30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور معجزات میں واضح فرق ہے ۔سورج جب مغرب سے نکلے گا تو اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا جو مسلمان ہے وہ مسلمان ہی رہے گا جو کافر ہے وہ کافر ہی رہے گا ۔ ([1])
سُوال : ہمارے گھر میں دو بلیاں رہتی تھیں جو آپس میں بہنیں تھیں ہم نے ان کو مارنے کے بجائے جُدا کرکے علیحدہ علیحدہ گاؤں میں چھوڑ دیا ۔کیا ہمارا ایسا کرنا گناہ ہے ؟
جواب : بلیاں آپس میں مانوس ہوتی ہیں نیز جو جانور مثلاً بکرے وغیرہ ہم خریدتے ہیں وہ کسی نہ کسی سے مانوس ہوتے ہیں ان کو بھی جُدائی محسوس ہوتی ہے ۔اسی طرح چیونٹی کپڑوں پر آ جاتی ہے اگر یاد ہو کہ کہاں سے چڑھی ہے اسے وہیں چھوڑ آئیں گے تو یہ اس چیونٹی پر اِحسان ہو گا اور ثواب کی نیت سے چھوڑ آئیں گے تو ثواب بھی پائیں گے ۔اِس طرح بلیوں کو کہیں چھوڑنا ہو تو انہیں ایک ساتھ ہی کسی مقام پر چھوڑ دیا جائے جُدا نہ کیا جائے ۔اب چونکہ ان بلیوں کو الگ الگ مقام پر چھوڑا جاچکا ہے اگر ممکن ہوتو ان کو ملادیں کہ یہ بھلائی کا کام ہے ۔ اگر نہیں بھی ملاتے تو کوئی گناہ نہیں نہ اس کی وجہ سے توبہ لازم ۔ عام طور پر ان جانوروں کے حافظے بہت کمزور ہوتے ہیں مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ حافظہ ضَرور ہوتا ہے جیسے بکری گائے وغیرہ کے بچے اپنی ماں کو پہچانتے ہیں یعنی ان میں اپنی ماں اور بچے کا اِحساس ہوتا ہے ۔گائے کابچہ کسی وجہ سے جُدا کر لیا جائے تو اس کا گوالا جب اس کا دودھ نکالتا ہے تو اپنی بغل میں چمڑا رکھ لیتا ہے تاکہ گائے کو تسلی رہے کہ میرا بچہ دودھ پی رہا ہے ۔جانوروں کو دھوکا دینے کے بھی طرح طرح کے طریقے ہیں مگر یہ وہ دھوکا نہیں جس پرگناہ ملتا ہے ۔
بہرحال جانوروں کا حافظہ نہایت کمزور ہونے کے باوجود ان میں اِحساس ہوتا ہے مگر یہ بہت جلد اس کو بھول بھی جاتے ہیں جیسے مُرغی کو ذبح کیا تو اس کے ساتھ والی مُرغی کو اس کااحساس ہوگا وہ اکیلی رہ جائے گی مگر اس کو گناہ نہیں کہیں گے کہ ضرورت تھی تو ذبح کر دیا اگر وہ بیمار ہو کر مرجاتی تو اسے صبر آ جاتا ۔ہرجانور میں کچھ نہ کچھ اِحساس ضَرور ہوتا ہے ۔ہاں! سانپن کے بارے میں سُنا ہے کہ یہ بہت زیادہ تعداد میں انڈے دیتی ہے جن سے کثیر مقدار میں بچے نکلتے ہیں پھر وہ سانپن اپنے ان بچوں کو نگلنا شروع کر دیتی ہے کوئی بچہ اس سے بچ کر نکل جائے تو وہ سانپ بن جاتا ہے ۔ اگر سانپن اپنے بچے نہ کھائے اور اس کے اتنے ہی بچے رہیں جتنے انڈوں سے نکلتے ہیں تو ہمارا جینا مشکل ہو جائے ،چاروں طرف سانپ ہی سانپ نظر آنے لگیں ۔
یوں ہی پَروانے کا حافظہ بھی بہت کمزور ہوتا ہے لوگ سمجھتے ہیں یہ عاشق ہے جو اپنی جان قربان کر دیتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے لکھا ہے : پروانوں کا حافظہ بہت کمزور ہوتاہے جہاں ٹکرا کر زخمی ہوتے ہیں پھر وہاں پہنچ جاتے ہیں ۔([2]) بے چارے ٹکرا ٹکرا کر مَر جاتے ہیں اور لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ یہ ایسا عاشق ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی ۔درحقیقت یہ صِرف ایک مثال دی جاتی ہے کہ ہم بھی پروانے کی طرح اللہ پاک اور اس کے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے محبت کریں ۔ورنہ پروانہ عشق میں مبتلا نہیں ہوتا وہ بے چارا تو اپنی بھول کی وجہ سے مارا جاتا ہے ۔
غوثِ پاک کے والد کے ”جنگى دوست“ لقب کی وجہ
سُوال : غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق کے والِد صاحب کو جنگى دوست کىوں کہا جاتا ہے ؟(رُکنِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب : غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق کے والِد صاحب اَمْر ٌ بِالْمَعْرُوْف وَ نَہْىٌ عَنِ الْمُنْکَر ىعنى نىکى کى دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے مىں آگے آگے تھے ، گناہ دىکھ کر ان کو بَرداشت نہىں ہوتى تھى ۔مکتبۃُ المدینہ کی مَطبوعہ کتاب ”غوث پاک کے حالات“ صفحہ 16 پر ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو صَالح سَىِّد مُوسىٰ جنگى دوسترَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا لَقب” جنگى دوست“اِس لىے ہوا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ خاص اللہ پاک کى ر ضا کے لىے اپنے نفس کو مارتے اور عبادت مىں کافى کوشش کرنے والے اور رىاضت کرنے والے تھے ،نىکى کے کاموں کا حکم کرنے اور بُرائى سے روکنے کے لىے مشہور تھے ، اِس مُعاملے مىں اپنى جان تک کى بھى پَروا نہ کرتے تھے ۔
اىک دِن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جامع مسجد کو جا رہے تھے کہ خلىفۂ وقت کے چند مُلازِم شراب کے مٹکے نہاىت ہى اِحتىاط سے سروں پر اُٹھائے جا رہے تھے ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جب ان کى طرف دىکھا تو جَلال مىں آ گئے اور ان مٹکوں کو توڑ دىا ۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے رُعب اور بزرگى کے سامنے کسى مُلازِم کو دَم مارنے کى جُرأت نہ ہوئى، ىعنى و ہ کچھ بولے بغىر چُپ چاپ چلے گئے تو انہوں نے خلىفۂ وقت (ىعنى اس وقت کے بادشاہ) کے سامنے اِس واقعہ کا اِظہار کىا اور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے خلاف خلىفہ کو اُبھارا، تو خلىفہ نے کہا کہ سَىِّد مُوسىٰ(رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ) کو فوراً مىرے دَربار مىں پىش کرو ۔ چنانچہ حضرت سَىِّد مُوسىرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ دَربار مىں تشرىف لے آئے ۔خلىفہ اس وقت غىظ و غضب سے (ىعنى غصّے مىں بھرا ہوا) کُرسى پر بىٹھا ہوا تھا،خلىفہ نے للکار کر کہا : آپ کون تھے جنہوں نے مىرے مُلازمىن کى محنت کو رائیگاں (یعنی بَرباد) کر دىا؟ حضرت سَىِّد مُوسىٰ جنگى دوست رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرماىا : مىں مُحْتَسِب (ىعنى خِلاف شرع باتوں کی ممانعت کرنے والا) ہوں اور مىں نے اپنا فرضِ منصبى ادا کىا ہے ۔خلىفہ نے کہا : آپ کس کے حکم سے مُحْتَسِب مُقَرَّر کىے گئے ہىں؟ حضرت سَىِّدمُوسى جنگى دوست رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے رُعب دار لہجے مىں جواب دىا : جس کے حکم سے تم حکومت کر رہے ہو ۔ ىعنى اللہ تعالىٰ نے مجھے مُحْتَسِب مُقَرَّر کىا ہے کہ مىں تم لوگوں کا اِحتساب کروں اور تمہىں بُرائىوں سے روکو ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع