30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حکایت نمبر53: حضرت عمربن عبدالعزیزرحمۃاللہ علیہ کادورِخلافت
حضرت سیدناسہل بن یحییٰ المروزی علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں :’’خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کی وفات کے بعد جب حضرت سیدناعمر بن عبد العزیز علیہ رحمۃاللہ المجیدنے اسے دفن کردیااور قبرستان سے واپس آنے لگے توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کوشاہی سواری پیش کی گئی۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:’’یہ کیاہے ؟‘‘عرض کی گئی،’’ یہ وہ سواری ہے جس پر خلفاء سوار ہواکرتے ہیں چونکہ اب آپ(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) ہی ہمارے خلیفہ ہیں لہٰذا شاہی سوار ی حاضر خدمت ہے، قبو ل فرمائیے۔‘‘
یہ سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:’’ اسے مجھ سے دور کردو،میرے لئے میراخچر ہی کافی ہے۔ چنانچہ آپ نے شاہی سواری کو چھوڑا اور اپنے خچر پر سوار ہوگئے پھر ایک خادم آیا اور عرض کی:’’ حضور!چلئے ،میں آپ کے خچر کی لگام پکڑ کرساتھ ساتھ چلتاہوں۔‘‘ آپ نے اس سے بھی انکار فرمادیااور خود ہی اپنے خچر پر سوارہوکرروانہ ہوگئے اور لوگوں سے فرمایا:’’ تم مجھے عجیب وغریب مخلوق نہ سمجھومیں بھی تمہاری ہی طرح ایک عام مسلمان ہوں ، مجھے اپنے جیساہی سمجھو۔‘‘
سب لوگ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پیچھے پیچھے آرہے تھے، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسجد میں داخل ہوئے اور منبر پر چڑھ کر خطبہ دینے لگے ۔تمام لوگ جمع ہو گئے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاکلام سننے لگے ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرما یا:’’اے لوگو!میرے کندھوں پر خلافت کابارِگراں رکھ دیاگیاہے مگر میں اسے سر انجام دینے کی طاقت نہیں رکھتالہٰذا جس نے میری بیعت کی ہے میں اسے اختیار دیتاہوں کہ وہ میرے علاوہ جس کے ہاتھ پر چاہے بیعت کر لے میں یہ خلافت قبول نہیں کرتالہٰذا مسلمانوں میں سے تم جسے چاہو اپناخلیفہ مقرر کر لو۔‘‘جب لوگوں نے یہ سناتو ان کی چیخیں بلندہونے لگیں اورسب نے بیک زبان کہا:’’ اے عمر بن عبد العزیز (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)!ہم نے آپ ہی کوخلیفہ مقرر کیا،ہم آ پ(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)سے راضی ہیں ، ہم سب آپ ہی کی خلافت پر متفق ہیں۔ آپ اللہ عزوجل کانام لے کر اُمور خلافت سر انجام دیں ، اللہ عزوجل اس میں برکت دے گا۔‘‘جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے لوگوں کی یہ عقیدت دیکھی اور آپ کواس بات کا یقین ہوگیاکہ لوگ بخوشی میری خلافت قبول کرنے پر آمادہ ہیں تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اللہ عزوجل کی حمد وثناء کی اور حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود وسلام پڑھنے کے بعد لوگوں سے کچھ اس طرح مخاطب ہوئے:’’اے لوگو!میں تمہیں اللہ عزوجل سے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں ، تم تقوی اختیار کرو اور اپنی آخرت کے لئے اعمال صالحہ کرو ۔بے شک جوشخص آخرت کے لئے نیک اعمال کرے گااللہ عزوجل اس کی دُنیوی حاجات کوخود پورافرمائے گا۔
اے لوگو!تم اپنے باطن کی اصلاح کی کوشش کرواللہ عزوجل تمہارے ظاہر کی اصلاح فرمائے گا۔موت کوکثرت سے یاد کیا کرو اور موت سے پہلے اپنے لئے اعمالِ صالحہ کاخزانہ اکٹھا کرلو،موت تمام لذات ختم کردے گی۔ اے لوگو! تم اپنے آباؤاجداد کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع