوئے،ا ورپوچھا:’’یہ روٹیاں کہا ں سے آئیں ؟‘‘آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی زوجۂ محترمہ نے کہا:’’ یہ اسی آٹے کی روٹیاں ہیں جسے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہلے کر آئے تھے۔‘‘یہ سن کرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہرونے لگے ،اور اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا کہ اس نے لاج رکھ لی اور مٹی کو عمدہ آٹے میں تبدیل کردیا۔
{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع