دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat | حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز کی 425 حکایات

book_icon
حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز کی 425 حکایات

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

روزانہ کا جَدوَل

            حضرتِ سیِّدُنا عطارحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز کی زوجۂ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنافاطمہ بنت عبدُالملک رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہا کوپیغام بھیجا کہ مجھے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیزکے کچھ حالا ت بھجوائیے ، انہوں نے فرمایا:ضَرور!!حضرتِ عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز نے اپنی ذات کومسلمانوں کے لئے اوراپنے ذہن کوان کے کاموں کے لئے فارِغ کرلیا تھا، اگر شام ہوجاتی اوروہ مسلمانوں کے کام سے فارِغ نہ ہوئے ہوتے تودن کے ساتھ رات بھی ملالیتے اور رات گئے تک کام کر تے رہتے ۔ جب یومیہ کا م ختم ہو جاتے تواپناچراغ منگوالیتے ، پھردونَفل پڑھتے اورسر گھٹنوں پررکھ کراَکڑُوں بیٹھ جاتے ، کچھ ہی دیر میں رُخساروں پرآنسوؤں کی دھاریں بہنا شروع ہوجاتیں اوراس قَدَر دَردوکَرب کے ساتھ روتے کہ گویاان کا دل پھٹ جائے گااوررُوح نکل جائے گی، رات بھریہ کیفیت رہتی، جب صبح ہوتی توروزہ رکھ لیتے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۱۴۶)

محبت میں اپنی گُما یاالٰہی                     نہ پاؤں میں اپنا پتا یاالٰہی

رہوں مَست وبے خُود میں تیری وِلا میں    پِلا جام ایسا پِلا یاالٰہی(وسائلِ بخشش ص  ۷۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

خلیفہ کا کھانا

            خلیفہ بننے کے بعد حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے دنیا سے زُہد و قَنَاعَت اختیار کی، عَیش و عِشرَت پر لات ماری اور اَنواع و اَقسام کے لذیذکھانے یکسر تَرک کردیئے ۔ معمول یہ تھا کہ جب آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کا کھانا تیّار ہوجاتا تو کسی چیز میں ڈَھک کر رکھ دیا جاتا ، جب تشریف لاتے توکسی خادِم سے کہنے کے بجائے اپنی مدد آپ کے تَحت اسے خود ہی اٹھا کر تناوُل فرمالیتے ۔ (تاریخِ دِ مشق، ج۴۵ ، ص۲۲۷)

زَیتُون کا سالَن

            نُعَیم بن سلامت کا بیان ہے کہ میں امیرُ المُؤمنین کے پاس گیا تو دیکھا کہ زَیتون کے تیل کے ساتھ روٹی کھا رہے تھے ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۰)

پسلیاں گنی جاسکتی تھیں

            یونُس بن شَیب جنہوں نے امیرُ المُؤمنینکو خلافت سے پہلے اس حالت میں دیکھا تھا کہ توند نکلی ہوئی تھی، انہی کا بیان ہے کہ خلافت کے بعد اگر میں گننا چاہتا تو بغیر چھوئے ہوئے ان کی پسلیوں کو گِن سکتا تھا ۔ (سیرت ابن جوزی ص۱۸۱)

مسور اور پیاز

 ایک بارامیرُ المُؤمنینحضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کے بھائی’’زیان بن عبدالعزیز ‘‘آپ  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہکے پاس آئے ، کچھ دیر تک باتیں ہوئیں پھرآپ نے فرمایا:’’ گذشتہ رات میرے لیے بڑی لمبی ہوگئی کیونکہ اس میں نیند کم آئی ، میرا خیال ہے اس کا سبب وہ کھانا تھا جومیں نے رات کو کھایاتھا ۔ ‘‘ زیان نے پوچھا:’’آپ نے کیا کھایا تھا ؟‘‘ فرمایا:’’ مَسُور اورپیاز ۔ ‘‘ زیان نے حیرانی سے کہا:’’ اللّٰہ تعالیٰ نے تو آپ کو بڑی کشائش دے رکھی ہے ، مگر آپ خود ہی اپنی جان پر تنگی ڈالتے ہیں ؟‘‘ جب ’’زیان‘‘ نے آپ کو مَلامت کے انداز میں فہمائش کی تو آپ نے ناراضی کا اِظہارکرتے ہوئے فرمایا :’’میں نے تمہیں اپنی حالت بتاکر اپنا بھید تم پر کھول دیا مگر میں نے تمہیں خیر خواہ نہیں بلکہ بدخواہ پایا، میں قسم کھاتا ہوں کہ جب تک زندہ ہوں آئندہ کبھی تمہیں راز دار نہیں بناؤں گا ۔ ‘‘(سیرت ابن عبدالحکم ص۱۱۶)

کیا بات ہے ’’ مسور ‘‘کی؟

            رسولِ اکرم نورِ مجسّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِرشاد فرمایا: تم مسور ضَرور کھایا کرو کیونکہ یہ بَرَکت والی شے ہے جو دل کو نَرم کرتی اور آنسوؤں کو بڑھاتی ہے اور اس میں 70انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) کی برکات شامل ہیں جن میں حضرتِ عیسٰی (عَلَیْہِ السَّلام) بھی شامل ہیں ۔ ‘‘ (فردوس الاخبار، ج۲ ، ص۶۳، الحدیث۳۸۷۶)

 امام ثعلبی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی  فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ العزیز ایک دن زیتون ، ایک دن گوشت اور ایک دن مسور سے روٹی کھایا کرتے تھے ۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں : مسور اور زیتون نیکوں کی غذا ہے ، بالفرض اگر اس میں اور کوئی فضیلت نہ ہو تو بھی یہ ضِیافتِ ابراہیمی کا حصہ ہوتا تھا ، مسور بدن کو دُبلاکرتاہے اور دُبلا  بدن عبادت میں مددگار ہوتا ہے ، مسور سے ایسی شہوت نہیں بھڑکتی جیسی گوشت کھانے سے بھڑکتی ہے ۔ (قرطبی ، ج۱ ، ص۳۴۶)

سمجھانے والے کو سمجھا دیا

            ایک شخص نے حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کی بے حدسادہ غذادیکھ کر کہا :اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  تو فرماتا ہے :

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ (پ۱۶، طٰہ:۸۱)

ترجمۂ کنزالایمان: کھاؤجو پاک چیزیں ہم نے تمہیں روزی دیں ۔

            آپ رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے اس کی اِصلاح کرتے ہوئے فرمایا:اس سے لذیذ کھانا مرادنہیں بلکہ وہ مال ہے جو کَسبِ حَلال سے حاصل کیا جائے ۔ (درمنثور ، ج۱ ، ص۴۰۶)

کھانا نہ کھا سکے

            ایک دن حضرتِ سیِّدنا عمر بن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے ایک شخص کو گھر میں بلایا ۔ وہ اندر پہنچا تو دیکھا کہ ایک دستر خوان پر ایک طَشت(Tray) رومال سے ڈھکی ہوئی رکھی ہے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن