30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ(یعنی اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں توبہ کرو) اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ (میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
بعض بھائیوں کا اٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تجھے بھی لے ڈوبیں گے ‘‘کے مصداق ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ایسے لوگ نہ خودگناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے دوستوں میں سے کسی کو توبہ کی طرف مائل ہونے دیتے ہیں ۔ بلکہ اگر کوئی ان کی ’’محفل‘‘سے غیرحاضری کرکے کسی دینی محفل میں شرکت کے لئے چلا جائے اور دوسرے دن انہیں نیکی کی دعوت پیش کرے تو اس کا خوب مذاق اڑاتے ہیں ۔
اس کا حل :
پیارے اسلامی بھائیو!ہر صحبت اپنا اثر رکھتی ہے ، پیارے آقا ، مکی مدنی سلطان، رحمت عالمیان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا، ’’اچھے اور برے مصاحب کی مثال ، مشک اٹھانے والے اور بھٹی جھونکنے والے کی طرح ہے ، کستوری اٹھانے والا تمہیں تحفہ دے گا یا تم اس سے خریدو گے یا تمہیں اس سے عمدہ خوشبو آئے گی ، جبکہ بھٹی جھونکنے والا یا تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں اس سے ناگوار بو آئے گی ۔‘‘ (صحیح مسلم، کتاب البرو الصلۃ والآ داب ، باب استجاب مجالسۃ الصالحین ۔۔الخ ، رقم ۲۶۲۸ ، ص ۱۴۱۴)
اس لئے ہمت کر کے پہلی فرصت میں بری صحبت سے اجتناب کریں کہ اگرہم ایسے افراد کی صحبت اختیار کئے رہیں گے جو ارتکاب ِ گناہ میں کسی قسم کی شرم محسوس نہ کریں اور ان کا مطمع ِنظرصرف دنیا ہو تو سچی توبہ کا نصیب ہونا محض ایک خواب ہے ۔ لہذا! نیک صحبت اختیار کریں کہ جب ہمیں ایسے اسلامی بھائیوں کی صحبت میسر آئے گی جو اپنے ہرفعل میں اللہ تَعَالٰی کی گرفت کا خیال رکھنے والے ہوں اور عذاب ِجہنم کے خوف کی وجہ سے ارتکابِ گناہ سے بچتے ہوں تو ہمارے اندر بھی اِن عمدہ اوصاف کا ظہور ہونا شروع ہوجائے گا ۔ پھر ہم بھی جلوت وخلوت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنے والے بن جائیں گے اور یہ خوف ِ خدا عَزَّ وَجَلَّ ہمیں سابقہ زندگی میں کئے ہوئے گناہوں پر توبہ کرنے کی طرف مائل کرے گا ۔اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ(یعنی اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں توبہ کرو) اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ (میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
اپنے بارے میں خوش فہمی کا شکار ہونا
بعض بھائی اس خوش فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ ہم بہت پہلے توبہ کی سعادت حاصل کر چکے ہیں ، لہذا! ہمیں توبہ کی حاجت نہیں ۔
اس کا حل :
ایسے بھائیوں کو چاہیے کہ آئندہ صفحات میں دی گئی توبہ کی شرائط کو پڑھیں اور اپنا محاسبہ کریں کہ کیا واقعی ہم سچی توبہ کرچکے ہیں اور کیا بعد ِ توبہ ہم سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا ۔ امید ہے کہ اس محاسبے کے بعد مذکورہ اسلامی بھائی اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے توبہ کی سعادت حاصل کر لیں گے ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ
تُوْبُوْا اِلَی اللّٰہِ(یعنی اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں توبہ کرو) اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ (میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔)
بعض بھائی توبہ پر آمادہ ہونے اور بظاہر کوئی رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود توبہ سے محروم رہتے ہیں ۔ اس کی بڑی اور خفیہ وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی دنیاوی حور کی ’’نام نہاد پاکیزہ محبت ‘‘میں مبتلاء ہوچکے ہوتے ہیں ، لہذا! انہیں اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ توبہ کرنے اور مدنی ماحول اپنانے کے بعد انہیں اپنی من پسند شے سے ہاتھ دھونے پڑیں گے ، چنانچہ وہ توبہ کی خواہش کے باوجود توبہ نہیں کر پاتے ۔
اس کا حل :
اس قسم کی آزمائش میں مبتلاء بھائیوں کو چاہیے کہ وہ وقتی لذّت کی بجائے اس کے نقصانات مثلاً مال، وقت اورصحت کی بربادی ، خاندان کی بدنامی ، نیکیوں سے محرومی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ناراضگی وغیرھا پر نگاہ فرمائیں اور ایسے اعمال اختیار کریں جس سے دنیا میں بھی عافیت نصیب ہو اور آخرت میں کامیابی ملے ۔ اس آفت سے چھٹکارے کے لئے اپنے ضمیر سے یہ سوال کریں کہ جو جذبات میں کسی کی بہن یا بیٹی کے بارے میں رکھتا ہوں ، اگر کوئی دوسرا میری بہن یا بیٹی کے بارے میں بھی ایسے خیالات رکھتا ہو تو کیا مجھے یہ گوارہ ہوگا ؟ اس ضمن میں درجِ ذیل حدیث پاک ملاحظہ فرمائیں :
ایک نوجوان رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوااور عرض کرنے لگا ، ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ !مجھے زناء کی اجازت دیجئے۔‘‘یہ سنتے ہی تمام صحابۂ کرام ر ضی اللہ عنھم جلال میں آ گئے اور اسے مارنا چاہا۔رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ’’ اسے نہ مارو۔‘‘پھر اسے اپنے پاس بلا کر بٹھایا اور نہایت نرمی اور شفقت کے ساتھ سوال کیا، ’’اے نوجوان!کیا تجھے پسند ہے کہ کوئی تیری ماں سے ایسا فعل کرے؟‘‘اس نے عرض کی ، ’’میں اس کو کیسے روا رکھ سکتا ہوں ؟‘‘آپ نے ارشاد فرمایا، ’’تو پھر دوسرے لوگ تیرے بارے میں اسے کیسے روا رکھ سکتے ہیں ؟‘‘پھر آپ نے دریافت فرمایا، ’’تیری بیٹی سے اگر اس طرح کیا جائے تو تو اسے پسند کرے گا؟‘‘عرض کی نہیں ۔‘‘فرمایا، ’’اگر تیری بہن سے کوئی ایسی ناشائستہ حرکت کرے تو ؟‘‘اور اگر تیری خالہ سے کرے تو؟اسی طرح آپ نے ایک ایک رشتے کے بارے میں سوال فرمایا، اور وہ یہی کہتا رہا کہ مجھے پسند نہیں اور لوگ بھی رضا مند نہیں ۔تب رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اللہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں عرض کی ، ’’یا الہی عَزَّ وَجَلَّ !اس کے دل کو پاک کر دے ، اس کی شرمگاہ کو بچا لے اور اس کا گناہ بخش دے۔‘‘اس کے بعد وہ نوجوان تمام عمر زناء سے بے زار رہا۔(المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث ابی امامۃ الباھلی ، رقم ۲۲۲۷۴، ج ۸ ، ص ۲۸۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع