30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غیرت وغیرہ قسم کے گھٹیا اَلفاظ اِستعمال کیے جائیں ۔اگرچہ یہ گندی گالیاں نہیں لیکن پھر بھی ان اَلفاظ سے بھی بچا جائے ۔ مَدَنی منوں کو ان کا معنیٰ معلوم نہیں ہوگا اور وہ دوسروں کے سامنے ذِکر کر دیں گے کہ قاری صاحب نے ہمیں یہ اَلقاب دئیے ہیں،لہٰذا اچھے اَلفاظ ہی اِستعمال کیے جائیں اور حکمتِ عملی کے ساتھ ڈرایا جائے ۔
ہمارے یہاں مدارسُ المدینہ میں پہلے یہ ترکیب تھی کہ طالبِ عِلم کو ہاتھ اونچے کروا کر کھڑا کر دیا جاتا تھوڑی ہی دیر میں اس کو پتا لگ جاتا تھا ۔ یہ سزا بھی زیادہ دیر تک نہیں دینی چاہیے کہ مَدَنی منے کے ہاتھ میں ہی دَرد ہو جائے بلکہ مناسب وقت تک ہو جیسے ہاتھ اٹھواکر کہا جائے کہ 111تک گنتی گنو اس دَوران قاری صاحب دیکھتے رہیں گنتی مکمل ہونے پر بٹھا دیں ۔ یوں نہ مار پٹائی ہوئی اور نہ کوئی نقصان ۔مار پٹائی سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ ہو سکتا ہے مَدَنی مُنا مزید ڈھیٹ اور اپنے قاری صاحب ہی سے بَدظن ہو جائے ۔ جو والدین بھی بچوں کو مارتے ہیں ان کے بچے ڈھیٹ ہو جاتے ہیں ۔اسکول ٹیچروں کے ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ کسی ٹیچر نے طالبِ عِلم کو مارا پیٹا تو اس طالبِ عِلم نے اِنتقام لینے کے لیے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اس ٹیچر کی ٹھکائی لگادی ۔ اب بھی شاید اس طرح کے واقعات ہوتے ہوں گے بلکہ ہوسکتا ہے پہلے سے زیادہ ہو گئے ہوں کیونکہ الیکٹرونک میڈیا پر مارنے کے طریقے بھی سکھائے جاتے ہوں گے کہ یوں مارنا ہے یوں گھسیٹنا ہے اور بھی نہ جانے کیا کیا کرتے ہوں گے ۔مار پیٹ کی دُنیا بھر میں بَدنامی ہے ۔ اگر کوئی مسلمان یا عالِمِ دِین بلکہ کوئی داڑھی والا بھی مار پٹائی کرے گا تو مذہبی طبقے کی بَدنامی ہو گی اور اب تو سوشل میڈیا کا دور ہے لوگ سوشل میڈیا پر اس طرح کی باتیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں ۔پھر غیر مسلم بھی اس کا غَلَط تأثر دیتے ہیں کہ اِسلام میں مار دھاڑ ہے حالانکہ اِسلام میں تو چیونٹی پر بھی ظلم کا تَصَوُّر نہیں ہے ۔([1]) اس کے باوجود اگر کوئی مسلمان مار دھاڑ کرتا ہے تو یہ اس کاMeter Personal (یعنی ذاتی مسئلہ) ہے ۔ اِسلام نے اس کو مار دھاڑ کی اِجازت نہیں دی لہٰذا جو بھی اس انداز سے مار دھاڑ کرتا ہے وہ غَلَط ہے ۔ اسلام میں نرمی،پیار اور حُسنِ اَخلاق کا دَرس دیا جاتا ہے اللہ کرے یہ سب کو نصیب ہوجائے ۔ کسی کے بچے کو مارتے وقت اپنا بچہ یاد آنا چاہیے کہ میرے بچے کو کوئی مارے تو میں برداشت کرسکوں گا؟یہ بھی تو کسی کا بچہ ہے میں اس کو ماروں گا تو کیا اس کے ماں باپ اس کو دیکھ سکیں گے ؟
سُوال : کیا قیامت کے روز ایسا ہو سکتا ہے کہ مارنے والا ظالم اور جس کو مارا گیا وہ مظلوم بن کر کھڑا ہو؟ (نگرانِ شُوریٰ کا سُوال)
جواب : اگر ایسا مارا ہے جس کو ظلم سے تعبیر کیا جائے تو بیشک ایسا ہو گا کہ اس دِن تو چیونٹی کا چیونٹی سے بدلہ لیا جائے گا ۔([2]) اور مُنڈی بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا ۔([3])اور جو ظالم ہوگا اس کی نیکیاں مَظلوم کو دے دی جائیں گی اگر ظالم کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو مَظلوم کے گناہ اس کو دئیے جائیں گے ۔([4]) یاد رکھیے ! ظلم نہ کسی کافر پر کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی جانور پر تو ایک حقیقی مسلمان دوسرے مسلمان پر کس طرح ظلم کر سکتا ہے ؟ظلم اندھیرا ہے اور اندھیرا قیامت کے لیے ہے ۔اگر کسی نے بھول کر بھی ظلم کیا ہو تو اُسے چاہیے کہ فوراً اس کی تلافی کرے اور توبہ کرے ۔ اگر کسی نابالغ پرظلم کیا تو اور بھی سخت معاملہ ہے کہ وہ ظلم کو معاف نہیں کرسکتا اور معاف کرے بھی تو معاف نہیں ہوگا،اب اس کے بالغ ہونے کا اِنتظار کرے جب یہ بالغ ہو جائے تب اس سے معافی مانگے اس معاملے میں بہت زیادہ ڈرنے کی ضَرورت ہے ۔
ظلم کی سزا بسااوقات دُنیا میں بھی مل جاتی ہے
بعض اوقات مَدَنی مُنّے پر ظلم کی سزا دُنیا میں بھی مل جاتی ہے جیسے کسی ایسے بچے کو مارا جس کا باپ یا بھائی سخت ہو تو وہ مارنے والے کے پرخچے اُڑا دیتا ہوگا یا توڑ پھوڑ کرڈالتا ہوگا اور دھمکی بھی دیتا ہوگا کہ کیا سمجھ رکھا ہے ؟یہ سب دُنیوی سزا ئیں ہیں ۔ اب اگر اس مدنی منے کے باپ یا بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی یا بیٹے کی حمایت میں اُستاد کو مارا اور حَد سے بڑھ گیا تو یہ بھی ظلم کا مُرتکب ہوا ۔ اس طرح کے کئی مَسائل پیدا ہوں گے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اُستاد کی پیاری اور میٹھی زبان ہو ورنہ یہ معاملات عمر بھر یاد رہیں گے ۔
بچوں کو مارنے والا اُستاد اچھا نہیں لگتا
مَدَنی مُنّوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنے والا استاد انہیں ہمیشہ یاد رہتا ہے جیسے جب میں پہلی جماعت میں پڑھتا تھا تو اس وقت ہمارے ایک Teacher(یعنی استاد) تھے جو مسکراتے رہتے تھے مارتے نہیں تھے اگر کبھی مارنے کی ضَرورت بھی ہوتی تو پیٹھ پر اس طرح مارتے جیسے دھول اُڑا رہے ہوں،وہ آج بھی بہت میٹھے لگتے ہیں ۔اب شاید بے چارے زندہ نہیں ہوں گے ۔جو استاد مارتے تھے ان کا Impression ہی ذہن میں مائنس بیٹھ جاتا تھا کہ یہ مارتے ہیں ۔ یہ میرے بچپن کی بات ہے اُس دور اور آج کے دور میں بہت فرق ہے ۔بچوں کو مارنے والا استاد اچھا نہیں لگتا ان کے دِل میں اس استاد کی نفرت بیٹھ جاتی ہے ۔ پہلی جماعت کے بچوں کو بھی مارتے ہیں ان کی عمر ہی کتنی ہوتی ہے یہ تو برابر بولنا بھی نہیں جانتے ان کو ماریں گے تو بعض اوقات انہیں معلوم بھی نہیں ہوتا ہو گا کہ ہمیں کیوں مارا؟ لہٰذا مارنے کے بجائے پیار سے سمجھایا جائے یا ضَرورتاً ڈرا یا جائے یا دھمکی دی جائے ۔
مَدَنی مُنّوں میں پڑھائی کا شوق کیسے پیدا کریں؟
سُوال : دو چیزیں ہوتی ہیں خوف اور شوق ۔ خوف کے حوالے سے آپ نے مَدَنی پھول عطا فرمائے یہ اِرشاد فرمائیے کہ مَدَنی مُنوں کو پڑھنے کا شوق کس طرح دِلایا جائے ؟ (امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے اسلامی بھائی کا سُوال)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع