30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کااراد ہ ہے؟‘‘ فرمانے لگے: ’’ان شاء اللہ عزوجل حج کاارادہ ہے۔‘‘ میں بہت حیران ہواکیونکہ اس دن ذوالحجۃ الحرام کی دوتاریخ تھی ۔میں نے پوچھا:’’ آپ حج کے لئے اب روانہ ہوئے ہیں حالانکہ ذوالحجۃ الحرام کی دو تاریخ ہوچکی ہے، آپ اتنے کم وقت میں حرمین شریفین کیونکر پہنچ پائیں گے ؟‘‘تو وہ بزرگ فرمانے لگے:’’ اللہ عزوجل جوچاہتاہے کرتاہے ،وہ ہرشے پر قادر ہے۔‘‘میں نے کہا:’’حضور! اگر آپ قبول فرمائیں تو میں بھی آپ کے ساتھ حرمین شریفین کی حاضری کے لئے چلوں۔‘‘ فرمایا: ’’جیسے تمہاری مرضی۔‘‘
چنانچہ میں نے اسی وقت ارادہ کرلیاکہ اس بزر گ کی صحبت ضرورحاصل کروں گااوراس کے ساتھ حج کرنے جاؤں گا۔جب رات ہوئی تو اس بزرگ نے مجھ سے فرمایا:’’ چلو!ہم اپنے سفر پر روانہ ہوتے ہیں۔‘‘میں سفر کی کچھ ضروری چیزیں لے کر ان کے ساتھ چلنے کوتیار ہوگیا۔انہوں نے میراہاتھ پکڑا اور ہم رات ہی کو بلخ سے روانہ ہوگئے۔ ہم نے رات کے کچھ ہی حصہ میں کافی فاصلہ طے کر لیا پھر ہم ایک گاؤں میں پہنچے تو مجھے ایک شخص ملامیں نے اسے چند ضروری اشیاء لانے کو کہا تو اس نے فوراً وہ چیزیں حاضر کردیں پھرہمیں کھاناپیش کیا۔ہم نے کھاناکھایا ،پانی پیااور اللہ عزوجل کاشکر اداکیا۔پھر اس بزرگ نے مجھ سے فرمایا:’’اٹھئے، پھر انہوں نے میراہاتھ پکڑا اورچل دیئے ہم منزل پر منزل طے کرتے جاتے۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہاتھاکہ زمین ہمارے لئے سمیٹ دی گئی ہے اور خود بخودہمیں کھینچ کر منزل کی طرف لے جا رہی ہے۔ ہم کئی شہروں اور بستیوں کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ جب بھی کوئی شہر آتاتو وہ بزرگ مجھے بتاتے کہ یہ فلاں شہر ہے، یہ فلاں جگہ ہے۔
جب ہم کوفہ پہنچے تو انہوں نے مجھ سے کہا:’’ تم مجھے رات کو فلا ں وقت فلاں جگہ ملنا۔‘‘اتناکہنے کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے ۔جب میں وقتِ مقررہ پر اس جگہ پہنچاتو وہ بزرگ وہیں موجو دتھے۔ انہوں نے مجھے دیکھاتو میراہاتھ پکڑا اور پھر منزل کی طرف چل دیئے۔ میں حیران تھاکہ اس بزرگ کی صحبت میں نہ تومجھے تھکاوٹ کا احساس ہو رہاتھا اور نہ ہی کسی قسم کی وحشت محسوس ہورہی تھی ۔ہماری منزل قریب سے قریب تر ہوتی جارہی تھی۔ پھر اس بزر گ نے فرمایا: ’’ اے ابراہیم! اب ہم اپنی عقیدتوں کے مرکز اورعُشَّاق کی آنکھوں کی ٹھنڈک ’’مدینہ منورہ ‘‘ کی نور بار فضاؤں میں داخل ہونے والے ہیں۔
ہم دھڑکتے دل کے ساتھ روضۂ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پرحاضر ہوئے اور درود وسلام کے نذرانے پیش کئے میرے دل کو کافی قرار نصیب ہوا ،میں روضۂ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی معطر ومعنبر فضاؤں میں گم ہو گیا۔
؎ ایسا گما دے ان کی وِلا میں خدا ہمیں ڈھونڈا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع