30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مناسخہ کے اصول
ورثا میں سے جو فوت ہو جاتا ہے اس کے سہام کو ”مَا فِى الۡيَد“ کہتے ہیں اور ما فی الید کو ہمیشہ اصل مسئلہ کے مقابل دوسرے کنارے پر لکھا جاتا ہے۔
فوت ہونے والے وارث کا جب مسئلہ بنائیں تو مسئلہ حل کرنے کے بعد اصل مسئلہ اور ما فی الید میں نسبت دیکھیں، اگر دونوں میں نسبت تماثل کی ہو تو مزید کسی ضرب تقسیم کی حاجت نہیں اور اگر اصل مسئلہ اور ما فی الید میں نسبت توافق/تداخل کی ہو دونوں کا وَفق نکال لیں گے، پھر اصل مسئلہ کے وَفق کو چار جگہ ضرب دی جائے گی۔
1۔بالمقابل لکھے گئے ما فی الید میں۔
2۔اوپر جہاں ما فی الید ہے اس میں۔
3۔اوپر والے اصل مسئلہ میں۔
4۔اوپر والے ورثا کے سہاموں میں۔
اور ما فی الید کے وَفق کو دو جگہ ضرب دی جائے گی۔
1۔بالمقابل لکھے گئے اصل مسئلہ میں۔
2۔نیچے والے ورثا کے سہام میں۔
اور اگر نسبت تباین کی ہو تو اصلِ مسئلہ کے کُل کو چار جگہ ضرب دی جائے گی۔
1۔بالمقابل لکھے گئے ما فی الید میں۔
2۔اوپر جہاں ما فی الید ہے اس میں۔
3۔اوپر والے اصلِ مسئلہ میں۔
4۔اوپر والے زندہ ورثا کے سہاموں میں۔
اور ما فی الید کے کُل کو دو جگہ ضرب دی جائے گی۔
1۔بالمقابل لکھے گئے اصل مسئلہ میں۔
2۔نیچے والے ورثا کے سہام میں۔
نوٹ: جتنے بطون بڑھتے جائیں اس میں یہ اضافہ ہوتا جائے گا کہ ہر نیچے والے اصلِ مسئلہ کے وفق یا کُل کو اوپر والے تمام اصلِ مسئلہ، تمام ما فی الید اور تمام زندہ ورثا کے سہاموں میں ضرب دیتے جائیں گے اور ما فی الید کے وَفق یا کُل کو بالمقابل لکھے گئے اصلِ مسئلہ اور نیچے والے ورثا کے سہاموں میں ضرب دیتے جائیں گے۔
اور ہر جگہ اصلِ مسئلہ اور ما فی الید میں نسبت دیکھنے کے وہی اصول ہیں جو اوپر بیان کیے گئے۔
نوٹ: ورثا کے سہام میں جو ضرب دینے کا بیان کیا گیا ہے وہ صرف زندہ ورثا کے سہام میں ضرب دی جائے گی۔
مثال: ایک عورت فوت ہوئی اس نے ورثا میں زید شوہر، کریمہ بیٹی، عظیمہ ماں چھوڑی۔ اس کے بعد زید شوہر کا انتقال ہو گیا۔ اس نے ورثا میں نئی زوجہ حلیمہ، عمرو باپ اور رحیمہ ماں چھوڑی۔ پھر کریمہ بیٹی فوت ہوئی اس نے ورثا میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع