30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب یہ واقعہ اُم المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے بیان کیا گیا تو انہوں نے اس کی تصدیق فرمائی اور فرمایا:’’ ہم یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ اس اُمت میں ایک شخص ایسا ہوگا جو مرنے کے بعد بات کرے گا ۔‘‘
حضرت سیدنا ربعی بن خراش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں :’’میرا وہ بھائی سخت سردی کی راتو ں میں بہت زیادہ قیام کرتا، اور سخت گرمیوں کے دنوں میں ہم سے زیادہ رو زے رکھتا تھا ۔‘‘
{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
حکایت نمبر67: خونخواردرندوں کی وادی
اس حکایت کے راوی حضرت سیدنا جعفر السائح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہیں ، وہ فرماتے ہیں :’’حضرت سیدنا عامر بن عبدقیس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے زمانے کے عابدوں میں سب سے افضل تھے۔ انہوں نے اپنے اُوپر یہ بات لازم کرلی تھی کہ میں روزانہ ایک ہزار نوافل پڑھوں گا۔ چنانچہ وہ اشراق سے لے کر عصر تک نوافل میں مشغول رہتے پھر جب گھر آتے تو ان کے پنڈلیاں اور قدم متورّم(یعنی سوجھے ہوئے)ہوتے، ایسا لگتا جیسے ابھی پھٹ جائیں گے۔ اتنی عبادت کے باوجودآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی عاجزی کایہ عالم تھا کہ اپنے نفس کومخاطب کرکے کہتے:’’اے برائیوں پر ابھارنے والے نفس! توعبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے، خداعزوجل کی قسم !میں اتنے نیک اعمال کرو ں گا کہ تجھے ایک پل بھی سکون میسر نہ ہوگا اور تو بستر سے بالکل دور رہے گا، میں تجھے ہر وقت مصروف عمل رکھوں گا ۔‘‘
ایک مرتبہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک ایسی وادی میں تشریف لے گئے جس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ خونخوار درندوں کی آماجگاہ ہے۔ اس وادی میں ’’ حَمَمَہ‘‘ نامی ایک حبشی عبادت گزار بھی رہتا تھا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی وہاں رہنے لگے ۔ دونوں بزرگ اس ایک وادی میں رہتے لیکن ایک دوسرے سے ملاقات نہ کرتے ۔ حضرت سیدنا عامر بن عبد قیس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وادی کی ایک سمت میں رہتے اور حممہ عابد دوسری سمت میں رہتا۔ان دونوں کی عبادت کا یہ عالم تھا کہ جب فر ض نماز وں سے فارغ ہوجاتے تو نوافل پڑھنا شروع کردیتے۔ اسی طر ح ان دونوں بزرگوں کو اس ایک ہی وادی میں چالیس دن اور چالیس راتیں گزر گئیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع