30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتاہے اورمشکل ترین نیک اعمال اس کے لئے آسان ہوجاتے ہیں۔جب ان اخروی نعمتوں کی طرف ہرسمجھدارکادل مائل ہوتاہے توجس پروردگارعزوجل نے یہ نعمتیں بنائیں اورانہیں پاکیزہ وسرورکن بنایا وہ ذات اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اس کی طر ف رغبت کی جائے، اوراسی کی رضاکے لئے اعمال صالحہ کئے جائیں۔لہٰذاعقل مندلوگ مخلوق کی بجائے خالق کی طرف دل لگائے ہوئے ہیں ، اسی کی محبت کے اسیرہیں۔وہ پروردگارعزوجل انہیں اپنی محبت کے جام پلاتاہے اوریہ لوگ اپنی زندگی میں ہر وقت اس کی محبت کے پیاسے ہیں ،انہیں سیریابی ہوتی ہی نہیں ،وہ ہر وقت اپنے خالق حقیقی عزو جل کے عشق میں مست رہتے ہیں۔
پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوکر پوچھنے لگا:’’کیاتم ان باتوں کوسمجھ چکے ہوجومیں نے بیان کیں ؟‘‘میں نے کہا:’’اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، جوکچھ آپ نے بیان کیامیں وہ تمام باتیں سمجھ چکاہوں۔‘‘کہنے لگا:’’اللہعزوجل کاشکرہے کہ اس نے تمہیں یہ باتیں سمجھا دیں۔یہ کہتے وقت اس کے چہرے پرایک خوشی کی لہردوڑگئی،پھر مجھ سے کہا:’’تمہارے لئے وہ لوگ مشعلِ راہ ہیں جو اس کی محبت کے پیاسے ہیں اور وہ جامِ عشق سے سیرنہیں ہو تے،ان کے دلوں میں حکمت کے چشمے موجزن ہیں ، یہ لوگ بہت عقل مند و تیز فہم ہیں ، ان کی خواہشات انہیں گمراہ نہیں کرسکتیں اورنہ ہی کوئی انہیں اللہ عزوجل کی محبت سے غافل کر سکتاہے،اپنی مضبوطی اور دلیری میں یہ شیرکی طر ح ہیں ،اپنے توکل میں غنی ہیں ،مصیبتوں میں ثابت قدم رہنے والے ہیں ،مخلوق میں سب سے زیادہ نرم دل اور انیس ہیں ،شرم وحیا کے معاملے میں بہت شدید ہیں اور اپنے مقاصدمیں بہت شریف۔ نہ غرو ر وتکبر کرتے ہیں ، نہ ہی جھوٹی عاجزی کرتے ہیں۔ پس یہ لوگ اللہ عزوجل کے مخلص بندے اور مخلوق کے لئے چمکتے ہوئے چراغ ہیں۔
پھر مجھ سے کہا:’’اللہ عزجل ہمیں ان چند کلمات کا اچھا صلہ عطا فرمائے ۔‘‘ پھر اس نے سلام کیا اور جانے لگا تومیں نے کہا:’’میں آپ کی صحبت میں رہنا چاہتا ہوں۔‘‘مگراُس نے انکار کردیا اور کہا:’’میں تجھے یا د رکھوں گا تو مجھے یا د رکھنا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلا گیا، اور میں وہیں کھڑااسے دیکھتا رہا ۔
حضرت سیدنا بشر بن حارث علیہ رحمۃاللہ الوارث فرماتے ہیں :’’ جب حضرت سیدنا عیسٰی بن یونس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے میری ملاقات ہوئی اور میں نے انہیں یہ واقعہ سنایاتو وہ فرمانے لگے کہ ’’ اس نے تجھ سے محبت کا اظہار کیا ،وہ بہت نیک شخص ہے اور اس کا شمار بڑے بڑے اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ میں ہوتاہے، اس نے ایک پہاڑ پر رہائش رکھی ہوئی ہے ، صرف نماز جمعہ کے لئے شہر میں آتا ہے اور اس دن سوکھی لکڑیاں بیچتا ہے، ان سے جو رقم ملتی ہے وہ اسے پورے ہفتے کفایت کرتی ہے۔ مجھے تو تعجب ہے کہ اس نے تجھ سے بات چیت کی اورتو نے اس سے سنی ہوئی نصیحتو ں کو یاد کرلیا۔‘‘
{اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو۔۔اور۔۔ اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم}
۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷ ۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع