30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فُلاں ولى کا مزار شریف ہے ،ىہ فُلاں ولى کى دَرگاہ ہے تو اس طرح بھى ان کا ذہن بنتا چلا جائے گا اور اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان کے دِلوں میں ولیوں کی محبت گھر کرتی چلی جائے گی ۔
اُلٹی جوتی سیدھی نہ کرنا کیسا؟
سُوال : اُلٹى جوتى کا رُخ قبلے کى طرف ہو تو کىا اسے سىدھا نہ کرنا گناہ ہے ؟
جواب : اگر جان بوجھ کر اُلٹى جوتى رکھ دى تب بھى گناہ نہىں ہے البتہ اگر اُلٹى جوتی دىکھ کر سىدھى نہ کى جائے تو اس کے سبب تنگدستى آتى ہے ۔لہٰذا اگر اُلٹی جوتی نظر آئے تو سىدھى کر دى جائے اگرچہ قبلہ رُخ ہو ىا نہ ہو ۔
سُوال : غصے مىں آکر بىٹے نے باپ سے مار پىٹ کرلى تو بىٹے پر کىا حکم لگے گا؟
جواب : ایسے بیٹے پر بہت سخت حکم لگے گا ۔والد کو مارا اس سے پہلے اس کو خود مَر جانا اوردُنىا سے چلے جانا چاہىے کیونکہ یہ بہت بڑا پا پ(یعنی جُرم)ہے ۔ جو بھى سنے گا پھٹکار بھىجے گا کہ کىسا بىٹا ہے ؟بہرحال جو ایسی نادانی کر چکا ہو تو اسے رو رو کر اللہ پاک کى بارگاہ مىں توبہ کرنى اور کسى بھى طرح والد صاحب کو راضى کرنا ہوگا ۔ اگر والد صاحب بولیں کہ تىرى جتنى بھى جائىداد ہے مجھے دے دے ،خالى پہنے ہوئے کپڑوں کے ساتھ رہ، تب معاف کروں گا!تو بیٹے کو چاہیے کہ والد کو راضى کرنے کے لیے سب کچھ دے دے ۔ ظلم کرنے کے لیے اس کو باپ ہی ملا تھا ۔ظلم تو ظلم ہے کسى پر حتّٰی کہ اىک چىونٹى پر بھى ظلم نہیں کر سکتے چہ جائیکہ والد پر ظلم کیا جائے ۔ توبہ!اَسْتَغْفِرُ اللہ! ۔اللہ پاک سچى توبہ اور اس کے تقاضے پورے کرنا نصىب فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
والدین کی تعظیم پر بزرگانِ دین کے واقعات
سُوال : والد صاحب سے بات کرنے کا طرىقہ کار اور آداب کىسے پتا چلیں؟ کچھ سمجھ نہىں آرہا،ملک اور بیرون ملک اس معاملے میں بھى بُرا حال ہے ۔ اب وہ حالت ہے کہ آپ کا دیا ہوا ایک مَدَنى پھول ىاد آرہا ہے کہ جب آپ سے ایک مَدَنی مذاکرے میں سُوال ہوا تھا کہ اگرپىر روٹھ جائے تو مُرىد اسے کىسے منائے ؟ تو آپ نے فرماىا تھا کہ”اب مُرىد کو پڑى کب ہے کہ پىر کو راضى کرے ۔“ آج کل جس طرح پیری مُرىدى کا بُرا حال ہے کہ پىر کے حوالے سے مقام مرتبہ اور تعظىم وغىرہ نہىں پائى جاتى تو اىسی ہی بے عملى والدىن کے معاملے مىں بھى ہے ۔ والد کے آگے چلنے کو بھى بے ادبى قرا ر دىا گىا کہ اس کے آگے نہ چلىں ۔اب اولاد کو کىسے سمجھائىں کہ ماں اور باپ کا مرتبہ کیا ہے ؟ (نگرانِ شُورىٰ کا سُوال)(امیرِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے فرمایا : ) مطلقاً بزرگوں کے آگے نہىں چلنا چاہىے کہ ادب کے خلاف ہے ۔
امام ابنِ سیرین اور والدہ کا اَدب
(نگرانِ شُورىٰ نے مزید فرمایا : )اب ىہ کس طرح اولاد کو سمجھائىں کہ والدین کے سامنے نگاہىں جھکائىں،خشىت کا اِظہار کریں ۔ حضرتِ سَیِّدُنا امام ابنِ سىرىن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن بہت بڑے مُحَدِّث تھے ، ان کی بہت شہرت تھی ۔کوئی ان کی زیارت کے لیے آیا لیکن وہ وہاں نہىں ملے جہاں حدىث پڑھاتے تھے ۔وہ تلاش کرنے کے لیے نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک اِنتہائى بوڑھى عورت کے آگے اىک بہت ہى کمزور قسم کا ڈرا سہما شخص بىٹھا ہوا ہے ۔کسى نے کہا کہ ىہی امام ابنِ سىرىن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُبِیْن ہىں ۔اس نے پوچھا : ىہ کس حالت میں ہیں؟ کہا کہ ىہ اپنى والدہ کے آگے بىٹھے ہىں اور ماں کى محبت اور تعظىم کے سبب اسی طرح ڈرے سہمے بیٹھتے ہیں ۔([1])
حضرت بایزید بسطامی اور والدہ کا ادب
جواب : حضرتِ سیِّدُنا باىزىد بسطامى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کا واقعہ بھى ہے کہ ایک سخت سردى کى رات ماں نے پانى منگواىا ۔ ىہ پانى لے کر آئے تو ماں کى آنکھ لگ چکی تھى ۔ گھنٹوں گزرنے کے بعد صبح سویرے ماں کى آنکھ کھلى تو کیا دیکھا کہ باىزىد بسطامى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی پانى کا برتن لے کر کھڑے تھے ۔سخت سردی کی وجہ سے پانى برف ہوگىا تھا اور انگلى برتن سے چپک گئى تھى ۔جب انہوں نے برتن الگ کىا تو کھال چھل گئى اور خون بہنے لگا ۔ ماں بولى : بىٹا!یہ کیا؟ عرض کی : آپ نے پانى منگواىا تھا لیکن مىں نے آپ کو اُٹھانا مناسب نہ سمجھا اور کھڑا رہا کہ آنکھ کھلے تو پانی پیش کروں ۔([2]) بس وہ ادب کرنے والے کر گئے اور مزاروں مىں مزے لے رہے ہىں ۔ہم لوگ تو والدین کو بات بات پر باتیں سناتے ہیں اور ہمارى گفتگو کا انداز ىہ ہوتا ہے کہ ماں کھانا گرم کىوں نہىں کىا؟ تجھے بولا تھا کپڑے جلدى اِسترى کر کے رکھ دىنا مجھے جلدى جانا ہے لیکن ابھی تک اِستری نہیں کی ۔اللہ پاک ہماری مغفرت فرمائے اور ہمیں ایسا بنادے کہ ماں باپ کے سامنے نہ آنکھىں اُٹھىں اور نہ آواز نکلے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سُوال : قرآنِ پاک پڑھنے والا بچہ اگر چھٹی کرے ،اپنی پڑھائی پر توجہ دینے کے بجائے لاپرواہی برتے بلکہ مذاق مستی کرے تو اس صورت میں قاری صاحب کو اس کے ساتھ کیسا انداز اِختیار کرنا چاہیے ؟ کیا وہ اس پر سختی کرتے ہوئے اسے مار پیٹ سکتے ہیں؟
جواب : شریعت کے دائرے میں ہی رہنا ہو گا ۔ ہمارے مدارسُ المدینہ میں مارنا تو بہت دور کی بات ہے ہاتھ لگانا تک منع ہے اور ڈنڈی رکھنے کی تو بالکل اجازت ہی نہیں ہے ۔قاری صاحبان کو چاہیے وہ ان مَدَنی مُنّوں کو شفقت اور پیار سے پڑھائیں ضَرورتاً ڈانٹا جائے یا آنکھیں دکھائی جائیں لیکن اس میں بھی گالی گلوچ ،چیخ و پکار یا مسجد کی توہین نہ ہو،اور نہ ہی بے حیا اور بے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع