30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیش لفظ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ؕ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ
دینی مسائل و احکام شرع کی بنیاد قرآن و حدیث ہے ۔ بہت سے دینی احکام قرآن و حدیث میں واضح اور صریح انداز میں بیان فرما دیئے گئے ، لیکن کئی مسائل ایسے ہیں جو ائمہ مجتہدین و فقہائے کرام نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اجتہاد کر کے بیان فرمائے۔ قرآن و حدیث میں بعض اوقات کسی کام کے کرنے کا حکم صیغہ امر کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے ، لیکن یہ حکم کس درجے کا ہے؟ اس کو کرنا لازم ہوگا یا لازم نہیں؟اس کی پہچان مجتہد و فقیہ کو ہی ہوتی ہے۔ یونہی نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سنت کا معاملہ ہے کہ احادیث روایت کرنے والے راوی مختلف انداز سے روایت بیان کرتے ہیں ۔ کبھی وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، کبھی کہتے کہ یہ کام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ اب کس لفظ و انداز سے کس طرح کا حکم ثابت ہوگا ؟ آیا اس فعل کو سنت کہا جائے گا یا نہیں ؟ اور سنت کہا جائے گا تو کیا یہ سنت مؤکدہ ہوگی یا نہیں ؟یہ مجتہد و ماہر فقیہ ہی پہچان پاتا ہے۔
یقیناً اجتہاد کے ذریعے مسائل واحکام شرعیہ کا استنباط و استخراج ایک مشکل ترین کام ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں ، بلکہ یہ ان کا ہی حصہ ہے جن کو اللہ تعالی نے توفیق عطا فرمائی اور ہمارے فقہائے کرام نے اس طرح کے سینکڑوں و ہزاروں مسئلے اپنی کتب فقہ میں بیان کر کے ہمارے لئے آسانی کر دی ہے۔ لیکن کہیں کہیں پھر بھی کوئی ایسا مسئلہ یا نئی صورت سامنے آجاتی ہے کہ جہاں ہمیں حکمِ شرع کی نوعیت واضح انداز سے کتب فقہ و کلام فقہاء میں نظر نہیں آتی ۔ ایسے مواقع پر بہت زیادہ تلاش و جستجو، فقہائے کرام کے کلام میں خوب غور و خوض ، مسئلے کی مختلف جہتوں کا احاطہ اور اس کی فقہی نظائر پر بھر پور توجہ کرنے کے بعد آدمی ان فقہائے کرام کے کلام کی برکت سے صحیح نتیجہ و حکم شرع تک پہنچ جاتا ہےلیکن یہ مراحل طے کرنے میں اس کو بہت محنت و اخلاص و توفیق الہی کی حاجت رہتی ہے۔
آپ کے ہاتھو ں میں جو کتاب موجود ہے اس کتاب کو لکھنے کی وجہ بھی اسی طرح کے دو مسئلےبنے ۔وہ دو مسئلے یہ تھے:
( 1)وضو میں انگلیوں کا خلال کرنے کا حکم۔
( 2)داڑھی کے خلال کا حکم۔
عام طور پر کتب فقہ میں یہ تو بیان کیا جاتا ہے وضو میں انگلیوں کا خلال سنت ہےلیکن یہ سنت کس درجے کی ہے ؟ یعنی مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ ؟اکثر کتابوں میں اس سنت کے مؤکدہ ہونے یا غیر مؤکدہ ہونے کی وضاحت نہیں ہوتی اور بعض کتابوں میں اس کے مؤکدہ ہونے کاتذکرہ ہے، لیکن بہر حال یہ ایک تحقیق طلب بات تھی ۔
یونہی وضو میں داڑھی کے متعلق فقہائے کرام بیان فرماتے ہیں کہ ”داڑھی کے بال گلے کی طرف دبانے سے جس قدر بال چہرے کے دائرے میں آئیں گے وضو میں ان کا دھونا بہر صورت ضروری ہے، چاہے داڑھی گھنی ہو یا نہ ہو ۔ ہاں فرق یہ ہے کہ داڑھی کے بال اگر گھنے نہ ہوں تو چہرے کی جلد تک پانی پہنچانا بھی ضروری ہے اور اگر گھنے ہوں یعنی چہرے کی جلد نظر نہ آتی ہو تو پھر چہرے کی جلد یا بالوں کی جڑوں کا دھونا ضروری نہیں۔اور جو بال چہرےکے دائرہ سے نکل جائیں اور نیچے لٹکے ہوں، ان کو وضو میں دھونا فرض نہیں بلکہ ان کا مسح کرنا اور خلال کرنا سنت ہے۔ہاں کوئی دھو لے تو مستحب ہے۔ “
( ماخوذ ازفتاوی رضویہ،جلد 1،صفحہ214، جد الممتار، جلد1،صفحہ142وغیرہ)
اب یہاں جو داڑھی کے لٹکے ہوئے بالوں کے خلال کو سنت کہا گیا تو اس سنت سے کونسی سنت مراد ہے یعنی مؤکدہ یا غیر مؤکدہ ؟ اس کی صراحت کتب فقہ میں موجود نہیں تھی۔
تو ان دونوں سنتوں کا حکم واضح کرنے کے لئےاستاذ محترم مفسر قرآن و شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا مفتی محمد قاسم عطاری دام ظلہ العالی نے مجھےحکم ارشاد فرمایا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ سنت کا حکم واضح کرنے کے ساتھ ساتھ خلال سے متعلق دیگر مسائل بھی لکھ دوں ، تاکہ یہ سارے مسائل رسالے کی شکل میں شائع کیے جا سکیں ،تو اس حکم پر راقم الحروف نے یہ مسائل لکھے جن کی تفصیل آپ اس رسالے میں دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہماری اس کوشش و محنت کو قبول فرمائے اور ہمارے لئے ذریعہ نجات و ذخیرہ آخرت بنائے۔
محمد ساجد عطاری
5 شعبان المعظم، 1443ھ بمطابق9 مارچ، 2022ء
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع