30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جاتی ہے اگر اسلام لے آئے تو ٹھیک ورنہ سلطانِ اسلام (حاکم، قاضی) اسے قتل کر دے گا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اِرشاد فرماتے ہیں:
مَنۡ بَدَّلَ دِيۡنَهُ فَاقۡتُلُوۡهُ
جس نے اپنے دِین کو بدلا اس کو قتل کر دو۔(1)
البتہ مرتدہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اسے قید کیا جائے گا یہاں تک کہ اسلام لائے یا مر جائے۔
مرتد مورث اور وارث بننے کے احکام درج ذیل ہیں:
(1)جب مرتد اپنے اِرتداد پر طبعی موت مر جائے یا قتل کر دیا جائے یا وہ دار الحرب کے ساتھ لاحق ہو جائے یعنی دار الحرب چلا جائے اور قاضی اس کے لُحُوق کا حکم لگا دےگویا کہ وہ مرگیا تو اس نے زمانہ اسلام میں جو کچھ کمایا وہ اس کے مسلمان وُرثا کو ملے گا اور جو حالتِ اِرتداد میں کمایا وہ مال فئے ہے جو کہ مسلمانوں کے نفع کے لیے بیت المال میں رکھا جائے گا۔ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃُ اللہ علیہ کے نزدیک ہے۔
(2) جبکہ صاحبین یعنی امام محمد اور امام ابو یوسف رحمۃُ اللہ علیہما فرماتے ہیں: حالتِ اسلام اور حالتِ ارتداد دونوں زمانوں کا کسب یعنی مال اس کے مسلمان وُرثا کے لیے ہو گا کیونکہ اس نے جو اِعتقاد اپنایا ہوا ہے اس پر اس کودوام نہیں ہے بلکہ اس کو اسلام میں لوٹ آنے پر مجبور کیا جائے گا اس لیے اس کے حق میں حکمِ اسلام ہی معتبر ہو گا۔(2) امام شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حالتِ اسلام اور حالتِ اِرتداد دونوں زمانوں کا کسب یعنی مال بیت المال میں رکھا جائے گا۔(3)
(3) جو مال اس نے دار الحرب سے لاحق ہونے کے بعد کمایا تو وہ بالاجماع مالِ فئے ہے۔
(4) اگر عورت مرتدہ ہو تو اس کی تمام کمائی یا کسب خواہ کسی زمانے کا ہو اس کے مسلمان وُرثا کو ملے گا۔
نوٹ: مذکورہ احکام مرتد کے مورِث بننے کے تھے۔
(5)مرتد کے وارث بننے کا حکم یہ ہے کہ مرتد مرد یا عورت کسی مسلمان یا کافر یا مرتد کے وارث نہیں ہوں گے، البتہ ایک صورت یہ ہے کہ اگر پورے علاقے والے اکٹھے مرتد ہو جائیں تو وہ ایک دوسرے کے وارث بنیں گے۔
[1] ابن ماجہ، ابواب الحدود، باب المرتد عن دینہ، ص 445، حدیث: 2535۔
[2] شریفیہ شرح سراجیہ، ص 11، 12۔
[3] رد المحتار، کتاب الفرائض، 10/507 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع