30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرپاتا۔اہلِ علم ایسے شخص کی مثال اُس انسان سے دیتے ہیں جو بہت تیزی سے سفر کرتا ہے اور اُس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔اردو میں کہتے ہیں: ہر فن مولی ہر گُن ادھورا۔جیسے انگریزی میں بولا جاتا ہے: Jack of all trades master of none۔ لہٰذا ڈگری حاصل کرنے کے بعد جس علم وفن کی طرف طبیعت کا میلان اور قلب کا رجحان ہو اُ س میں مقدور بھر مزید محنت وکوشش کرکے تخصص کرلے، اِسی کا زیادہ فائدہ ہے۔ حافظ ابن عبدالبَر رحمۃُ اللہ علیہ امام ابوعبید قاسم بن سلام رحمۃُ اللہ علیہ کا قول نقل فرماتے ہیں: ” مَانَاظَرَنِیْ رَجُلٌ قَطُّ وَکَانَ مُفَنِّنًا فِی الْعُلُوْمِ اِلَّا غَلَبْتُہُ، وَلَانَاظَرَنِیْ رَجُلٌ ذُوْفَنٍّ وَاحِدٍ مِّنَ الْعُلُوْمِ اِلَّا غَلَبَنِیْ فِیْہِ یعنی میں نے جب بھی کئی علوم کے ماہر شخص سے مناظرہ کیا تو میں اُس پر غالب رہا اور جب میں نے کسی ایسے شخص سے مناظرہ کیا جو کسی ایک فن کا ماہر تھا تو وہ اُس میں مجھ پر غالب آگیا۔ (1) موجودہ حالات کے تناظر میں تجربہ شاہد ہے کہ فہم وذکاوت،طبعی قوت،حضور قلبی اور کامل یکسوئی سے بندہ زیادہ سے زیادہ دو تین علوم میں ہی مہارت حاصل کرپاتا ہے۔
تخصص کے فوائد وثمرات
کسی علم وفن میں تخصص کرنے والا عام فضلائے زمانہ اور اہل علم پر کئی لحاظ سے فوقیت رکھتا ہے، تخصص کے فوائد و ثمرات اُسے دوسروں سے ممتاز بناتے ہیں، اگر سچی لگن اور انتہائی محنت سے تخصص کرلیا جائے تو پھر متخصص متعلقہ علم و فن کی باریکیوں
[1] ()جامع بیان العلم،ص383،رقم:1020
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع