دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Ulti Juti Seedhi Na Karna Kesa? | اُلٹی جوتی سیدھی نہ کرنا کیسا؟

book_icon
اُلٹی جوتی سیدھی نہ کرنا کیسا؟

جواب : کھانا کھاتے وقت سلام کرنا منع نہیں ہے مگر اس حوالے سے کوئی جزیہ پڑھانہیں ۔ ویسے کھانا کھاتے وقت ”یا واجِد“ بھی پڑھتے ہیں اور” ہرنوالے پر ذِکرُ اللہ کرنے کی تَرغیب اَحادیثِ مُبارَکہ میں موجود ہے ۔“([1]) لیکن اس پر سلام کرنے کو قیاس نہیں کیا جا سکتا ۔البتہ جب کوئی سلام کرے اور یہ کھانا کھارہا ہو تو جب تک کھارہا ہے تو بھلے جواب نہ دے منہ خالی ہو تو جواب دیدے یہ جواب دینا واجب نہیں ۔ نیز کسی کو کھانا کھاتے وقت سلام کرنا خلافِ اَدب ہے ۔

بھکاری کے سلام کا جواب دینا واجب نہیں

بہارِ شریعت جلد 3 صفحہ 461 پر مسئلہ نمبر 11ہے  : سائل یعنی بھکاری نے دروازہ پر آکر سلام کیا اس کا جواب دینا واجب نہیں ۔([2])ىہاں ہر طرح کا سائل آ جائے گا جىسے مفتى صاحب کے پاس کوئى مسئلہ پوچھنے آیا اور اس نے سلام کىا تو مفتى صاحب پر سلام کا جواب دینا واجب نہىں،لیکن اُمّید ہے مفتی صاحب جواب دیتے ہوں گے اور دینا بھی چاہیے ورنہ وہ غَلَط فہمی کا شِکار ہو گا ۔صِرف سر ہلا دیا سلام کا جواب نہیں دیا تو وہ  اپنی جہالت پر  رونے کے بجائے بدگمان ہو گا کہ سلام کا جواب نہیں دیا ۔ہاں!اگر کوئی مفتی صاحب کے پاس بھی ملاقات کے لیے آیا ہو اور وہ سلام کرے تو ان کے لیے سلام کا جواب دینا واجب ہو گا ۔ نیز کچہری میں قاضی جب اجلاس کر رہا ہو، اس کو سلام کیا گیا قاضی پر جواب دینا واجب نہیں ۔([3]) لوگ کھانا کھا رہے ہوں اس وقت کوئی آیا تو سلام نہ کرے ، یہ اس وقت ہے کہ کھانے والے کے منہ میں لقمہ ہے اور وہ  چبا رہا ہے کہ اس وقت وہ جواب دینے سے عاجز ہے اور ابھی کھانے کے لیے بیٹھا ہی ہے یا  کھا چکا ہے تو سلام کر سکتا ہے کہ اب وہ عاجز یعنی مجبور  نہیں ۔([4])یوں ہی اگر یہ بھوکا ہے اور جانتا ہے کہ وہ لوگ اسے کھانے میں شریک کر لیں گے تو سلام کر لے ۔([5])

سفید مُرغ کے فوائد

سُوال : کہا جاتا ہے کہ سفید مرغ گھر میں رکھنا چاہیے اس سے بلائیں ٹلتی ہیں،لیکن اگر وہ مُرغ کاٹتا ہو تو کیا کریں؟

جواب : ضَروری نہیں کہ بلائیں صِرف سفید مُرغ سے ہی ٹلیں،اگر وہ  کاٹتا ہے تو چھری اسے کاٹ دے گی ۔البتہ حدیثِ پاک میں سفید مُرغ  گھر میں رکھنے کی تَرغیب اس طرح ہے کہ جِن اور بلائیں وغیرہ اس سے بھاگتے ہیں ۔ ([6]) ایسے مضامین اَحادیثِ مُبارَکہ میں موجود ہیں ۔ فیضانِ سنَّت جلد اول کے باب ”آدابِ طعام“ میں سفید مُرغ کے بارے میں روایات ذِکر کی گئی ہیں ۔

کیا رُوح ہمیشہ زندہ رہتی ہے ؟

سُوال : کہتے ہیں بدن مَرتا ہے رُوح نہیں مَرتی ،یہ بھی سُنا ہے کہ اَحادیثِ مُبارَکہ سے ثابت ہے عذابِ قبر رُوح اور بدن دونوں کو ہو گا ۔ان دونوں باتوں کی وضاحت فرمادیجیے ۔

جواب : اِس میں کوئی شک نہیں کہ عذاب اور ثواب رُوح اور بدن دونوں کے لیے ہے ، اور بدن مَرتا ہے رُوح نہیں مَرتی کیونکہ رُوح کو فنا نہیں یہ باقی رہے گی ۔  اور جسم سڑ ے گا گلے گا، مگر جسم کا ایک باریک ذَرّہ جسے ”عجبُ الذنب“ کہتے ہیں  یہ نظر نہیں آتا اسے فنا نہیں  اسے نہ آگ جَلا سکتی ہے نہ زمین گلا سکتی ہے یہ باقی رہتا ہے اسی پرقیامت کے دِن بدن کی تَرکیب ہو گی ۔ یہ سمجھو کہ بَدن کی اصل اور بنیاد یہی ”عجبُ الذنب“ ہے ۔ عذاب و ثواب جسم اور رُوح دونوں پر ہے اور بدن کے ساتھ رُوح کا  تعلق ہوتا ہے ورنہ بدن کو عذاب کا کس طرح پتا چلے گا ۔([7]) (امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا : ) اصل اِدراک یعنی محسوس رُوح ہی کرتی ہے ۔

ا چار کھا کر مسجد میں جاناکیسا؟

سُوال : اچار کھاکر وُضو کرتے ہیں اس کے باوجود اس کی خوشبو مُنہ میں رہ جاتی ہے کیا اس حالت میں مسجد میں جاسکتے ہیں؟

جواب : مسجد میں خوشبو ہونا تو منع نہیں ہے بلکہ اچھا کام ہے ،اگر واقعی اچار میں خوشبو ہے تو یہ کھاکر مسجد آنے میں حرج نہیں ۔مگر اچار میں کچا لہسن یا کچی پیاز کھائی ہے تو یہ خوشبو نہیں بَدبو ہے اس حالت میں مسجد میں نہیں آ سکتے ۔([8])اب اچار کھا کر مسجد آنے والا خود فیصلہ کر لے کہ اچار خوشبو دار ہے یا بدبودار ۔

معجزے اور علاماتِ قیامت میں فرق ہے

سُوال : ہم نے سُنا ہے کہ پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ڈوبے ہوئے سورج کو پلٹادیا تھا پھر اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عَلِیُّ المرتَضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے نماز بھی ادا فرمائی تھی ۔  یہ بتائیے کہ  کیا قیامت سے پہلے بھی سورج پلٹ سکتا ہے ؟

جواب : قیامت کی نشانیوں میں سورج کا مغرب سے نکلنا الگ ہے ،سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا سورج کو واپس لوٹانا الگ ہے کہ یہ معجزہ ہے اور وہ قیامت کی نشانی ۔ قیامت کی نشانیوں



[1]    ترمذی ،کتاب  الاطعمه،باب ماجاء فی الحمد علی الطعام اذا فرغ منه،۳ / ۳۲۰،حدیث : ۱۸۲۳ دار الفکر بیروت

[2]    بزازیه ھامش علی فتاویٰ ھندیه،کتاب الکراھیه،نوع فی السلام،۶ / ۳۵۴ دار الفکر بیروت

[3]    ردالمحتار،کتاب الحظر والإباحة، فصل فی البیع،۹ /  ۶۸۹ 

[4]    ردالمحتار،کتاب الحظر والإباحة، فصل فی البیع،۹ /  ۶۸۵ماخوذاً 

[5]    ردالمحتار،کتاب الحظر والإباحة، فصل فی البیع،۹ /  ۶۸۶

[6]    معجمِ اوسط ، با ب الف،من اسمه محمد،۱ / ۲۰۱،حديث : ۶۷۷ 

[7]    فتاویٰ رضویہ ،۹ / ۶۵۸ ماخوذاً

[8]   بہار شریعت ،۱ / ۶۴۸،حصہ : ۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن