30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سُوال: اگر کسى شخص نے شراب پى لی اور 40 دِن ابھی نہیں گزرے تھے کہ اس کا نکاح کروایا گیا، کیا نکاح ہو جائے گا؟
جواب: شراب بڑى خراب ہے۔ اِس کا تو اىک قطرہ بھى پىنا حرام اور جہنم مىں لے جانے والا کام ہے۔ شراب پینے والا سخت گناہ گار ہے اور اِس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور آئند ہ نہ پىنے کا عہد کرے، البتہ نکاح کا اس سے کوئى تعلق نہىں ہے لہٰذا شراب پىنے والے کا نکاح بھی ہو جائے گا۔
سُوال: کىا پاکى اِىمان کا حصہ ہے اور ىہ اِىمان کا حصہ کىسے ہے؟
جواب: فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے: اَلطُّہُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَان ىعنى پاکى آدھا اِىمان ہے۔ ([1])اِس حدىثِ پاک کى شرح میں امام نووی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہىں: پاکى آدھا اِىمان ہے، اِس کا اىک معنىٰ ىہ ہے کہ پاکى کا اَجر بڑھ کر آدھے اِىمان تک پہنچ جاتا ہے۔ دوسرا معنىٰ ىہ ہے کہ جس طرح اِىمان لانے سے پچھلے تمام گناہ مِٹ جاتے ہىں اِسى طرح وُضو سے بھى مسلمان کے پچھلے گناہ مِٹا دىئے جاتے ہىں، چونکہ اِىمان کے بغىر وُضو نہىں ہوتا اِس لىے فرماىا کہ طہارت ىعنى پاکى آدھا اِىمان ہے۔ ([2])
”فرشتوں سے غلطی ہو سکتی ہے “کہنا کیسا؟
سُوال: کىا فرشتوں سے غَلَطى ہو سکتى ہىں ؟ بعض لوگ کہتے ہىں کہ کبھى کبھى فرشتوں سے بھى غَلَطى ہو جاتى ہے ، اىسا کہنا کىسا؟
جواب: فرشتے مَعصوم اور گناہوں سے بالکل پاک ہىں۔ ([3])جو کام ان کو اللہ پاک نے سونپا اس مىں ىہ غَلَطى نہىں کرتے اور اسے برابر بجا لاتے ہىں۔ ([4])
سرکار عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سیرتِ طیبہ کے متعلق چند مَدَنی پُھول
سُوال: حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى سىرتِ طىبہ کے متعلق چند مَدَنى پھول اِرشاد فرما دىجئے۔
جواب: پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى سىرتِ طىبہ کے متعلق چند مَدَنى پھول حاضِر ہىں: (1) ہمارے پىارے آقا، مکى مَدَنى مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى عاجزى و اِنکسارى اىسى تھى کہ اپنے مُبارَک نعلىن خود گانٹھ لىتے ىعنى ضَرورت پڑنے پر اپنی مُبارَک جوتىاں خود سى لىتے تھے ۔ ([5])(2) آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنے مُبارَک کپڑوں مىں پیوند بھی خود لگا لىا کرتے تھے ۔ ([6])(3) اِسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم گھر کے کام کاج مىں مدد فرماتے اور اپنى اَزواجِ مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُنَّ کے ساتھ گوشت کے ٹکڑے کر لىا کرتے تھے۔ ([7])(4)حضور رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اِنتہائى بھوک کى وجہ سے اپنے مُبارَک پىٹ پر پتھر باندھ لىا کرتے تھے ([8])اور جو کچھ موجود ہوتا تناول فرما لىتے ىعنى کھا لىتے اور حلال وپاکىزہ اَشیاء کھانے سے اِجتناب نہ فرماتے ىعنى انہیں کھا لىتے اور اگر روٹى نہ ہوتی تو صِرف کھجور ہی کو پاتے تو وہى تناول فرما لىتے تھے۔ پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے لگاتار تىن دِن سىر ہو کر گندم کى روٹى نہىں کھائى ىہاں تک کہ اللہ پاک سے جا ملے ىعنى آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى وفات شرىف ہوئى ۔ ([9]) یاد رَکھیے! آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ىہ عمل فخر اور بخل کى وجہ سے نہ تھا بلکہ دوسروں کو خود پر ترجىح دىنے اور اِىثار کے لىے تھا۔ ([10])
گھر تبدیل کرنے کی صورت میں رُوحیں کہاں آئیں گی؟
سُوال: سُنا ہے رُوحىں گھر پر آتى ہىں تو اگر گھر تبدىل کر لىا جائے تو پھر رُوحىں کہاں آئىں گى؟
جواب: جہاں آپ رہتے ہىں وہ گھر رُوحوں کو مِل جاتا ہے تو دوسرا گھر بھى مِل جائے گا کیونکہ اللہ پاک دِکھانے والا ہے۔
[1] مسلم، کتاب الطھارة، باب فضل الطھور، ص۱۱۵، حدیث: ۵۳۴ دار الکتاب العربی بیروت
[2] شرح مسلم للنووی، کتاب الطھارة، باب فضل الوضوء، الجزء: ۳ ، ۲/ ۱۰۰ دار الکتب العلمیة بیروت
[3] تفسیر کبیر، پ۱، البقرة، تحت الآیة: ۳۰، ۱/ ۳۸۹ دار احیاء التراث العربی بیروت
[4] اِسی طرح کے ایک سُوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں: یہ (کہنا کہ فرشتوں سے غلطی ہو سکتی ہے)محض غَلَط ہے، اللہ کے فرشتے اس کے حکم میں غَلَطی نہیں کرتے۔ قَالَ اﷲُ تَعَالٰی(اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا: ) ( وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(۶)) (پ۲۸، التحریم: ۶) ترجمۂ کنز الایمان: اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۹/ ۶۵۹)
[5] احیاء العلوم، کتاب آداب المعيشة واخلاق النبوة، ۲/ ۴۴۲-احیاء العلوم(مترجم)، ۲/ ۱۲۶۹
[6] احیاء العلوم، کتاب آداب المعيشة واخلاق النبوة، ۲/ ۴۴۲-$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع