دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Uyun ul Hikayaat (Hissa-1) | عیون الحکایات (حصہ:۱)

book_icon
عیون الحکایات (حصہ:۱)

حکایت نمبر68:                              چرواہے کی حکیمانہ باتیں

            حضرت سیدنا نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :’’ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے ساتھ مدینہ منورہ کی ایک وادی میں گیا۔ ہمارے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے ۔گرمی اپنے جوبن پر تھی گویا سورج آگ بر سارہا تھا ۔ہم نے ایک سایہ دار جگہ میں دستر خوان لگایا اور سب مل کر کھانا کھانے لگے ۔ تھوڑی دیر بعد ہمارے قریب سے ایک چرواہا گزرا ، حضر ت سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اس سے فرمایا:’’ آیئے !آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمائیے ۔‘‘چرواہے نے جواب دیا: ’’میرا روزہ ہے ۔‘‘

             آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہنے اس سے فرمایا:’’ تواس شدید گرمی کے عالم میں سارا دن جنگل میں بکریاں چراتا ہے، تواتنی مشقت کا کام کرتا ہے اور پھر بھی تو نے نفلی روزہ رکھا ہوا ہے؟ کیاتجھ پر نفلی روزہ رکھنا ضروری ہے؟‘‘

            یہ سن کر وہ چرواہا کہنے لگا :’’کیا وہ وقت آگیا جن کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا گیا:

کُلُوْاوَاشْرَبُوْا ھَنِیْٓئًابِمَآ اَسْلَفْتُمْ

فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَۃِ0۲۹، الحآ قۃ:۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان:کھاؤاورپیؤ رچتاہوا ،صلہ اس کا جو تم نے گزرے دنوں میں آگے بھیجا۔

            حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما اس چرواہے کی حکیما نہ باتیں سن کر بڑے حیران ہوئے او راس سے فرمانے لگے: ’’ تم ہمیں ایک بکری فروخت کر دو ہم اسے ذبح کریں گے، اور تمہیں بکری کی مناسب قیمت بھی دیں گے۔‘‘ آپ ر ضی اللہ تعالیٰ عنہکی یہ بات سن کرو ہ چرواہا عرض گزار ہوا :’’ حضور! یہ بکریاں میری ملکیت میں نہیں بلکہ یہ میرے آقا کی ہیں ، میں تو غلام ہوں میں انہیں کیسے فروخت کر سکتاہوں ؟‘‘ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی امانت داری سے بہت متا ثر ہوئے ۔اور ہم سے فرمایا: ’’یہ بھی تو ممکن تھا کہ یہ چرواہا ہمیں بکری بیچ دیتا اور جب اس کا آقا پوچھتا تو جھوٹ بول دیتا کہ بکری کو بھیڑیا کھا گیا لیکن دیکھو یہ کتنا امین ومتقی چرواہا ہے ۔‘‘

            چرواہے نے بھی یہ بات سن لی۔ اس نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلا گیا، ’’اگر چہ میرا آقا مجھے نہیں دیکھ رہا لیکن میرا پر وردگار عزوجل تو مجھے دیکھ رہا ہے ،میرا رب عزوجل تو میرے ہر ہر فعل سے باخبر ہے۔‘‘

            حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس چرواہے کی باتوں اور نیک سیرت سے بہت متا ثر ہوئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس چرواہے کے مالک کے پاس پہنچے اور اس نیک چرواہے کو خر ید کر آزاد کردیا اور ساری بکریاں بھی خرید کر اس چرواہے کو ہبہ کردیں۔               {اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن