30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال: مسجد مىں کنگھى کرنا کىسا ہے؟
جواب: مسجد مىں کنگھى کرنے سے بچنا ہو گا کىونکہ اِس سے مسجد مىں بال جھڑىں گے، البتہ اگر کوئى اِحتىاط سے کنگھی کرتا ہے مثلاً چادر بچھا کر کرتا ہے تاکہ بال گریں تو چادر پر گریں تو اِس طرح کنگھی کرنا جائز ہے۔ مسجد میں کنگھی کرنے سے منع ہى کرنا چاہىے ورنہ اِعتکاف مىں اگر معتکفین سب جگہ کنگھیاں کرنا شروع کر دیں گے تو چونکہ سب کو اِحتیاط کرنا آتی نہیں ہے اِس لیے بال گِراتے رہیں گے حالانکہ مسجد کو صاف سُتھرا رکھنے کا حکم ہے۔
اللہ پاک کا دِیدار کس طرح ہو گا؟
سُوال: لوگ کہتے ہىں کہ جب اللہپاک کو دُنىا مىں نہىں دىکھ سکتے تو قىامت مىں کس طرح دىکھىں گے ؟
جواب: جنَّت کو بھى تو ہم نے دُنىا مىں نہىں دىکھا اور اِس کے عِلاوہ بھی بہت کچھ نہىں دىکھا مگر ہم اِىمان لاتے ہىں تو جب اللہ پاک چاہے گا ہم جنَّت مىں ضَرور جائىں گے، اللہ پاک کى عطا سے محبوب صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَ سَلَّم کے صَدقے جب ہم جنَّت مىں جائىں گے تو وہاں سب سے بڑى نعمت اللہ پاک کا دِىدار ہے۔ ([1]) وہ بھی اللہ پاک کے کَرم سے عطا ہو گا اور جىسے اللہ پاک چاہے گا ہم وىسے اس کا دِىدار کرىں گے۔ اِس بارے مىں عقل کے گھوڑے دوڑانے کى ضَرورت ہى کىا ہے۔ (اِس موقع پر مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے اِرشاد فرمایا: ) جنَّت میں داخلے سے پہلے جب قىامت کا دِن ہوگا تو اُس دِن بھى مومنوں کو اللہپاک کا دِىدار ہو گا۔ ([2])جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے: (وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ نَّاضِرَةٌۙ(۲۲) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌۚ(۲۳)) (پ۲۹، القیٰمة : ۲۲-۲۳) ترجمۂ کنز الایمان: ”کچھ مُنھ اُس دِن تروتازہ ہوں گے اپنے رَبّ کو دیکھتے ۔ “اِسی طرح جنَّت میں داخلے کے بعد بھی مختلف دَرجات کے اِعتبار سے اللہ پاک کا دِىدار ہو گا ۔ ([3])
بارش کے وقت پڑھا جانے والا دُرُودِ پاک
سُوال: آج کل(جمادی الاخریٰ ۱۴۴۰ھ بمطابق مارچ 2019) پنجاب مىں بارشوں کا سلسلہ ہےلہٰذا بارش کے وقت پڑھا جانے والا دُرُود ِپاک بتادىجئے۔
جواب: بارش کے تعلق سے جو دُرُودِ پاک مشہور ہے وہ حقىقتاً بارش کا نہىں ہے۔ ”اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ قَطَرَاتِ الْاَمْطَارِ یعنی اے اللہ!ہمارے سردار حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پر اِتنے دُرُود بھىج جتنے بارش کے قطرے ہىں ۔ “ہمارے ىہاں ىہ غَلَط فہمى ہے کہ لوگ سمجھتے ہىں کہ یہ دُرُودِ پاک بارش کے وقت پڑھنا ہےحالانکہ دُرُست یہ ہے کہ ہم جب چاہىں پڑھ سکتے ہىں۔ بارش مىں یہ دُرُودِ پاک خُصوصی طور پر ىاد آ جاتا ہے تو بارش مىں بھى پڑھنے مىں کوئی حرج نہىں ہے۔
کیچڑ اور بارش کے چھینٹوں والے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا حکم
سُوال: آج کل بارش کا موسم ہے اور کپڑوں پر کیچڑ اور بارش کے چھىنٹے پڑ جاتے ہىں تو ایسے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب: بارش کا پانی بابرکت ہےکہ اسے قرآنِ پاک میں (مَآءً مُّبٰرَكًا) (پ۲۶، ق: ۹)(یعنی بَرکت والا پانی )کہا گىا ہے تو یوں بارش کا پانی بَرکت والا اور پاک ہے۔ راستے کى کیچڑ چاہے بارش کی وجہ سے ہو ىا کسى اور ذَرىعے سے اسے ناپاک نہیں کہا جا سکتا وہ پاک ہوتی ہے([4])جب تک نجاست کا ہو نا معلوم نہ ہو۔ البتہ اگر کپڑوں پر کیچڑ کے بہت سارے چھىنٹے پڑے ہوئے ہوں تو مسجد مىں نہیں جانا چاہىے کیونکہ اِس سے دىکھنے والوں کو گِھن آئے گی لہٰذا کپڑے تبدىل کر لىے جائىں۔ اگر بارش میں اِحتیاط سے چلا جائے تو چھىنٹے نہىں اُڑتے ورنہ جو لوگ ہوائی چپل پہن کر پچ پچ کر کے لا پَروائى سے چلتے ہىں وہ خود بھى اپنے پىچھے چھىنٹے اُڑا رہے ہوتے ہىں اور اپنے اَطراف والوں کو بھی چھینٹوں سے نواز رہے ہوتے ہىں ۔ محتاط آدمی اگر بارش میں سنبھل کر چلے گا اور اپنا پورا پاؤں جما کر رکھے گا تاکہ چپل کا پچھلا حصہ بار بار اُٹھ کر پانى نہ اُڑائے تو چھىنٹے نہىں اُڑىں گے یا پھر کم سے کم اُڑىں گے۔ بہرحال جب تک نجاست کا ہو نا معلوم نہ ہو راستے کی کیچڑ پاک ہے اور اِس حالت میں جو نماز پڑھى وہ ہو جائے گى اور اگر جنازہ پڑھا وہ بھى ہو جائے گا۔ دعوتِ اسلامی کے سُنَّتوں بھرے اِجتماعات ہمارے ىہاں عام طور پر چونکہ مَساجد مىں ہوتے ہىں اورعوام ہوتی ہے اور جہاں عوام اکٹھى ہو وہاں اِس طرح کی حالت میں کہ کپڑوں سے بَدبو بھى آرہى ہو اور چھینٹے دوسروں کے کپڑوں پر لگ رہے ہوں نہ جاىا جائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع