30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب : مَدَنی مُنّوں کو شوق دِلانے کے لیے انہیں اِنعام دیا جائے ،تحفے تحائف پیش کیے جائیں اور کسی اچھے کام پر خوب حوصلہ افزائی کی جائے اگر ایسا کیا گیا اور پھر کسی مَدَنی مُنّے کو اس کی غَلَطی پر ڈانٹا بھی تو اسے شرمندگی ہو گی کہ آج مجھے ڈانٹ پڑی ہے ۔اگر اس کی اچھائیوں پر کوئی حوصلہ افزائی نہ ہوئی اور بُرائیوں پر مار دھاڑ کا سِلسِلہ ہوا تو یہ مَدَنی مُنّا راہِ فرار اِختیار کرے گا ۔
آبِ زَم زَم میں ملاوٹ کی ہوتو بتادینا بہتر ہے
سُوال : حج یا عمرے سے آنے والے بعض لوگ کھجور اور زَم زَم شریف میں ملاوٹ کر کے دوسروں کو دیتے ہیں کیا یہ دُرُست ہے ؟
جواب : بول کر دینا چاہیے کہ آبِ زَم زَم میں ہم نے اتنا پانی باہر کا ملایا ہے ۔اگر آبِ زَم زَم زیادہ ہے تو بتا دیا جائے کہ آبِ زَم زَم زیادہ ہے اور باہر والا پانی کم ہے تاکہ اس کو کھڑے ہوکر ہی پیا جائے ۔اگر آبِ زَم زَم کم ہے تب بھی ظاہر کر دیا جائے کہ اس میں باہر کا پانی زیادہ ہے اور آبِ زَم زَم کم ہے کہ صِرف بَرکت کے لیے شامل کیا گیا ہے تاکہ اس کو بیٹھ کر پیا جائے ۔کھجوروں میں بھی بول دینا بہتر ہے کہ اس میں کھجوریں مکس ہیں ورنہ لوگ عام طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ مدینے کی کھجوریں ہیں ۔اس خوف میں نہ رہیں کہ اگر بتا دیا تو Impression خراب پڑے گا کہ اس کا مطلب ہے دھوکا دینے کا ذہن ہے جوکہ بہت ہی رسکی معاملہ ہے ۔ اگر کسی کو بولنے میں عار محسوس ہو تو یہ ترکیب کرے کہ کسی پرچے پر یہ ٹائپ کروالیں : ”آبِ زَم زَم کم ہے اور سادھا پانی زیادہ ہے “ یا اس کا اُلٹ لکھ دیں ۔ یوں ہی کھجوروں میں بھی کہ ” کچھ کھجوریں مدینے شریف کی ہیں اور کچھ ہم نے یہاں سے مثلاً پاکستان یا ہند سے خریدی ہیں ۔“ یوں لکھنے میں شرم تو آئے گی مگر سب کو بولنا نہیں پڑے گا اگر کوئی خود کہے تو اس کو سمجھادیں کہ بہت سارے لوگوں کو دینی ہوتی ہیں اتنی کھجوریں اور پانی ہم کیسے لائیں کہ ہوائی جہاز میں بھی مخصوص مقدار لانے کی اِجازت ہے جیسے پانی صرف پانچ لیٹر لاسکتے ہیں ۔ اگر یوں ترکیب کریں گے تو مدینہ مدینہ ہوجائے گا ۔
سُوال : ہم بہن بھائیوں کے بال تیرہ یا چودہ سال کی عمر میں سفید ہوگئے تھے جس کی وجہ سے شادی کے لیے رشتے نہیں آتے اور لوگ دِل آزاری کرتے ہیں کیا ہم شادی کے اچھے رشتے کے لیے اپنے بالوں پر کلر کر سکتے ہیں؟(سوئی بلوچستان سے سُوال)
جواب : جی ہاں!بالوں پر لال یا براؤن کلر کرلیں اس میں کوئی حرج نہیں، مگر کالا یا ڈارک براؤن نہ ہو ۔
سُوال : آج کل تعویذات کا بہت رواج ہے کیا تعویذات سے واقعی اثر ہوتا ہے ؟
جواب : تعویذ کا سلسلہ آج کا نہیں ہے بلکہ تعویذ دینا تو صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے ثابت ہے ۔([1]) تعویذات دونوں طرح کے ہوتے ہیں صحیح بھی اور غَلَط بھی ان میں جو صحیح تعویذ ہے وہ صحیح ہے اور جو غَلَط تعویذ ہے وہ غَلَط ہے ۔([2])
سُوال : کن ہستیوں کا نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا؟ نیز اگر ہم وضو کر کے سوئیں تو فجر میں اُٹھنے تک ہمارا وضو باقی رہے گا؟
جواب : اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وُضو سونے سے نہیں ٹوٹتا کیونکہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں دِل جاگتے ہیں ۔([3])باقی عام لوگوں کا سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے مگر نیند سے وُضو ٹوٹنے کی شرائط ہیں جیسے کس طرح سویا؟ غافل تھا یا نہیں؟ سرین زمین پر اچھی طرح جمے ہوئے تھے یا نہیں؟اگر سرین زمین پر جمے ہوئے ہوں اور آنکھ لگ گئی جیسے کرسی پر بیٹھے بیٹھے نیند آگئی تو وضو نہیں ٹوٹے گا اور سرین جمے ہوئے نہیں تو وضو ٹوٹ جائے گا ۔اس کی مکمل تفصیل ”نماز کے اَحکام“ کتاب میں موجود”وضو کا طریقہ“ نامی رسالے میں ہے ۔ (امیر ِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا : ) اگر کوئی ایسی ہیئت پر سویا جو نیند آنے میں رُکاوٹ ہے جیسے کھڑے کھڑے سو گیا اس میں اگرچہ سرین نہیں جمے ہوئے پھر بھی وضو نہیں ٹوٹے گا ۔([4])
پانی ضائع کرنے کے مواقِع کی نشاندہی
از : شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنّت،بانیِ دعوت ِاسلامی حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ
(1) برتن،کپڑے ،گاڑیاں نیز گھر،دکان اور مَساجِد کے فرش وغیرہ دھوتے ہوئے عموماً ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کیاجاتاہے (2) نہاتے ہوئے اکثر خوب پریشر کے ساتھ پانی بہا یا جاتا اور صابن یاشیمپواستعمال کرتے وقت بھی بسااوقات شاوَر یا نَل کھلارہتاہے اورپانی ضائع ہو رہاہوتاہے ۔ یاد رہے ! بِلا وجہ پانی کا حاجت سے زائد استعمال کئی صورتوں میں حرام و جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے ۔ (3)وضو کرتے ہوئے ، خواہ مخواہ دھار تیز رکھی جاتی اور اس میں بھی بالخصوص سر کے مسح کے وقت نَل کُھلارہتاہے اور پانی بے تحاشا ضائع ہو رہا ہوتاہے (4)پینے کے بعدگلاس میں بچا ہوا پانی اکثر گِراکرضائع کردیاجاتاہے ۔ (5)استنجا خانے میں جہاں صفائی کیلئے ایک یادولوٹوں سے کام چل سکتاتھاوہاں ضرورت سے بڑے فلش ٹینک کے ذَرِیعے کئی لوٹوں جتناپانی بہا دیا جاتا ہے (6)استنجا کرتے وقت، واش روم سے فارغ ہونے کے بعد نیز کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھوتے ہوئے بھی بسا اوقات نل کے پانی کی دھار کا پریشر بہت زیادہ رکھا جاتا ہے ۔
حُجَّۃُ الْاِسْلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِینقل فرماتے ہیں : بے شک اُس دسترخوان پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں جس پرسبزی موجود ہو ۔(اِحْیاءُ عُلُومِ الدّین،۲ / ۲۲ دارصادر بیروت)
[1] بخاری،کتاب الطب،باب الشرط فى الرقية بقطيع من الغنم،۴ / ۳۱،حدیث : ۵۷۳۷ ماخوذاً دار الكتب العلمية بيروت
[2] بہارِ شریعت میں ہے : بچوں یا بڑوں کو تعویذ پہننا بالکل جائز ہے جبکہ وہ تعویذ آیاتِ قرآنیہ یا اسمائے الٰہیہ یا دعاؤں پر مشتمل ہو ۔ بعض احادیث میں تعویذ کی جو ممانعت آئی ہے اس سے مراد وہ تعویذات ہیں جو ناجائز الفاظ پر مشتمل ہوں جیسا کہ زمانہ جاہلیت کے تعویذات ہوتے تھے ۔ (بہارِ شریعت،۳ / ۴۱۹، حصہ : ۱۶)
[3] بخاری ،کتاب الاذان،باب وضوء الصبیان…الخ،۱ / ۲۹۷،حدیث : ۸۵۷ ماخوذاً
[4] فتاویٰ رضویہ ،۱ / ۴۸۸،جز : الف ماخوذاً
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع