30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تخصص کی اہمیت وضرورت
اسلامی علوم اپنے اندر بڑی وسعت رکھتے ہیں، پہلے لوگ بڑے باہمت اور بلند حوصلوں کے مالک ہوا کرتے تھے، حافظے لاجواب اور صحتیں قابلِ رشک ہوا کرتی تھیں تو اُس دور مسعود میں بیک وقت کئی کئی علوم پر مہارتِ تامہ رکھنے والے کثیر علمائے کرام ہوا کرتے تھے مگر اب ہمتیں پست اور صلاحیتیں کمزوری کا شکار ہوگئیں تو دورِ حاضر کے تقاضوں کے پیشِ نظر علوم وفنون میں تخصص کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہوگئی ہے، لہٰذا اب درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد شائقینِ علم کسی ایک فن میں تخصص (Specialization) کرتے ہیں جیسے علم تفسیر میں مہارت کے لئے تَخَصُّص فِی التَفْسِیْر ، علوم حدیث میں کمال کے لئے تَخَصُّص فِی الْحَدِیْث ، علوم شرعیہ و فتویٰ نویسی میں مضبوطی کے لئے تَخَصُّص فی الْفِقْہ ، درسِ نظامی کی تدریس میں مہارت کے لئے تَخَصُّص فِی الْفُنُوْن ، کیا جاتا ہے۔ یہ تخصص دینی علوم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ دنیا بھر کی یونیورسٹیاں عصری علوم میں بھی اسپیشلائزیشن کروارہی ہیں، آج جنرل فزیشن سے آگے بڑھتے ہوئے ڈاکٹر بھی اسپیشلسٹ بن رہے ہیں۔
زمانۂ نبوی میں تخصص کی جھلک
تخصص کی جھلک ہمیں زمانۂ نبوی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم میں بھی نظر آتی ہے جیسا کہ اللہ پاک کے آخری نبی محمد عربی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اَعْلَمُھُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَاَفْرَضُھُمْ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَاَقْرَؤُھُمْ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ یعنی میرے صحابہ میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع