30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : اگر کسی نے زراعت پر قادر ہونے کے باوجود فصل کاشت نہیں کی تو پیداوار نہ ہونے کی بنا پراس پر عشر کی ادائیگی واجب نہیں کیونکہ عشر زمین پر نہیں اس کی پیداوار پر واجب ہوتا ہے۔( ردالمحتار، کتاب الزکوٰۃ ، باب العشر ، ج۳، ص۳۲۳)
سوال : اگر کسی وجہ سے فصل ضائع ہو گئی تو عشر واجب ہو گا ؟
جواب : کھیت بویا مگر پیداوار ضائع ہو گئی مثلاًکھیتی ڈوب گئی یا جل گئی یا سردی او ر لُوسے جاتی رہی توان سب صورتوں میں عشر ساقط ہے، جب کہ کل جاتی رہی اوراگرکچھ باقی ہے تو اس با قی کا عشر لیں گے اور اگرجانور کھا گئے تو (عشر)ساقط نہیں اور (عشر)ساقط ہو نے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ اس کے بعد اس سال کے اندر اس میں دوسری زراعت تیار نہ ہو سکے اور یہ بھی شرط ہے کہ توڑنے یا کاٹنے سے پہلے ہلاک ہو ورنہ ساقط نہیں ۔(ردالمحتار، کتاب الزکوٰۃ ، ج۳، ص۳۲۳)
سوال : عشر کسے دیا جائے ؟
جواب : عشر چونکہ کھیت کی پیداوار کی زکوۃ کا نام ہے ، اس لئے جن کو زکوۃدی جاسکتی ہے ان کو عشر بھی دیا جاسکتا ہے۔
(الفتاوی الخانیہ، کتاب الزکوۃ، فصل فی العشر فی مایخرجہ الارض ، ج۱، ص۱۳۲)
ان لوگوںکو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے :
(۱)فقیر (۲)مسکین (۳)عامل (۴) رِقاب (۵)غارِم (۶)فی سبیل اللہ (۷)ابن السبیل یعنی مسافر۔(الفتاوی الھندیہ ، کتاب الزکوۃ ، الباب السابع فی المصارف ، ج۱، ص۱۸۷)
فقیر : وہ جو مالک ِنصاب نہ ہو ۔مالک ِ نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سونا، یاساڑھے باون تولے چاندی، یا اتنی مالیت کی رقم، یا اتنی مالیت کا مالِ تجارت ہو ، یا اتنی مالیت کا ضروریات ِ زندگی سے زائد سامان ہو اور اس پر اللہ تَعَالٰی یا بندوں کا اتنا قرض نہ ہو کہ جسے ادا کر کے ذکرکردہ نصاب باقی نہ رہے ۔
(الفتاوی الھندیہ ، کتاب الزکوۃ ، الباب السابع فی المصارف ، ج۱، ص۱۸۷)
مدینہ : ضروریاتِ زندگی سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی عمومًاانسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزر اوقات میں شدید تنگی ودشواری محسوس ہوتی ہے جیسے رہنے کا گھر ، پہننے کے کپڑے ، سواری ، علم دین سے متعلق کتابیں اور پیشے سے متعلق اوزار وغیرہ ۔اللہ تَعَالٰی کے قرض سے مراد سابقہ زکوٰۃ یا قربانی واجب ہونے کے باوجود نہ کرنے کی صورت میں جانور کی قیمت صدقہ کرنا ہے ۔
مسکین : وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں تک کہ وہ کھانے اور بدن چھپانے کے لئے اس کا محتاج ہے کہ لوگو ں سے سوال کرے۔ (المرجع السابق)
عامل : وہ ہے جسے بادشاہ اسلام نے زکو ۃ اور عشر وصول کرنے کے لئے مقرر کیا ہو ۔(المرجع السابق، ص۱۸۸)
مدینہ : صدر الشریعہ، بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبہار شریعت میں فرماتے ہیں کہ’’ عامل اگرچہ غنی ہواپنے کام کی اجرت لے سکتا ہے اور ہاشمی ہو تو اس کو مال زکوۃ میں سے دینا بھی ناجائز اور اسے لینا بھی ناجائز ، ہاں اگر کسی اور مَد(یعنی ضمن)میں دیں تو لینے میں حرج نہیں ۔(لیکن فی زمانہ شرعی عامل موجود نہیں ہیں ) (بہارشریعت ، حصہ ۵، ص۵۷)
رِقاب : سے مراد مکاتب غلام ہے۔مکاتب اس غلام کو کہتے ہیں جس سے اس کے آقا نے اس کی آزادی کے لئے کچھ قیمت ادا کرنا طے کی ہو ۔ فی زمانہ رِقاب موجود
نہیں ۔(المرجع السابق)
غارِم : سے مراد مقروض ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ اسے نکالنے کے بعد زکوٰۃ کا نصاب باقی نہ رہے اگر چہ اس کا دوسروں پر قرض باقی ہو مگر لینے پر قدرت نہ رکھتا ہو ۔
(الدر المختار مع ردالمحتار، کتاب الزکوۃ ، باب المصر ف ، ج۳، ص۳۳۹)
فی سبیل اللہ : یعنی راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرنا، اس کی چند صورتیں ہیں ۔
(۱)کو ئی شخص محتاج ہے اور یہ جہاد میں جانا چاہتا ہے اس کے پاس سواری اور زادِراہ نہیں ہیں تو اسے مالِ زکوۃ دے سکتے ہیں کہ یہ راہِ خدا عزوجل میں دینا ہے اگر چہ وہ کمانے پر قادر ہو ۔
(۲)کو ئی حج کے لئے جانا چاہتا ہے اور اس کے پاس زادِراہ نہیں اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں لیکن اسے حج کے لئے لوگوں سے سوال کرنا جائز نہیں ۔
(۳)طالب ِعلم ، علمِ دین پڑھتا ہے یا پڑھنا چاہتا ہے اس کو بھی دے سکتے ہیں کہ یہ راہِ خداعزوجل میں خرچ کرنا ہے بلکہ طالب ِعلم سوال کر کے بھی مال زکوۃ لے سکتا ہے اگرچہ وہ کمانے پر قدرت رکھتا ہو ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع