دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ameer e Ahle Sunnat Ka Umrah Maa Madinay Pak Ki Haazri 2022 | امیر اہل سنت کا عمرہ مع مدینہ پاک کی حاضری 2022

Adaab e Madina Aur Bargha e Risalat Mein Hazri Ka Adab

book_icon
امیر اہل سنت کا عمرہ مع مدینہ پاک کی حاضری 2022
            

آدابِ مدینہ

اے عاشقانِ رسول!وہ مبارک مقام بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم جہاں کی حاضری کے آداب قرآنِ کریم میں بیان فرمائے گئے ہیں۔امامِ عشق و محبت ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں:امیر ُالمُؤمنین(حضرتِ)عمر رضی اللہُ عنہ نے روضۂ انور کے پاس کسی کو اونچی آواز سے بولتے دیکھا، فرمایا: کیا اپنی آواز نبی کی آواز پر بُلند کرتا ہے، اور یہی آیت تلاوت کی : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (پ 26، الحجرات :2) ترجمۂ کنز الایمان: ”اے ایمان والو اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے۔‘‘ ( فتاوی رضویہ،15/169) اَدب گاہے سْتْ زیرِ آسماں اَزْ عرش نازُک تَر نَفَسْ گُمْ کَرْ دَہْ مِی آیَدْ جُنید وبَایَزِید اِیں جا یعنی آسمان کے نیچے،عرشِ بریں سے نازک ایک ایسی بارگاہِ ادب و ناز ہے جہاں جنیدِ بغدادی اور بایزید بسطامی رحمۃُ اللہِ علیہما جیسے بڑے بڑے اولیائے کرام اونچی آواز سے سانس بھی نہیں لیتے ۔ پیارے پیارے اسلامی بھائیو! عاشقِ مدینہ ،امیرِ اہلِ سنّت کے مدینہ ٔ پاک میں ادب و تعظیم کے واقعات پر بات کی جائے تو کتاب بن جائے۔آپ کے قافلے میں چند بچے (1)بھی تھے ۔شہرِ مدینہ کے آداب بیان کرتے ہوئے سفر شروع کرنے سے قبل آپ نے بچوں کو راہِ مدینہ کے آداب بیان کئے جو کچھ تبدیلی کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں،اس میں خاص طور پر اُن والدین کے لئے بڑا دَرس ہے جو سفرِ حَرَمینِ طَیِّبَین ، مسجدُ الحرام شریف، مدینۃُ الْمُنَوَّرہ اور مسجدِ نبوی شریف وغیرہ مُقَدَّس مقامات پر اپنے ساتھ ناسمجھ چھوٹے بچے لے کر جاتے ہیں ۔اپنے بچوں کو ان بابرکت مقامات پر لے جانے سے قبل یہاں کے آداب لازمی سکھائیے تاکہ ان کے دل میں ابھی سے ان مُقَدَّس مقامات کی عظمت و شان بیٹھ جائے۔ سنبھل کر پاؤں رکھنا زائرو! شہرِ مدینہ میں کہیں ایسا نہ ہو سارا سفر بیکار ہو جائے

امیرِاہلِ سنّت کی ہمسفر بچوں کو نصیحتیں

پیارے بچو!سفرِ مدینہ شروع ہونے والا ہے۔جب مدینۂ پاک کی ٹرین میں بیٹھیں گے تو قفلِ مدینہ لگا لیجئے یعنی فضول گفتگو،ہنسی مذاق وغیرہ نہیں کرنی ،کوئی ضروری بات ہو تو اپنے ابو سے کر لیجئے۔ بار بار پوچھنا گاڑی کہاں پہنچی؟کتنی دیر لگے گی؟ وغیرہ سوالات نہیں کر نے، کیونکہ سفرِ مدینہ میں مزا ہی مزا ہے۔نعتیں پڑھیں،دُرود ِ پاک پڑھیں،ذکرُ اللہ کرتے رہیں۔ میں راہِ مدینہ کے قُربان جاؤں کہ اِس میں سُرور اور مزہ ہی مزہ ہے مدینے میں ”قفلِ مدینہ“ لگاؤں کرم آپ کیجے ارادہ مِرا ہے (وسائلِ بخشش، ص 442) مدینۂ پاک میں کوئی چیز زور سے نہیں رکھنی بلکہ بالکل آہستہ سے رکھنی ہے کہ آواز پیدا نہ ہو۔اگر عشقِ رسول میں رونا آتا ہے تو خدا کی قسم! یہ بہت بڑی سعادت ہے ۔ رونے والی آنکھیں مانگو ،رونا سب کا کام نہیں ذکرِ محبت عام ہے لیکن سوزِ محبت عام نہیں یادِ نبیِ پاک میں روئے جو عمر بھر مولیٰ مجھے تلاش اُسی چشمِ تر کی ہے اللہ پاک!ہمیں مدینۂ پاک کا ادب نصیب کرے اور مدینۂ پاک میں سبز سبز گنبد کی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاؤں میں،آقا کے جلوؤں میں، کلمہ پڑھتے ہوئے،شہادت کی موت نصیب فرمائے،جَنَّتُ الْبقِیع میں مَدْفن نصیب کرے۔ اٰمین بِجاہِ خاتَمِ النَّبِیّیْن صلّی اللہُ علیهِ واٰلهٖ وسلّم

سفرِ مدینہ کا آغاز

مکۂ پاک سے سُوئے مدینہ سفر جاری ہے،تقریباً اڑھائی گھنٹے کا یہ سفر مختلف نعتیہ کلام کے سوز و گُداز بھرے ماحول میں ڈوب گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹرین مدینہ ٔ پاک کی پُربہار فضاؤں میں داخل ہونے لگی ۔ یہ لیجئے ! ٹرین مدینۂ پاک میں داخل ہوگئی۔ سب استقبال کے شوق میں کھڑے ہو کر بارگاہِ رِسالت میں سلام عرض کرنے لگے۔ ایک عربی شخص یہ منظر دیکھ رہا تھا اُس نے دور ہی سے اپنے موبائل میں اس حسین یادگار کے مَناظِر کومحفوظ کر لیا ۔ مدینۂ پاک کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچ کر ٹرین رُکی اور بارگاہِ رسالت میں باذوق و شوق حاضری دینے کے لئے قیام گاہ (Hotel)روانہ ہوئے۔

بارگاہِ رِسالت میں پہلی حاضری

عاشقِ صادق کی آج کی رات دیدارِ دربارِ حبیب کی رات ہے،امیرِاہلِ سنّت نیا لباس پہن کر، آنکھوں میں خاکِ مدینہ کا سُرمہ سجائے، لبوں پر یہ شعر پڑھتے چلے جارہے ہیں: مجرم بلائے آئے ہیں جَاءُوْكَ ہے گواہ پھر رَدْ ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے (حدائقِ بخشش،ص205) چلا ہوں ایک مجرِم کی طرح میں جانِبِ آقا نظر شرمندہ شرمندہ، بدن لرزیدہ لرزیدہ کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سَہارا دے دیا ورنہ کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ مسجدِ نبوی شریف کی جانب آہستہ آہستہ قدم بڑھتے چلے جا رہے ہیں،مسجد شریف کے قریب پہنچے تو خلیفۂ امیرِ اہلِ سنّت، حاجی عبید رضا عطاری مدنی مَدَّ ظِلُّہُ العالی نے یہ نعتیہ شعر پڑھا : میرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رحمتِ عالَم میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کے لیے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور ہاتھ باندھے : یَارَسُوْلَ اللہِ اُنْظُرْ حَالَنَا یَاحَبِیْبَ اللہِ اِسْمَعْ قَالَنَا اِنَّنِیْ فِیْ بَحْرِ هَمٍّ مُّغْرَقٌ خُذْیَدِیْ سَهِّلْ لَنَا اَشْکَالَنَا پڑھتے روضۂ پاک کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں۔عاشقِ مدینہ کی معراج کا وقت آپہنچا ، اے لیجئے! وہ رہا سبز گنبد کا حسین و دِلکش نظارہ!روضۂ پُرنور کا دیدار ضیا بار کرتے ہی امیرِاہلِ سنّت بارگاہِ رسالت میں کچھ اِس طرح سلام عرض کرنے لگے: اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَارَسُوْلَ اللہ اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَاشَفِیْعَ الْمُذْنِبِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَاسِرَاجَ السَّالِکِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَاخَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ لبوں پر روتے روتے کبھی دُرود و سلام تو کبھی شفاعت کی خیرات کا سوال جاری ہے: اَسْأَلُكَ الشَّفَاعَةَ يَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم یعنی یارَسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم !آپ سے شَفاعت کا سُوال کرتا ہوں ۔ کچھ دیر تک دور ہی سے کھڑے کھڑے اَدب و تعظیم کے ساتھ بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میں رو رو کر دُرود و سلام کا نذرانہ جاری رہا۔ خلیفۂ امیرِ اہلِ سنّت یہ اشعار پڑھ کر سوزوگُداز مزیدبڑھا رہے تھے۔ مُجرموں کو شہا بخشواتا ہے تو اپنی اُمّت کی بگڑی بناتا ہے تو غم کے ماروں کو سینے لگاتا ہے تو غمزدوں بےکسوں کا تو غمخوار ہے تیرا ثانی کہاں! شاہِ کون ومکاں مجھ سا عاصی بھی اُمّت میں ہوگا کہاں! تیرے عَفْو و کرم کا شہِ دو جہاں! کیا کوئی مجھ سے بڑھ کر بھی حقدار ہے ؟ پھر روتےروتے اُلٹے قدم گاڑی کی طرف لوٹے ،کیونکہ جب کعبے کو پیٹھ کرنا ادب نہیں تو کعبے کے کعبے کی طرف پیٹھ کیسے کی جاسکتی ہے؟

مزارِ امیر حمزہ پر حاضری

بارگاہِ رسالت میں حاضری کے بعد امیرِ اہلِ سنّت نے عاشقِ رسول پہاڑ، جبلِ اُحُد شریف کے دامن میں واقع سَیِّدُ الشُّہَدا،امیرِ طیبہ،حضرتِ امیر حمزہ اور دیگر شُہَدائے اُحُد علیہمُ الرّضوان کے مزارات ِ مبارکہ پر حاضری اور فاتحہ خوانی کے بعد وہاں موجود عاشقانِ رسول سے ملاقات فرمائی ۔

مسجد ِنبوی شریف میں حاضری

اگلے دن صبح کے وقت امیرِ اہلِ سنّت مسجدِ نبوی شریف میں حاضر ہوئے۔ دھیمے قدموں سے چلنے کا انداز مرحبا!عاشقِ ماہِ رِسالت،اعلیٰ حضرت کےا شعار وردِ زباں ہیں: قسمتِ ثور و حِرا کی حِرْص ہے چاہتے ہیں دل میں گہرا غار ہم ہاتھ اُٹھا کر ایک ٹکڑا اے کریم! ہیں سخی کے مال میں حقدار ہم (حدائقِ بخشش، ص 83،85) کبھی بردارِ اعلیٰ حضرت مولانا حسن رضا خان رحمۃُ اللہِ علیہ کا یہ شعر پڑھ رہے ہیں: بخشوانا مجھ سے عاصی کا رَوا ہوگا کسے کس کے دامن میں چُھپوں دامن تمہارا چھوڑ کر (ذوقِ نعت، ص134) پھر ایسے مقام پرنمازِ اشراق و چاشت ادا فرمائی،جہاں سے سبز سبز گنبد شریف واضح نظر آتا تھا۔ اَلحمدُ لِلّٰہ !زندگی کی انمول گھڑیاں ہیں،خوشیوں کی ساعتیں ہیں۔رحمت ِ الٰہی جُھوم جُھوم کر بَرس رہی ہے۔ کچھ دیر تک خوب ذوق وشوق کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں درود و سلام کے گجرے پیش کئے،اس دوران جیسے ہی سبزسبز گنبد شریف کی طرف نگاہ اُٹھی ، ادب و تعظیم میں ہاتھ باندھ کر سر کو جُھکالیا اور دل ہی دل میں نجانے عاشقِ صادق نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں کیا کیا اِلتجائیں کیں۔ واپسی پرگاڑی میں خلیفۂ امیرِاہلِ سنّت نےاس نعت کے اشعار پڑھنے شروع کئے : آس تم پر لگائے ہوئے ہیں لُطْف و رحمت کاہی آسرا ہے دل پہلے ہی عشقِ رسول میں گھائل تھا ،استغاثے کے اشعار نے مزید اثر پیدا کردیا ۔ امیرِ اہلِ سنّت بلندآواز سے رونے لگے اور روتے روتے دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم میں کچھ اس طرح عرض کیا:یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! گناہوں سے بَھرا مت لوٹائیے گا، اپنے رب سے بخشوا دیجئے، جنت میں اپنا پڑوسی بنا لیجئے۔اَب تو زندگی کا جام لبریز ہوا چاہتاہے،بڑھاپا بھی زوروں پر ہے،نیکیاں ہو نہیں پاتیں،اگر آپ نے نہ سنبھالاتو۔۔۔ آپ اپنی نعتیہ کتاب وسائل ِبخشش میں لکھتے ہیں: سفینے کے پَرخچے اُڑ چکے ہیں زَورِ طُوفاں سے سنبھالو!میں بھی ڈوبا اے مِری جَاں یارسولَ اللہ (وسائلِ بخشش،ص340)

مدینۂ پاک سے جُدائی

حضرتِ مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مدینہ ٔمنورہ سے چلتے وقت زائرین کا جو حال ہوتا ہے وہ نہ پوچھو،مدینے کے دَر و دیوار کا فِراق ستاتا ہے۔میں نے مسجد ِنبوی شریف کی چوکھٹ سے لپٹ کر لوگوں کو روتے دیکھا ہے۔(مراٰۃ المناجیح، 2/506) بدن سے جان نکلتی ہے آہ سینے سے تِرے فِدائی نکلتے ہیں جب مدینے سے روضہ اچھا زائر اچھے اچھی راتیں اچھے دن سب کچھ اچھا ایک رخصت کی گھڑی اچھی نہیں

مدینۂ پاک میں آخری رات

مدینہ ٔ پاک میں تقریباً 36 گھنٹے کی مختصر حاضری کے بعد امیرِاہلِ سنّت کی مدینۂ پاک سے جُدائی کی گھڑیاں آ پہنچیں۔آپ نے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رُکن،الحاج سید ابراہیم شاہ صاحب مَدَّ ظِلُّہُ العالی کے لئے کچھ اس طرح ایک تحریر ترتیب دی:افسوس! چند گھڑیاں طیبہ کی رہ گئی ہیں ۔ اے آنکھ! خون رولے تو رونا ہے جس قدر یہ لکھتے ہوئے تقریباً ساڑھے چار گھنٹے بعد ( بقیع میں جگہ نہ ملنے کی صورت میں ) شایدمدینہ چُھٹ جائے گا۔ آہ! (21 ربیع الآخر 1444ھ، 2022ء-11-17) صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

الوداعی حاضری

آج کی رات مدینۂ پاک سے جُدائی کی رات ہے۔رحیم و کریم آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہِ بےکس پناہ میں دُرود و سلام عرض کر کے آج رات مدینۂ پاک سے جُدا ہونا پڑے گا۔ اِس دَور میں اگر کسی سچے عاشق کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ سے جُدائی کی کیفیت دیکھنی ہو تو وہ امیرِ اہلِ سنّت کی مدینۂ پاک سے جُدائی کے مناظر دیکھ لے ۔ یہ رقت انگیز مناظر دیکھنے والوں کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ امیر ِاہلِ سنّت اپنے کمرے سے روتے ، در و دیوارِ مدینہ کو چومتے ہوئے لفٹ میں داخل ہوئے اور لفٹ کی دیوار سے لگ کر پُھوٹ پُھوٹ کر رونے لگے،اسی کیفیت میں لفٹ سے باہر آکر گاڑی میں بیٹھے اور جَنَّتُ الْبَقیْع شریف کی طرف باہر مین روڈ پر سبز سبز گنبد شریف کی زیارت کر کے روتے جاتے۔دُرود و سلام عرض کر کے جب واپسی کا وقت آیا تو اس شدت سے روئے کہ ساتھ موجود عاشقانِ رسول بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے پھر اسلامی بھائی نے آگے بڑھ کر سہارا دیا اور ۔۔۔۔اور۔۔۔۔گاڑی میں بیٹھ گئے ۔ گاڑی آہستہ آہستہ مسجدِ نبوی شریف سے دور ہوتی جار ہی ہے ۔عاشقِ مدینہ ہجر و فراقِ مدینہ میں نَم آنکھوں سے مسجد شریف کے گنبد و مینار دیکھ رہے ہیں ۔ ایک دَم امیرِ اہلِ سنّت نے تڑپ کر پکارا :اَب تو گنبد شریف بھی نظر نہیں آرہا ۔ ۔ اتنا سننا تھا کہ عاشقانِ رسول کی آنکھوں سے اَشکوں کی جھڑی لگ گئی۔

رُلا دینے والے الفاظ

اسی غَمناک کیفیت میں روتے، بِلکتے زبان پر یہ جاری ہوگیا:الوداع یا رسولَ اللہ ، الوداع یارسولَ اللہ ،آقا ! مدینہ چُھوٹ رہا ہے ،آقا!بار بار بلوائیے گا ،آقا!کرم فرمائیے گا، شفاعت سے محروم نہ فرمائیے گا،ہم سب سے خوش ہو جائیے گا،ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خوش ہو جائیےگا، اپنے رب سے بخشوائیے گا۔یا رسولَ اللہ !ساری اُمّت کی خیر ہو،شہزادوں کا صدقہ،اہلِ بیت اور اصحاب کا صدقہ ، ہر دعوتِ اسلامی والے اور والی کی خصوصی شفاعت کی درخواست ہے،یا رسولَ اللہ ! کرم فرما دیجئے ،شفاعت کی خیرات دے دیجئے ۔ اَسْأَلُكَ الشَّفَاعَةَ يَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم آتے ہوئے کیا سَہل مدینے کا سفر تھا جاتے ہیں تو ایک ایک قدم راہ کڑی ہے روتے ہوئے پہنچے تھے روتے ہوئے لوٹے ہیں چند وَصل کی گھڑیاں تھیں اَب ہجرِ مدینہ ہے

مدینۂ پاک سے جدّہ شریف

مدینۂ پاک سے بذریعہ ٹرین جدّہ شریف واپسی ہوئی،تقریباً سارا رستہ الوداعی کلام سُن سُن کرامیرِاہلِ سنّت ہجرِ مدینہ میں آہیں بھرتے رہے،اس سفر میں آپ نے ایک مَدَنی اسلامی بھائی کے نام مدینہ ٔ پاک سے جُدائی کی دردناک کیفیت کا اظہا رکرتے ہوئے لکھا: ’’آہ! مدینہ نگاہوں سے چُھپ گیا۔ ٹرین ہمیں دور دور کھینچے لیے جا رہی ہے ،آہ! اَب جدّہ شریف آئے گا۔ پھر … پھر… ‘‘ امیرِ اہلِ سنّت کے عرب شریف کی پاکیزہ فضاؤں سے جدا ہونے کے آخری لمحات اپنے اس شعر کے حقیقی مِصداق تھے: میں شکستہ دِل لئے بوجھل قدم رکھتا ہوا چل پڑا ہوں یاشَہَنْشاہِ مدینہ الوداع (وسائلِ بخشش، ص237) صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد پیارے پیارے اسلامی بھائیو!امیرِ اہلِ سنّت نے اس مبارک سفر میں مختلف مقامات پر چند عاشقانِ رسول کے نام کچھ تحریرات ترتیب دیں۔ اِ ن کو مُلاحَظَہ فرمائیے اور یاد ِمدینہ میں کھو جائیے جیسا کسی نے کہا ہےنا: ہم مدینہ گھوم آئے، جالیوں کو چوم آئے جب کسی نے چھیڑی ہے گفتگو مدینے کیتحریراتِ امیرِ اہلِ سنّت کی ویڈیو دیکھنے کےلئے اِس Link پر Click کیجئے: https://www.ilyasqadri.com/medialibrary/120543 مکمل سفرِ مدینہ کی ویڈیو دیکھنے کے لئے اِس Link پر Click کیجئے: https://www.ilyasqadri.com/medialibrary/119527 مدینۂ پاک جانے کی کیفیت کا منظر دیکھنے کے لئے اِس Link پر Click کیجئے: https://www.ilyasqadri.com/medialibrary/124244 کیسی وہ پُر کیف گھڑی تھی اللہُ غنی کیسی وہ پُرکیف گھڑی تھی جب سامنے نظروں کے مدینے کی گلی تھی نظروں سے لیے بوسے کبھی ہونٹوں سے چوما اس شہر کی ہر چیز مجھے خوب لگی تھی لَج پالوں کے لَج پال کی چوکھٹ پہ کھڑا تھا قسمت میری اُس در پہ کھڑی جھوم رہی تھی اُس نعتِ مُقدَّس پہ ہر اک نغمہ تَصدُّق حسّان نے جو نعت مدینے میں پڑھی تھی کیفیتِ دل کیسے بتاؤں تمہیں لوگو، جب پہلی نظر گنبدِ خضریٰ پہ پڑی تھی مجرم تھا کھڑا سر کو جھکائے ہوئے در پر آنسو تھے رواں ایسے کہ ساون کی جھڑی تھی اُس شہر کے ذرے تھے چمکتے ہوئے تارے ہر چیز وہاں نور کے سانچے میں ڈھلی تھی لے ڈوبتے اعمال مرے مجھ کو نیازی جا پہنچا مدینے مری تقدیر بھلی تھی (مولانا عبد الستار خان نیازی)
1…پوتا:حاجی اُسید رضاعطاری عمر تقریباً 9سال ،رضاعی یعنی دودھ کے رشتےکے پوتے:حسن رضاعطاری عمر تقریباً7سال ، پوتا:جنیدعطاری عمر تقریباً ساڑھےتین سال، پوتی حبیبہ عطاریہ عمر تقریباً7سال ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن