30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اطاعت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت ہے ایسے ہی عالمِ دین کی فرمانبرداری رسولُالله صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی فرمانبرداری ہے ۔ “ ([1])
سوال میں مذکور اعتراض میں بلاتخصیص (بِلا ۔ تَخْ ۔ صِیْص ۔ کسی کو خاص کئے بغیر) مُطلَقاً یہ بات کہی گئی ہے کہ مولویوں کو تو کفر کا فتوٰی دینے کے سواکوئی کام ہی نہیں…الخ، مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ خود یہ جملہ اِنتہائی سخت ہے ، اس میں عُلَمائے دین کی توہین کا پہلوواضح ہے بلکہ عُلَمائے دین کی توہین ہی مقصود ہو تو کُھلا کفر و اِرتِداد ہے ۔ رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ معظّم ہے : ”تین شخصوں کے حق کو ہلکا نہ جانے گا مگر مُنافِق کُھلا مُنافِق، ایک وہ جسے اسلام میں بُڑھاپا آیا ، دوسراعلم والا، تیسرا عادِل بادشاہ ۔ “([2])
عُلَمائے دین کی توہین سنگین جُرم ہے
میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف جلد 23 صفحہ649 پر عُلَمائے دین کی توہین کرنے سے مُتَعَلِّق فرماتے ہیں : ”سخت حرام، سخت گُناہ، اَشَدّ کبیرہ ۔ عالمِ دین سُنّی صحیح العقیدہ کہ لوگوں کو حق کی طرف بلائے اور حق بات بتائے محمّدٌرَّسولُاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا نائِب ہے ۔ اس کی تحقیر(توہین) مَعَاذَ اللہ محمّد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی توہین ہے اور محمّد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی جناب میں گستاخی مُوجِبِ لعنتِ الٰہی و عذابِ الیم ہے ۔ “ ([3])
شیطان لوگوں کو عالموں سے کیوں دُور کرتا ہے ؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیطان لوگوں کے دلوں سے علمائے دین کی وَقعت نکالنا چاہتا ہے تاکہ عُلَمائے کرام جب کسی بات کواللہ رَبُّ الْعِـزَّت عَزَّ وَجَلَّ اور مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی نا فرمانی و مَعصیَّت قرار دیں تو لوگ ان کی نصیحت پر کان نہ دھریں اور بے دھڑک شیطانی کاموں میں لگے رہیں ۔ واقعی بڑا نازک معاملہ ہے ، بد قسمتی سے آج ایمان کی سلامتی کی سوچ میں کمی اور زبان کی بے احتیاطیوں میں زیادَتی ہوتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں گستاخی، رسولُاللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکی شان میں بے ادَبی اور ضروریاتِ دین کے انکار پر مشتمل طرح طرح کے کفریات روز مرہ کی گفتگو میں بولے جاتے ہیں ۔ اور جب علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین کسی قول پر کوئی حکمِ شرعی بیان کریں تو مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّکہا جاتا ہے ” جناب ان کو جب دیکھو حکم لگانا آتا ہے ۔ “
یاد رکھئے ! جس طرح ہر ملک ، ہر ریاست کے کچھ قانون ہوتے ہیں جن کا مقصد جرائم کی روک تھام ہے یہی وجہ ہے کہ قانون شکنی ایک جرم شمار کیا جاتا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے پر سزا کا تعین ہوتا ہے ۔ اب اگر کوئی شخص قانون کے رکھوالے کسی ذمہ دار پر اعتراض کرتے ہوئے کہے کہ یہ تو جب دیکھو سزا سناتا رہتا ہے تو یقیناً ایسے شخص کو لوگ بے وقوف کہیں گے اور اس سے یہی کہیں گے کہ اس کو بُرا مت کہو ! بلکہ جرائم کے خلاف آواز اٹھاؤ کیونکہ سزا سُنانے میں اس ذمہ دار کا کوئی قصور نہیں ، جرائم ہوتے ہیں تو یہ فیصلے سناتا ہے اگر جرائم ہی ختم ہوجائیں تو سزا کے فیصلے بھی ختم ہوجائیں ۔ اسی طرح اسلام نے بھی اپنے ماننے والوں کی دُنیا و آخرت بہتر بنانے کے لئے کچھ اصول و قوانین مقرر فرمائے ہیں اور اس کے بھی کچھ محافظ و ذمہ دار ہیں جو کہ خلاف ورزی کرنے والوں پر حکمِ شرع صادر فرماتے ہیں ۔ اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس پر حکم لگنا بند ہوجائے تو وہ شریعت کی خلاف ورزی سے باز آجائے نہ کہ عُلَماء کو بُرا بھلا کہہ کر اپنی آخرت برباد کرے ۔
عُلَماء کے بغیر اسلام کا نظام نہیں چل سکتا
شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ”عُلَمائے اسلام کا کام تواللہ ربُّ الْاَنام عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول، شَہنشاہِ انبیائے کرام صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکے پیغام کو دُرست طریقے پرعام فرماناہے ، عُلَمائے دین تو شریعت کے قوانین کے محافظین ہیں ۔ عُلمائے کرام تو دینِ اسلام کے احکام کے مُطابِق ہی کسی چیز کو حلال یا حرام، کُفر یا اِسلام قرار دینے کے پابند ہیں ۔ اپنی طرف سے ہرگز کچھ نہیں کہتے ، یہی ان کا منصب ہے ۔ یقیناعُلَمائے دین ہی کی برکتوں، کوشِشوں، علمی کاوِشوں اور مُساعِیِ تبلیغ سے گلزارِ اسلام کی بہاریں ہیں ۔ عُلَمائے حق ہی کی بدولت گُلشنِ اسلام ہر ا بھرا لہلہارہا ہے ۔ اگرعُلَماء ہی مَعْدوم(یعنی ختم) ہوجائیں تو کُفّار کو اسلام کی دعوت کون دے گا؟ کُفّار کی طرف سے اٹھائے جانے والے اِعتِراضات کے مُسْـکِت (یعنی خاموش کر دینے والے ) جوابات کیسے دیئے جاسکیں گے ؟ عامۃُ المسلمین کو اَرکانِ اسلام کی تعلیم دینے کی ترکیب کیسے بنے گی؟انہیں قرآن و حدیث کے رُمُوز(یعنی بھیدوں) سے کون آشنا (واقِف) کرے گا؟“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بے نیازی اور اُس کی خفیہ تدبیر سے ہر مسلمان کو لرزاں و ترساں رہنا چاہئے ، نہ جانے کون سی مَعْصِیَّت (یعنی نافرمانی ) اللہ ربُّ العزّت کے قَہْر و غَضَب کو اُبھار دے اور ایمان کیلئے خطرہ پیدا ہوجائے ۔ بس ہر وقت اپنے رب تعالیٰ کے آگے عاجِزی کا مظاہرہ کرتے رہئے ۔ زَبان کو قابو میں رکھئے کہ زیادہ بولتے رہنے سے بھی بعض اوقات منہ سے کلماتِ کفر نکل جاتے ہیں اور پتا نہیں لگتا، ہر وَقت ایمان کی حفاظت کی فکر کرتے رہنا ضروری ہے ۔
اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰنا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کا ارشاد ہے : عُلمائے کرام فرماتے ہیں : ” جس کو سَلْبِِ ایمان کا خوف نہ ہو مرتے وَقت اُس کا ایمان سَلْب ہوجانے کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع