30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرتا ہے ،تمہاری گمشدہ اسکوٹر لا کر تمہىں دے دىتا ہے تو یہ مدد کرنے کى طاقت اسے اللہ پاک نے ہى تو دى ہے ، جب جان خطرے مىں ہوتى ہے تو ڈاکٹر سے بھى تو ہم مدد مانگتے ہىں کہ ڈاکٹر صاحب جتنا خرچہ ہوتا ہے ہونے دو ، آپرىشن ہوتا ہے تو وہ بھى کر ڈالو مگر جان بچا لو، جج سے بھی مدد مانگتے ہىں،کہیں سے گر کر چوٹ لگ جائے تو ماں کو مدد کے لیے پکارتے ہیں کہ ماں آ کر سنبھال لے ،جب اتنے سارے لوگوں سے مدد مانگتے ہیں تو پھر اَولیائے کِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے مدد کیوں نہیں مانگ سکتے ؟ىہ غَلَط فہمىاں شىطان نے پیدا کی ہوئى ہىں لہٰذا اَولیائے کِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے مدد مانگنے مىں کوئى حرج نہىں ہے ۔
اَولیائے کِرام وصال کے بعد بھی مدد فرماتے ہیں
سُوال : اَولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے دُنیا سے پَردہ فرمانے کے بعد بھی کیا انہیں مدد کے لیے پکار سکتے ہیں؟ ([1])
جواب : اہلُ اللہ (یعنی اللہ والے ) جب دُنىا سے رُخصت ہوتے ہىں تو وہ ان کے اَجر اور اِنعام ملنے کا وقت ہوتا ہے ۔ اب اس اَجر اور اِنعام ملنے کے وقت انہیں بے کس اور بے بس بنا دىا جائے کہ ىہ کچھ کر ہى نہ سکیں ىہ کىسے ہو سکتا ہے ۔ وصال کے بعد تو پہلے سے زىادہ ان مىں مدد کرنے کى طاقت آ جاتی ہے ۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی جو پانچوىں صَدى کے مُجَدِّد اور بہت بڑے وَلِىُّ اللہ تھے اور مسلمانوں کى بھارى تعداد ان سے واقف ہے ىہ فرماتے ہیں : جس سے زندگى مىں مدد مانگى جا سکتى ہے اس سے مَرنے کے بعد بھى مدد مانگى جا سکتى ہے ۔([2]) حضرتِ سَیِّدُنا شیخ عبدُالحق مُحَدِّث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے چار بزرگوں کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ قبر مىں ہونے کے باوجود زندوں کی طرح تَصَرُّف کرتے ہىں ىعنى اللہ پاک کے دىئے ہوئے اِختىارات اِستعمال کرتے ہوئے مدد وغىرہ فرماتے ہىں ان میں سے ایک شىخ عبدُالقادر جىلانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبَانِی کا بھى نام ہے ۔([3])اَولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کو دُنیا سے پَردہ فرمانے کے بعد بھی مدد کے لیے پکارنے میں کوئى مسئلہ نہىں ہے ۔
غوثِ پاک کا نام سُن کر کس کو کیا ہوتا ہے ؟
اب بھی اگر کوئی کہے کہ یَارَسُوْلَ اللہ،ىا غوث پاک کىوں بولتے ہو؟ تو اس سے یہی کہا جائے گا کہ قبرستان جا کر اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَااَھْلَ الْقُبُوْر کىوں کہتے ہو؟قبر والوں مىں نمازی،شرابى اور چور ڈاکو سب موجود ہوتے ہىں اس کے باوجود انہیں یَااَھْلَ الْقُبُوْر کہہ کر پکارا جاتا ہے ،قبرستان مىلوں مىلوں تک پھىلا ہوا ہوتا ہے ،(اِس موقع پر امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مَرکز الاولیا لاہور سے عالَمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی آنے والے اسلامی بھائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اِرشاد فرمایاکہ)آپ کا مىانی قبرستان کتنے مىل پر پھىلا ہوا ہے ، ہو سکتا ہے کہ یہ پاکستان کا سب سے بڑا قبرستان ہو ۔ اس کے سرے پر کھڑے ہو کر کوئی اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَااَھْلَ الْقُبُوْر کہے تو شىطان کبھى وسوسہ نہىں ڈالتا، جہاں ىا غوثِ پاک کہا تو شىطان فوراً وسوسہ ڈال دیتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غوثِ پاک کے نام مىں کوئى کرنٹ ہے ،اس سے عشاق کے دِل مىں فَرحت و سُرور پىدا ہوتا ہے جبکہ کئی لوگوں کو ا س سے تکلىف ہوتى ہے ، اللہ کرىم ایسوں کو بھی اس تکلىف سے شفا عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
سوچنے والے نہیں، ماننے والے بن جاؤ
اَولیائے کِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے بارے میں سوچنے والے نہیں، ماننے والے بن جاؤ ۔ جو اَولیا کے بارے میں اس طرح کی(کہ انہیں مدد کے لیے نہیں پکارنا چاہیے ،یہ کچھ نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ ) باتىں کرتے ہیں،انہیں سننے سے ہمارے کان بہرے ہىں،انہیں سننا ہی نہىں، سنیں گے تو عِلم کی کمی کی وجہ سے وَسوسوں مىں پڑىں گے ۔ اللہ پاک ہم سب کا اِىمان سلامت رکھے ، ہمىں نىک اور اىک بنادے اور جن کو وساوس آتے ہىں اللہ پاک ان کے وساوس کو بھی دور فرما دے تاکہ وہ بھى ہمارے ساتھ مل کر مسجدىں بناؤ اور نمازى بڑھاؤ تحرىک کا حصہ بن جائىں ۔اَولیائے کِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کو پکارنے کے بارے میں وساوس کو قریب مَت آنے دو ۔اَولىائے کِرام نے بھى اولىائے کِرام کو پکارنے کى اِجازت دى ہے ، اِس طرح کے سُوالات کے جوابات سے کُتُب بھرى پڑى ہىں،مکتبۃُ المدىنہ نے ”کراماتِ شىر خُدا “اىک رِسالہ چھاپا ہے ،([4]) اس کے آخر مىں کئى صفحات پر سوالاً جواباً مدد مانگنے کا مسئلہ بىان کىا گىا ہے ، اِس کا مُطالعہ کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ شىطان قرىب نہىں آئے گا اور سارے وَساوس بھی ختم ہو جائىں گے ۔
سُوال : پىرِ کامل مىں کون کون سى خصوصىات ہونى چاہىے ؟
جواب : پىرِ کامل وہ ہوتا ہے جو پیری مُریدی کے قابِل ہو ۔کامل ایک اِضافی لفظ ہے جو جناب کی طرح تعظیماً بولا جاتا ہے ۔ورنہ جو پیر ہے وہ کامل ہی ہے اور جو ناقص ہے وہ پىر نہیں بن سکتا ۔ کامل پىر کے لىے چار بنىادىں ضَرورى ہىں جبھی چھت کھڑى رہے گى،اگر اىک بنىاد بھی کمزور ہوئی تو چھت گر جائے گی ۔یعنی وہ پیری مُریدی نہیں کر سکے گا ۔
[1] یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)
[2] احیاء العلوم، کتاب آداب السفر،الباب الاول فی الآداب من اول النھوز...الخ،۲ / ۳۰۸ ماخوذاً
[3] لمعات التنقیح ، کتاب الجنائز،باب زیارة القبور،۴ / ۲۱۵،تحت الباب : ۸ ماخوذاً دار النوادر للبنانیة بیروت
حضرتِ سَیِّدُنا شیخ علی بن ہیتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے فرمایا : میں نے چار مشائخ کو دیکھا جو اپنی قبروں میں بھی زندوں کی طرح تصرف فرماتے ہیں ۔ان میں سے ایک حضرتِ سَیِّدُناشیخ عبد القادر جیلانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِی،دوسرے حضرت شیخ معروف کرخی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی،تیسرے حضرتِ سَیِّدُناشیخ عقیل منجبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اورچوتھے حضرتِ سَیِّدُنا شیخ حیا بن قیس حرانی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الغَنِیہیں ۔ (بھجة الاسرار،ذکر فصول من کلامہ مرصعاًبشیء من عجائب،ص۱۲۴دار الکتب العلمية بیروت)
[4] یہ 95 صفحات پر مشتل رسالہ شیخ طریقت ،امیر اہل سنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ہی مایہ ناز تصنیف ہے ۔مکتبۃ المدینہ سے اسے ھدیۃً حاصل فرما کرمطالعہ کیجئے ۔(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع