30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں مَدَنی ماحول قائم ہو گا ۔
(اللّٰھمّٰ) رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴) (پ ۱۹، الفرقان ۷۴)
ترجمہ کنز الایمان ۔ اے ہمارے ربّ ہمیں دے ہماری بیبیوں اور ہماری اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا۔
(۱۴)نافرمان بچّہ یا بڑا جب سویا ہوتواس کے سرہانے کھڑے ہو کر ذیل میں دی ہوئی آیات صرف ایک بار اتنی آواز سے پڑھیں کہ اس کی آنکھ نہ کھلے۔ (مدّت۱۱تا۲۱دن)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌۙ(۲۱) فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ۠(۲۲) (بلکہ وہ کمال شرف والا قرآنہے لوح محفوظ میں (البروج : ۲۱، ۲۲)(اوّل، آخر، ایک مرتبہ درود شریف)
(۱۵) نیز نافرمان اولاد کو فرماں بردار بنانے کے لیے تاحصولِ مراد نمازِ فجر کے بعد آسمان کی طرف رخ کر کے’ ’ یَاشَھِیْدُ‘‘ ۲۱ بار پڑھیں (اوّل وآخر، ایک بار درود شریف)۔
مدنی التجا : نافرمانوں کو فرماں بردار بنانے کے لیے اَور اد شروع کرنے سے قبل سیدنا امام احمد رضا خان علیہ رحمۃالرحمٰن کے ایصال ثواب کے لیے ۲۵ روپے کی دینی کتابیں تقسیم کر دیں ۔
کچھ بھائی ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی توبہ کی راہ میں مذکورہ رکاوٹوں میں سے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی یہ سوچ کر توبہ سے محروم رہتے ہیں کہ توبہ کرنے کے بعد جب میرا اندازِ زندگی تبدیل ہوگا مثلاً پہلے میں نمازیں قضا کردیا کرتا تھا مگر بعد ِ توبہ پانچ وقت مسجد کا رخ کرتے دکھائی دوں گا ، پہلے میں شیوڈ تھا بعد ِ توبہ میرے چہرے پر سنت مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یعنی داڑھی شریف سجی ہوئی نظر آئے گی ، پہلے میں خلاف ِ سنت لباس زیب ِ تن کرتا تھا مگر بعد ِ توبہ میرے بدن پر سنت کے مطابق لباس دکھائی دے گا ، علی ھذالقیاس ، … تو لوگ مجھے عجیب نگاہوں سے دیکھیں گے اور مجھے شرم محسوس ہوگی ۔
اس کا حل :
اس قسم کے’’ شرمیلے بھائیوں ‘‘ کی خدمت میں عرض ہے کہ یقینا یقینا یہ بھی شیطانی وسوسہ ہے ۔ ذرا سوچئے تو سہی کہ آج ان لوگوں کی پرواہ کرتے ہوئے اگر آپ نیکی کے راستے پر چلنے سے کتراتے رہے اور سنّتوں سے منہ موڑتے رہے لیکن کل جب قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے اپنا نامۂ اعمال پڑھ کر سنانا پڑے گااور اگر اس میں گناہ ہی گناہ ہوئے تو کس قدر شرم آئے گی ۔ لہذا! آخرت میں شرمندہ ہونے سے بچنے کے لئے دنیاکی عارضی شرم وجھجھک کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فوراً توبہ کی سعادت حاصل کرلینی چاہئیے ۔ اللہ تَعَالٰی ہمارا حامی وناصر ہو ۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ(یعنی اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں توبہ کرو) اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ (میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
یاد رکھئے کہ ٹھنڈی آہیں بھرنے ۔۔یا ۔۔اپنے گالوں پر چپت مارنے ۔۔یا۔۔ اپنے ناک اورکانوں کو ہاتھ لگانے ۔۔یا۔۔اپنی زبان دانتوں تلے دبالینے ۔۔یا۔۔سر ہلاتے ہوئے ’’توبہ، توبہ، توبہ ‘‘کی گردان کرنے کا نام توبہ نہیں ہے بلکہ سچی توبہ سے مراد یہ ہے کہ بندہ کسی گناہ کو اللہ تَعَالٰی کی نافرمانی جان کر اس پر نادِم ہوتے ہوئے رب عَزَّ وَجَلَّ سے معافی طلب کرے اور آئندہ کے لئے اس گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ کرتے ہوئے ، اس گناہ کے ازالہ کے لئے کوشش کرے، یعنی نماز قضا کی تھی تو اب ادا بھی کرے ، چوری کی تھی یا رشوت لی تھی تو بعد ِ توبہ وہ مال اصل مالک یا اس کے ورثاء کو واپس کرے یا معاف کروا لے اور ان دونوں (یعنی اصل مالک یا ورثائ)کے نہ ملنے کی صورت میں اصل مالک کی طرف سے راہِ خدا میں صدقہ کر دے۔علی ھذا القیاس (ماخوذ ازفتاویٰ رضویہ، جلد ۱۰، نصف اول ، ص۹۷)
پیارے اسلامی بھائیو!
حضرت سیدنا ابن عباسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن کئی توبہ کرنے والے ایسے ہوں گے جن کو گمان ہو گا کہ وہ توبہ کرنے والے ہیں ، حالانکہ وہ توبہ کرنے والے نہیں ہیں ۔یعنی توبہ کا طریقہ اختیا ر نہیں کیا ، ندامت نہیں ہوئی ، گناہوں سے رک جانے کا عزم نہیں کیا ، جن پر ظلم کیا ہے ان سے معاف نہیں کرایا اور نہ ان کو حق دیا بشرطیکہ ممکن تھا ، البتہ !جس نے کوشش کی اور ناکامی کی صورت میں اہل حقوق کے لیے استغفار کیا، تو امید ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اہل حقوق کو راضی کر کے اسے چھڑا لے گا۔‘‘(مکاشفۃ القلوب ، الباب السابع عشر فی بیان الامانۃ والتو بۃ ، ص ۶۲)
شرح فقہ اکبر میں ہے : ’’مشائخ عظام نے فرمایا کہ تو بہ کے تین ارکان ہیں ۔ (۱)ماضی پرندامت۔(۲)حال میں اس گناہ کو چھوڑ دینا۔(۳)اور مستقبل میں اس کی طرف نہ لوٹنے کا پختہ ارادہ ۔یہ شرائط اس وقت ہوں گی کہ جب یہ توبہ ایسے گناہوں سے ہو کہ جو توبہ کرنے والے اور اللہ تَعَالٰی کے درمیان ہوں جیسے شراب پینا۔ اور اگر اللہ تَعَالٰی کے حقوق کی ادائیگی میں کمی پر توبہ کی ہے جیسے نماز، روزے اور زکوۃ تو ان کی توبہ یہ ہے کہ اولاًان میں کمی پر نادم وشرمندہ ہو پھر اس بات کا پکا ارادہ کرے کہ آئندہ انہیں فوت نہ کرے گا اگرچہ نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرنے کے ساتھ ہوپھر تمام فوت شدہ کو قضا کرے۔اور اگر توبہ ان گناہوں پر تھی کہ جن کا تعلق بندوں سے ہے ، پس اگر وہ توبہ مظالم اموال سے تھی تو یہ توبہ ان چیزوں کے ساتھ ساتھ کہ جن کو ہم حقوق اللہ میں پہلے بیان کر چکے ہیں ، مال کی ذمہ داری سے نکلنے اور مظلوم کو راضی کرنے پر موقوف ہو گی ، اس صورت کے ساتھ کہ یا تو ان سے اس مال کو حلال کرو الے (یعنی معاف کروا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع