دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Hazrat Sayyiduna Umar bin Abdul Aziz ki 425 Hikiyaat | حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز کی 425 حکایات

book_icon
حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃاللہ العزیز کی 425 حکایات

بصری کا خواب سچا کر دکھا یا ۔ ابھی ابھی مجھے خواب میں حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجوَر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّمکی زِیارت نصیب ہوئی ۔ آپ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم نے مجھ سے وہی اِرشاد فرمایا جو اس بصری نے پیغام دیا تھا ۔ ‘‘(عیون الحکایات، ص۳۲۶)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اوراُن کے صَدَقے ہماری بے حساب مغفرت ہو

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

امیر المؤمنین کی فکرِ موت

            حضرتِ سیِّدُناسالم علیہ رحمۃ اللّٰہ الحاکم فرماتے ہیں :’’ ایک مرتبہ مُلکِ روم سے کچھ قاصِد حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز  کے پاس آئے توآپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے فرمایا :’’ جب تم لوگ کسی کو اپنا بادشاہ بناتے ہو تو اس کاکیا حال ہوتا ہے ؟‘‘ کہا: ’’جب ہم کسی کو اپنا بادشاہ بناتے ہیں تواس کے پاس ایک گَورکَن (یعنی قَبر کھودنے والا) آکر کہتا ہے :اے بادشاہ !جب تجھ سے پہلا بادشاہ تخت نشین ہو ا تو اس نے مجھے  حُکم دیا: میری قَبر اس اس طرح بنانا اورمجھے اس طرح دَفن کرنا ۔ چنانچہ قَبرتیا ر کر لی گئی ۔ پھر اس کے پاس کفن فروش آکرکہتاہے : اے بادشاہ!جب تجھ سے پہلا بادشاہ تخت نشین ہوا تواس نے مرنے سے قبل ہی ا پنا کفن ، خوشبو اورکافور وغیرہ خریدلیا پھر کفن کو ایسی جگہ لٹکا دیا گیا جہاں ہروقت نظر پڑتی رہے اور موت کی یاد آتی رہے ۔ اے مسلمانوں کے امیر !ہمارے بادشاہ تو اس طرح موت کو یا د کرتے ہیں ۔ ‘‘رُومی قاصد کی یہ بات سن کر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے فرمایا:’’دیکھو! جو شخص اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے ملنے کی امید بھی نہیں رکھتاوہ موت کو کس طرح یاد کرتا ہے ، اسے بھی موت کی کتنی فِکر ہے ؟‘‘ اس واقعہ کے بعد آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ بہت زیادہ بیمار ہوگئے ۔ (عیون الحکایات، ص۴۲۷)

اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اوراُن کے صَدَقے ہماری بے حساب مغفرت ہو

اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْامین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

 موت کی دُعا کروائی

            حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز نے شامی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ ابی زکریا رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکواپنے ہاں تشریف آوری کی دعوت دی ۔ جب وہ آئے تو کہنے لگے :’’ آپ جانتے ہیں کہ میں نے آپ کو کیوں زحمت دی ہے ؟ جواب دیا: جی نہیں ۔ فرمایا: ایک ضَروری کام ہے ، مگر میں اس وقت تک نہیں بتاؤں گا جب تک آپ قسم نہ اٹھالیں کہ وہ کام ضرور کریں گے ۔ ‘‘ انہوں نے بُہتَیرا کہا: ’’ یاامیرَ المُؤمنین ! جو  حُکم ہو بجالاؤں گا ۔ ‘‘ مگرفرمایا :’’ نہیں ! پہلے قسم اٹھائیے ۔ ‘‘ جب انہوں نے قسم اٹھا لی تو فرمایا :’’دُعا کیجئے کہ اللّٰہ تعالیٰ مجھے موت دے دے ۔ ‘‘حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ ابی زکریا رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے تڑپ کر فرمایا:تب میں مسلمانوں کا بدترین نمائندہ ہوا اور امتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام کا بدترین دشمن !فرمایا: بہت خوب! حضرت! آپ حلف اٹھا چکے ہیں ۔ ناچار انہوں نے آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکے لیے موت کی دُعا کی لیکن اس کے فوراًبعد کہا :’’ اے اللّٰہ ان کے بعد مجھے بھی نہ رکھنا ۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدنا عمربن عبدالعزیز  عَلَیْہِ رحمۃُ اللّٰہِ الْعَزِیز کا ایک چھوٹابچہ وہاں آنکلا، فرمایا: ’’اور اس کو بھی، کیونکہ مجھے اس سے محبت ہے ۔ ‘‘ انہوں نے بچے کے لیے بھی دُعا کردی، چنانچہ کچھ ہی عرصے میں ان تینوں کا اِنتقال ہوگیا ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۹۵)

موت کی رغبت

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیر کی وفات سے کچھ پہلے آپ کے بھائی سہل ، صاحبزادے عبدالملک اور خادِم  مُزاحِم کا اِنتقال ہوگیا تھا ۔ یہ حضرات اُمورِ خِلافت میں آپ کے معین و مددگار تھے ۔ ایک جمعہ آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ خطبہ کے لئے تشریف لائے اور لوگوں کو ان کی صلاح وفلاح کا حُکم فرمایا، مگر لوگوں نے اس سے گرانی محسوس کی، آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکو اس کا بڑا رنج ہوا، آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہگھر تشریف لے گئے ، معمول تھا کہ جمعہ کے بعد آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکے صاحبزادگان آپ سے قرآن مجید پڑھا کرتے تھے ، چنانچہ حسبِ معمول وہ قرآن مجید پڑھنے کے لئے آئے ، سب سے پہلے جس نے تِلاوت شروع کی اس نے یہ آیتیں پڑھیں :

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ(۲) لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ(۳) اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ(۴) ۱۹، الشعرا:۲ تا ۴)

ترجمۂ کنزالایمان :یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی، کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے ، اگر ہم چاہیں توآسمان سے ان پر کوئی نشانی اتاریں کہ ان کے اونچے اونچے اس کے حضور جھکے رہ جائیں ۔

آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہنے فرمایا : میرے اس بیٹے کی زبانی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے مجھے  تسلی دی ہے ۔ اس سے آپ  رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہکا غم کسی قدر ہلکا ہوگیا، آپ نے دُعا کی :یااللّٰہعَزَّوَجَلَّ یہ لوگ مجھ سے اُکتا گئے ہیں اور میں ان سے اُکتا گیا ہوں ، بس مجھے ان سے اور انہیں مجھ سے راحت دلادے ۔ اس واقعہ کے بعد آپ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیہ کو دوبارہ منبر پر جانانصیب نہیں ہوایہاں تک کہ دارِ آخِرت کو روانہ ہوگئے ۔ (سیرت ابن عبدالحکم ص۹۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

  مُزاحِم بہترین وزیر

            حضرتِ سیِّدناعمر بن عبدالعزیز علیہ رحمۃُ اللّٰہِ الْقَدِیراپنے صاحبزادے ، عبدالملک ، بھائی سہل اوراپنے خادِم مزاحم کو تھوڑے ہی عرصے میں سِپُردِخاک کرچکے تو ایک شامی نے آپ سے کہا

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن